fbpx

جہانگیر ترین ،،گھبرانا نہیں انجینئر افتخار چودھری میدان میں آگئے ؟

اسلام آباد: پی ٹی آئی کے سینئیر رہنماو کالم نگارانجینئر افتخار چودھری نے اپنے ایک تفصیلی کالم میں لکھا کے سیاسی پارٹیوں میں گروپنگ کوئی نئی بات نہیں ہے اور اس پر بات کرنا بھی کوئی جرم نہیں آج نون لیگ کا کیا حال ہے مریم شہباز شریف اور اسمبلی میں شاہد خاقان اور سعد رفیق جمعیت العلمائے اسلام میں بھی یہی حال ہے افراد جہاں ہوتے ہیں وہاں ٹکرائو ہو ہی جاتا ہے پی ٹی آئی میں بھی ایسا تھا اور ہے کیا اس سے قبل گروہ بندی نہیں تھی لوگ اپنی اہنی سوچ رکھتے ہیں اور یہی انسانی خصلت ہے اگر کوئی یہ سمجھے کہ ہی ٹی آئی میں لوگ ایکںہیںسوچ اور ایک ہی طریقہ کار رکھتے ہیں تو وہ بھائی غلط سوچ رہا ہے ایک گھر میں ایک دوسرے سے مختلف سوچا جاتا ہے آج جناب جہانگیر ترین کی پریس کانفرنس سنی سوچا اس پر طبع آزمائی کی جائے جناب جہانگیر ترین صاحب آپ نے مشکل وقت میں عمران خان کا ساتھ دیا اور ساتھ اب بھی چھوڑنا نہیں،افتخار چوہدری گجر
۔
پارٹی کا ہر کارکن آپ کی خدمات کو بھولا نہیں ۔کون بھلا سکتا ہے آپکی محنت اور کوشش کو۔ چند بد نیت آپ کے خلاف سازش کر رہے ہیں وہ در اصل خود توآپ کا مقابلہ نہیں کر سکتے وہ آپ اور عمران خان میں دوریاں پیدا کر رہے ہیں در اصل وہ کسی کے ایجینڈے کو انجانے میں پورا کر رہے ہیں ۔آپ کی پریس ٹاک سنی دلی دکھ ہوا آپ پر یک طرفہ زیادتی ہے میری رائے ہے آپ عمران خان سے ملیں دونوں دوست بیٹھ کر بات کریں
چینی اسکینڈل میں آپ آئے ہمیں اس بات کا دکھ ہوا لیکن آپ اکیلے نہیں اسی فی صد اور لوگ ہیں ۔یہاں یہ بات کہہ دوں آپ اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہ کریں وزیر اعظم عمران خان سے ملنا ضروری ہے یاد رکھئے پوری پارٹی دکھی ہے خوش توسازشی لوگ ہیں جو پیچھے سے وار کرنے والے جو آج تک پارٹی کا نام استعمال کر کے آگے بڑھے ۔چینی اسکینڈل کچھ بھی ہو سکتا ہے بہت بڑا ہو لیکن ہم پی ٹی آئی کے لوگوں کے لئے یہ صدمہ اس سے بڑا ہے کہ آپ کے راستے پارٹی سے جدا کئے جا رہے ہیں اور آپ الگ ہو رہے ہیں مجھے علم ہے فوزیہ قصوری اور جاوید ہاشمی کے ساتھ کیا ہوا ایڈ مرل جاوید اقبال کیوں الگ ہوئے کاش کوئی دلوں کو جوڑنے والا کوئی آج عمران خان کے دائیں بائیں بیٹھا ہوتا آج تو میں کچھ نہیں لیکن جب تھا تو دلوں کو جوڑتا رہا دو بڑے لیڈر پارٹی سے نکالے جا چکے تھے جنہیں عمران خان سے کہہ کر دوبارہ اچھے عہدوں ہر جگہ دلوائی ۔
