ورلڈ ہیڈر ایڈ

جج ارشد ملک ویڈیو کیس، لاہور ہائیکورٹ نے ریکارڈ طلب کر لیا

ویڈیو سکینڈل کیس، لاہور ہائیکورٹ نے سابق جج ارشد ملک کا ریکارڈ طلب کرلیا

لاہور ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک ویڈیو سیکنڈل کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے بیان حلفی کی اصل کاپی مانگی تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے دئیے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ سابق جج ارشد ملک کا اصل بیان حلفی نہیں دے سکتے، وہ نواز شریف کی زیر التوااہیل کا حصہ ہے، اسلام آباد ہائیکور ٹ نے مصدقہ کاپی لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی

واضح ریے کہ سابق جج ارشدملک کیخلاف لاہورہائیکورٹ میں انکوائری زیرالتواہے ،سابق جج ارشد ملک نے 12جولائی کوبیان حلفی جمع کرایاتھا۔

 

واضح رہے کہ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو کے حوالہ سے دائر درخواستوں کے فیصلے میں کہا ہے کہ متعلقہ ویڈیو اور اس کے اثرات سے متعلق یہ موقع نہیں کہ عدالت مداخلت کرے ،جج ارشد ملک ویڈیواسکینڈل کیس کافیصلہ 15 پیراپرمشتمل ہے ،

فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو سے متعلق فوجداری اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے،ایف آئی اے پہلے ہی اس کیس کی تحقیقات کررہی ہے ،بالخصوص متعلقہ ویڈیو کاتعلق اسلام آباد میں زیر التوا اپیل سے ہے.

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ارشد ملک کے کردارسے ججوں کے سرشرم سے جھک گئے ، عجیب جج ہیں فیصلے کے بعد مجرمان کے گھر چلے جاتے ہیں،پھرمجرم کے بیٹے سے ملنے مدینہ منورہ جاتے ہیں،ارشد ملک کے کردارسے متعلق بہت سی باتیں دیکھنے والی ہیں،

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جج ارشد ملک کی ویڈیو جاری کی تھی جس کے بعد احتساب عدالت کے جج کی خدمات دوبارہ لاہور ہائیکورٹ کے سپرد کر دی گئیں، جج ارشد ملک نے حلف نامے میں ویڈیو کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ مجھے دھمکیاں دی گئیں اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی.

جج ارشد ملک ویڈیو سیکنڈل، سپریم کورٹ کا بڑا حکم

جج ارشد ملک کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں کہا گیا ہےکہ دوران سماعت نمائندگان کے ذریعے بارہا رشوت کی پیش کش کی گئی اورتعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی۔ مجھے کہا گیا کہ نواز شریف منہ بولی قیمت دینے کو تیار ہے. بیان حلفی میں مزید کہا گیا کہ فروری 2018 میں مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ سے ملاقات ہوئی، ملاقات میری بطور جج احتساب عدالت تعیناتی کے کچھ عرصے بعد ہوئی، ناصر جنجوعہ نے بتایا کہ انھوں نے سفارش کر کے مجھے جج لگوایا، ناصر جنجوعہ نے اپنے ساتھ موجود شخص سے تصدیق کرائی کہ میں نے چند ہفتے قبل تعیناتی کی خبر نہیں دی، میں نے اس دعوے کے بارے میں زیادہ سوچ بچار نہیں کی۔ جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں مزید کہا کہ 16 سال پہلے ملتان کی ایک ویڈیو مجھے دکھائی گئی، ویڈیو کے بعد کہا گیا وارن کرتے ہیں تعاون کریں، ویڈیو دکھانے کے بعد دھمکی دی گئی اور وہاں سے سلسلہ شروع ہوا، سماعت کے دوران ان کی ٹون دھمکی آمیز ہوگئی، مجھے رائے ونڈ بھی لے جایا گیا اور نواز شریف سے ملاقات کرائی گئی، نواز شریف نے کہا جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس پر تعاون کریں، نواز شریف نے کہا ہم آپ کو مالا مال کر دیں گے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.