جماعت اسلامی کا مہنگائی کیخلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان، حکومتی کارکردگی مایوس کن ہے، سراج الحق

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے منصورہ میں‌ مرکزی مجلس شوری کے تیسرے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال میں حکومت کی مایوس کن کارکردگی سامنے آئی ہے، سلیکٹڈ اور الیکٹڈ کا ایک سال میں فیصلہ نہ ہو سکا،

باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کےمطابق مرکزی مجلس شوری کے اجلاس میں سیاسی صورتحال ، حکومتی ایک سالہ کارکردگی، کشمیر سمیت مختلف معاملات زیر غور آئے. اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی موثر اپوزیشن کا کردار ادا کرکے عوام کی ترجمانی کرےگی حکومت نے ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنایااس کو وہ اختیارات دئیےجو ایسٹ کمپنی کے اختیارات تھے، آئی ایم ایف کا گریبان اور عوام کا ہاتھ ہے، بجلی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور خوراک بھی مہنگی ہو گئی،

سراج الحق کا کہنا تھا کہ سیمنٹ پچیس روپے چینی تین روپے اور ہر خورونوش کی قیمت میں اضافہ ہوا. حکومت کا عوام پر ٹیکس لگا کر سانس بند کر دینا چاہتی ہے ، ڈالر کی بڑھتی قیمت اور روپےکی بے قدری ٹی وی سے پتہ چلتا ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہون میں اضافہ مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرتے، بھارت کا روپیہ ٹکا ہم سے بہتر ہے، ملک کو معدنیات پانی زرخیز مٹی سے نوازا ہے لیکن اس کے باوجود عوام کے ہاتھوں میں آئی ایم ایف کی ہتھکڑیاں ہیں، پیپلزپارٹی ن لیگ کی پالیسیوں کو ہی پی ٹی آئی نے آگے چلایاہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کی نوبت اس لئے نہیں آرہی وہ خزانے پر بیٹھ چکے ہیں.

مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں‌ فیصلہ کیا گیا کہ جماعت اسلامی مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کرے گی اور ملتان میں بارہ جولائی اور انیس جولائی کو راولپنڈی میں عوامی مارچ ہو گا. سراج الحق کاکہنا تھا کہ ہمارا معاملہ یہی ہے غریبوں کو رلاج کی سہولیات بے روزگاروں کو روزگار دیاجائے ، حکومت اپنے وعدے اور نعرے جو لگائے وہ سے ایک کروڑ نوکریاں دے پچاس لاکھ لوگ گھر چاہتے ہیں ، حکومت اپنےوعدوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے مہنگائی کا ہتھوڑا عوام کے سروں پر چلا رہی ہے، حکومت نے بھارت کو سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بنانے کےلئے ووٹ دیا لیکن کشمیر میں بھارتی فوج بربریت کررہی ہے، انہوں نے کہاکہ اسوقت ارشد ملک کا ویڈیو سامنے آیاہے جس کو دنیا دیکھ رہی ہے چیف جسٹس آف پاکستان کو کہوں گا یہ ویڈیو عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے، ملک قیوم اور نیب چئیرمین کی ویڈیو کیاہے آزاد عدلیہ ریاست کا سٹیک ہولڈر ہے، عوام نے 2007ء نے عدلیہ بحالی کےلئے قربانیاں دیں اسلئے چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن بنایاجائے اوربتایاجائے کہ عدلیہ آزاد ہے یا نہیں سچ اور جھوٹ سامنے آنا چاہئے، کبھی حکومت کہتی ہے ہم نئےہیں اور ہر غلطی کے بعد اداروں کے پیچھے کھڑی ہو کر انہیں متنازعہ بناتی ہے ،

انہوں‌ نے کہاکہ وزیر اعظم امریکہ کے دورے پر جارہے ہیں بائیس جولائی کو ٹرمپ سے عمران خان ملیں گے اب موقع ہے قومی ترجمانی کرکے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہائی اور ساتھ لانے کےلئے اقدامات کریں، اب موقع ہے کہ عمران خان امریکہ کو کہیں کہ اقوام متحدہ کے قرارداد کے تحت کشمیری عوام کوُاستصواب رائے دیاجائے ، ایک طرف کشمیریوں کے راستے بند کئے جارہی ہیں دوسری طرف بھارتی شہریوں کےلئے راستے بنائےجا رہے ہیں کشمیرکے بغیر کوئی مسئلہ حل نہ ہو گا ، جماعت اسلامی گولی اور گالی کی سیاست سے بے زاری کااعلان کرتی ہے، ملک اور پارلیمنٹ پر سرمایہ داروں کا قبضہ ہے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے کرپشن فری مہم احتساب کا مطالبہ کیاتھا اب تک حقیقی احتساب نہیں گل گپاڑہ مچایاجارہاہے ایک روپیہ بھی نہیں لیاگیا ، نہ بیرونی بینکوں میں پڑے تین پچانوے بلین ڈالر اور پانامہ کے چار سو چھتیس لوگوں کا احتساب کیاگیا، جماعت اسلامی کرپشن فری اور احتساب مہم کو جاری رکھے گی اور نچلی سطح تک اقلیت و عوام کے حقوق کےلئے اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے، نیب چئیرمین پر امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت و اپوزیشن کااختیار نہیں ہونا چاہیے بلکہ چیف جسٹس اور چاروں صوبائی چیف جسٹس لائیں تاکہ غیر جانبدار شخص لایاجائے ، پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی میں کوئی فرق نہیں سمجھتے ان کا وزیر خزانہ اب لگایاگیا تو سوچا مبارکباد پیپلزپارٹی کو ہی دوں ، اپوزیشن کی اے پی سی میں اس لئے نہیں گئے کیونکہ پی ٹی آئی ن لیگ اور پیپلزپارٹی ایک ہی ہیں آدھی پیپلز پارٹی تو پی ٹی آئی میں ہے ، رانا ثنااللہ خان جب پکڑے گئے تو ان پر بہت ترس آیا، منڈی بہائوالدین میں مریم نواز کاجلسہ کرنا عوامی حق ہے اس کی مذمت کرتے ہیں ماضی کی حکومت نے جلسے جلوسوں پر پابندی لگائی تو اس سے عوام میں غصہ بڑھا ہے ، حکومت برائے ریلیف نہیں برائے ٹیکسز ہے

جماعت اسلامی نے سترہ نکاتی معاشی ایجنڈا حکومت کو دے چکے ہیں ہماری بات کے بھائے آئی ایم ایف پر یقین زیادہ کیااور ان کے کہنے پرآئی ایم ایف اور سٹیٹ بینک کے سربراہ کو تبدیل کیاگیا، جس جس نے پیسہ لیا وہ اگر پیپلزپارٹی پی ٹی آئی یا ن لیگ میں ہے ان سے پیسہ لینا چاہئے لیکن باہر بھیجنا درست نہیں ہے ، اس وقت مسئلہ چئیرمین سینٹ کا نہیں ہے بلکہ مہنگائی کا ہے ہمارا ایشو مہنگائی ہے جو قہر کی صورت میں ہےابھی وقت نہیں جب وقت آئے گا تو بتا دیں گے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.