کان بھرنے والے لوگ اپنا راستہ صاف کر کے وقتی طور پر کامیابی تو حاصل کر سکتے ہیں لیکن تا دیر کھوٹے سکے نہیں چلتے اس پارٹی میں ایک عرصے سے دیکھ رہا ہوں لوگ ذاتی فوائد سمیٹ رہے ہیں گروپنگ کرتے ہیں لوگوں کو آپس میں لڑاتے ہیں باقائدہ کیمپ بنتا ہے متوازی تنظیمیں کھڑی کی جاتی ہیں اور جب اوپر سے سختی کی جاتی ہے تو صلح ہو جاتی ہے بعد میں غالب گروہ دب جانے والوں سے ایک ایک کر کے بدلہ لیتا ہے
جہانگیر ترین صاحب نام بدلتے رہتے ہیں لیکن سازشیں جاری رہتی ہیں ۔محلاتی سازشیں اسے ہی کہتے ہیں ۔سب عمران خان کو لیڈر مانتے ہیں لیکن لیڈر کی کوئی ایک بھی نہیں سنتا ۔
دل ہر ہاتھ رکھ کر سوچیں ہم عمران خان کے نام۔کے بغیر شائد کسی ایک آدھ جگہ سے کونسلر بن جائیں لیکن اکثر کے گھروں میں کبھی کوئی بڑا لیڈر بی ڈی ممبر بھی نہیں بن سکا اور وہ لوگوں کی قسمت سے کھیلتے ہیں ۔ہارٹی میں شخصیت پرستی عروج پر ہے شائد 2018 میں کوئی آپ سے بھی غلطیاں ہوئیں حقدار کو حق نہ مل سکا اور حقیقی ورکر رل گیا آج لوگ پارٹی چھوڑ رہے ہیں کوئی کسی کو پوچھتا بھی نہیں جاتا ہے تو جائے اس لئے کہ نقصان عمران خان کا ہونا ہے ہوتا رہے ۔میرا آپ کو مشورہ ہے اپنی طاقت کا مظاہرہ نہ کریں سب کو علم ہے کہ 2018 میں یہ لوگ آپ کی وجہ سے ٹکٹ لینے میں کامیاب ہوئے تھے یہ آپ کے احسان مند ہیں ابھی تو بہت سارے اور ہیں جو آپ کے ممنون ہیں لیکن ایک بات یاد رکھئے ٹکٹ تو آپ نے وفاداروں کو دے دئیےلیکن ووٹ عمران خان کا تھا سچ پوچھئیے ووٹ نہ آپ کا ہے نہ کسی اور کا آپ سب عمران خان کے ساتھی ہی اچھے لگتے ہیں ۔ہو سکتا ہے آپ کی طاقت پنجاب اسمبلی میں کچھ ہل چل کر سکے مگر یہ ہل چل آپ کو نقصان دے گی ۔ہزار کمزوریوں اور خرابیوں کے باوجود عمران خان اب بھی پاکستانی عوام کا نجات دہندہ مانا جاتا ہے اس لئے کہ اس کی نیت ٹھیک ہے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ عمران خان کو بلیک میل کیا جاسکتا ہے تو نا ممکن ۔میں عمران کو جانتا ہوں اقتتدار سے محبت اس کے خون میں شامل ہی نہیں وہ اس چغے کو اتار پھینک سکتا ہے اسے اس کی پرواہ نہیں
میں جہانگیر ترین صاحب آپ کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر شدید احتجاج تو کروں گا مگر عمران کے ساتھ رہتے ہوئے آپ بھی نظر دوڑائیں کیا ان دوستوں کو وزارتیں ملی ہوتیں تو کیا یہ آپ کے ساتھ ہوتے ۔یہ بھی ذہن میں رکھئیے کوئی اور بھی آپ کو استعمال کر سکتا ہے ۔سیاست میں فیصلے ٹھنڈے دل سے کیجئے اسوقت جنوبی پنجاب میں جو تاریخی کام ہورہے ہیں وہ بھی ند نظر رکھیں تین سال پہلے وہاں محرومیوں کا راج تھا تھا آج بزدار بھی ایک طاقت ہے

آپ نے ،،گھبرانا نہیں،، دل جمعی سے عمران کے ساتھ کھڑے رہنا ہے اور اس مشکل سے نکلنا ہے باقی عمران خان کواپنے دیرینہ دوستوں کا خیال رکھنا چاہئے،انجینئر افتخار چودھری گجر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.