ورلڈ ہیڈر ایڈ

جیل سے نکلنے کا بہانہ، سیاسی لیڈر ہوتے ہیں بیمار، باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

سابق صدر و وزرائے اعظم سمیت سیاسی لیڈرز جب بھی جیل میں جاتے ہیں تو انہیں ایسی بیماریاں شروع ہو جاتی ہیں جن کا علاج تو کیا ڈاکٹرز تشخیص‌ بھی نہیں کر سکتے، دوسری جانب مذہبی رہنما جب جیل جاتے ہیں تو انہیں کبھی کوئی بیماری نہیں لگی اور انہوں نے کبھی بھی جیل سے باہر نکلنے کا مطالبہ نہیں کیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیاسی زعماء کو جب جیلوں میں ڈالا جاتا ہے تو انہیں بیماریاں لگ جاتی ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف جیل میں العزیزیہ ریفرنس کیس میں سات برس کی سزا کوٹ لکھپت جیل میں کاٹ رہے ہیں، نواز شریف کی جیل میں طبیعت ناساز ہے، عدالت نے انہیں طبی بنیادوں پر رہا کیا تھا لیکن بعد ازاں ضمانت میں توسیع نہیں کی تھی، نواز شریف کی صحت کو لے کر مریم نواز نے بھی پریس کانفرنس کی تھی ،ن لیگ کے رہنما اب بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ نواز شریف کو جیل سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا جائے، بلکہ نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ نواز شریف کو جیل میں ڈاکٹر مہیا نہ کر کے قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے.

جیل میں نواز شریف کو قتل کرنے کی سازش کی جارہی ہے، شہباز شریف

سابق صدر آصف زرداری بھی اڈیالہ جیل میں ہیں انہیں نیب نے جعلی اکاؤنٹ کیس میں گرفتار کیا اور اب وہ جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، آصف زرداری کی بھی جیل میں طبیعت خراب ہو چکی ہے، انہیں میڈیکل بورڈ کے مشورہ پر پمز میں منتقل کیا گیا تھا لیکن ایک روز پمز میں ان کے ٹیسٹ کروانے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے، پمزکے ترجمان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی طبیعت بہتر ہے انہیں مزید ہسپتال میں رہنے کی ضرورت نہیں،ڈاکٹرز کے مطابق آصف زرداری کے تمام ٹیسٹ کلیئر ہیں اور انہیں فزیو تھراپسٹ کی ضرورت ہے

آصف زرداری پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہیں، راجہ پرویز اشرف

ہسپتال سے جیل منتقل کئے جانے پر پیپلز پارٹی نے شدید احتجاج کیا ہے اور ایوان بالا میں تحریک بھی جمع کروا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کی طبیعت ٹھیک نہیں اس لئے انہیں ہسپتال منتقل کیا جائے.

میں ملنے گئی تو زرداری وہیل چیئر سے اٹھے، پولیس نے کہا دفعہ ہو جاؤ، آصفہ بھٹو

آصف زرداری کا طبی معائنہ، کونسی بیماری اور ڈاکٹر نے کیا تجویز کیاِ؟

جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی گرفتار سابق صدر آصف زررداری کی بھی جیل میں جانے کے بعد طبیعت ناساز ہو گئی ہے، وہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں اپنے گھر میں تھیں تو وہ صحتمند رہیں لیکن جب انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر سب جیل یعنی ان کے گھر سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جاتا ہے تو فریال تالپور بیمار ہو جاتی ہیں اور پھر جیل میں جا کر مطالبہ کرتی ہیں کہ انہیں علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا جائے.

آصف زرداری کو ہسپتال سے ڈسچارج کر کے کہاں منتقل کر دیا گیا؟ اہم خبر

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو نیب نے طلب کیا تو وہ بھی نیب میں گرفتاری کے ڈر کی وجہ سے پیش نہ ہوئے اور کمر درد کا بہانہ کر دیا، شہباز شریف کمر درد کی وجہ سے احتساب عدالت میں بھی پیش نہیں ہوئے.

پیپلز پارٹی کے ہی رہنما ،سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن جب 5 ارب سے زائد کے کرپشن کیس میں جب جیل میں گئے تو ان کی طبیعت ٹھیک نہ رہی اور انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا،

جعلی اکاونٹس کیس میں گرفتار انور مجید عدالت میں بیماری کی وجہ سے پیش نہ ہوئے، عدالت کو بتایا گیا کہ انور مجید کے دل کا والو بند ہے اور انہیں ڈی پولر ڈس آرڈر کی بیماری ہے.رپورٹ پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ انور مجید کو کوئی ایسی بیماری نہیں جس کے باعث وہ عدالت میں پیش نہ ہوسکیں، یہ ایسی بیماریاں ہیں جو پاکستان میں ہر چوتھے آدمی کو ہوتی ہیں.

دوسری جانب سیاسی رہنماؤں کے مقابلے میں مذہبی رہنماوں کو بھی گرفتار کر کے جیل میں رکھا گیا ہے لیکن کبھی بھی کسی مذہبی رہنما کی جانب سے بیماری یا جیل سے باہر جانے کی درخواست نہیں آئی.

جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا، حافظ محمد سعید کو لاہور کی ایک جیل میں رکھا گیا ہے، حافظ محمد سعید دو ماہ سے جیل میں ہیں ان کی عمر بھی نواز شریف، زرداری،و دیگر سیاسی زعماؤں سے زیادہ ہے لیکن ان کی جانب سے کبھی بھی بیماری کی درخواست یا جیل سے باہر جانے کی استدعا نہیں آئی، حافظ محمد سعید کو پہلی بار گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ ماضی میں بھی انہیں بھارت اور بیرونی دباؤ کی وجہ سے گرفتار کیا جاتا رہا، حافظ محمد سعید ایک سال کے عرصے تک جیل میں رہے لیکن کبھی بھی ان کی جانب سے بیماری کی بات سامنے نہیں آئی،

سی ٹی ڈی نے کیا چالان پیش، حافظ محمد سعید کیس کونسی نئی عدالت بھیج دیا گیا؟ اہم خبر

جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما حافظ عبدالرحمان مکی بھی جیل میں ہیں انہیں حافظ محمد سعید کی گرفتاری سے قبل ہی گرفتار کر لیا تھا، وہ دل کے مریض بھی ہیں لیکن تین سے چار ماہ ان کو جیل میں ہو گئے ہیں ان کی جانب سے کبھی بیماری کا نہیں سنا گیا کہ انہوں نے کسی کو کہا ہو کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں یا میں ہسپتال جانا چاہتا ہوں. یا میرا طبی معائنہ کروایا جائے.

باغی کی رپورٹ کے مطابق جیلوں میں گرفتار مذہبی رہنماؤں کے حوالہ سے جب جیلر سے پوچھا جاتا ہے تو انکا کہنا ہوتا ہے کہ وہ عبادت کرتے رہتے ہیں، اس لئے اطمینان سے رہتے ہیں، اور اگر انہیں کوئی بیماری ہو بھی سہی تو وہ کسی کو نہیں بتاتے بلکہ جیل میں بھی رب کا شکر ادا کرتے ہیں اور صبر کرتے ہیں.

جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنماؤں مولانا امیر حمزہ ، پروفیسر ظفر اقبال سمیت دیگر قائدین بھی جیلوں میں قید رہے لیکن انہوں نے بھی کبھی بیماری کا بہانہ بنا کر جیل سے نکلنے کا نہیں کہا…

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.