fbpx

جہیز ایک بوجھ۔۔ تحریر: نورالعین

"بھائی صاحب یہ جہیز کی لسٹ نوٹ کر لیں۔۔”
یہ ایسے الفاظ تھے جو بوڑھے باپ کی آنکھوں میں آنسو لے آئے اس کے جھکے ہوئے کندھے مزید جھک گئے اس نے ایک نظر لسٹ کی طرف دیکھا اور ایک نظر سے اپنی بدقسمت بیٹی کی طرف دیکھا جس کی رخصتی کو جہیز کے ٹرک کے ساتھ مشروط کر دیا گیا تھا۔۔
آپ کو کیا لگتا ہے آسان ہوتا ہے اپنی بیٹی کو انگلی پکڑ کے چلانے سے اس کی شادی تک کا سفر۔۔؟
لیکن باپ اپنی بیٹی کے لئے خود کو بیچنے کے لئے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔وہ وہ چیزیں بھی اپنی بیٹیوں کو جہیز میں دیتے ہیں جو خود ان کے گھر میں نہیں ہوتی۔۔
جب میں چھوٹی تھی تب بھی محلے یا خاندان میں شادی کا نام سنتی تھی تو ساتھ لازمی یہ بات بھی سنائی دیتی تھی کہ فلاں کی بہو اتنا جہیز لائی۔
تب بھی میں سوچتی تھی کہ باپ ساری عمر کی کمائی اپنی اولاد پر لگانے کے بعد بھی اپنے فرض سے فارغ نہیں ہو پاتا وہ نا صرف اپنی بیٹی کو جہیز کے بھرے ٹرک دیتا ہے بلکہ شادی کے بعد بھی سسرالیوں کے مطالبات کم نہیں ہوتے، پھر اپنی بیٹی کا گھر بچانے کے لئے اس بوڑھے باپ کو ان مطالبات کی لسٹ بھی پوری کرنی پڑتی ہے۔۔
کیسا ظلم ہے نا یہ۔۔

ہم ہرگز کسی کی زندگی میں ذیل اندازی نہیں کر سکتے لیکن ہم اپنی زندگیوں میں اس جہیز جیسی لعنت کو ضرور ختم کر سکتے ہیں۔۔
پہلے ہمیں اپنے والدین کا ذہن بنانا چاہیے کہ جہیز ایک لعنت ہے۔۔
کیونکہ جب تک مرد اپنی ذمہ داری کو نہیں سنبھالے گا تب تک کسی نا کسی وجہ سے ان کے گھر کا سکون برباد ہوتا رہے گا، گھر اجڑتے رہیں اور یہ لعنتیں ایسے ہی چلتی رہیں گی۔۔۔
لیکن اس میں ایک اور پہلو بھی سامنے ہے کہ بعض اوقات لڑکے والے ڈیمانڈنگ نہیں ہوتے لیکن لڑکیاں اپنے والدین پر خود بوجھ ڈالتی ہیں۔تین لاکھ کا لہنگا، لاکھ کا میک اپ، برینڈڈ کپڑے، جیولری۔ تو میری گزارش ہے کہ لڑکیوں کو بھی اپنی خواہشات پر کنٹرول رکھنا چاہیے۔۔
لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے والدین کی چادر کے مطابق پیر پھیلائیں۔
میں نے بہت سے ایسے بھی لوگ دیکھیں ہیں جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن صرف اور صرف دکھاوے کی خاطر اپنی جمع پونجی شادیوں میں پانی کی طرح بہا دیتے ہیں۔۔
تو میری تحریر کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ناں تو لڑکے اور اس کے گھر والے بیٹی کے باپ پر بوجھ ڈالیں ، اور ناں ہی بچیاں اپنے باپ کے بوڑھے کاندھوں پر اپنی بے جا خواہشات کا بوجھ ڈالیں۔۔