جے یو آئی کی اے پی سی میں حکومتی اتحادی جماعت بھی پہنچ گئی،جو شکایت زرداری، نواز کو نہیں تھی وہ عمران کو کیوں؟ مولانا فضل الرحمان

0
25

جے یو آئی کی اے پی سی میں حکومتی اتحادی جماعت بھی پہنچ گئی،جو شکایت زرداری، نواز کو نہیں تھی وہ عمران کو کیوں؟ مولانا فضل الرحمان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کراچی کے مقامی ہوٹل میں جاری ہے

کانفرنس کی صدارت جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان کر رہے ہیں، اے پی سی میں اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماء میں شریک ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اے پی سی میں حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے نمائندے بھی شریک ہیں،

مولانا فضل الرحمان نے ابتدائی خطاب میں کہا کہ 2010 میں پارلیمنٹ کی کمیٹی نے آئین کا از سر نو جائزہ لینا شروع کیا،متفقہ ترمیم کے ذریعے بہت ساری اچھی تبدیلیاں آئین میں کی گئیں،آج جو چیز متفقہ ہے وہ متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے،یہ کون سا قانون ہے، ضیاءالحق کے دور میں نظام برائے نام پارلیمانی تھا لیکن صدارتی تھا،اب شکایت کی جارہی ہے وفاق کا سارا آمدن صوبے لے جاتے ہیں،یہ شکایت زرداری کوکیوں نہیں تھی،نوازشریف کو کیوں نہیں تھی؟

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وفاق نے وہی محکمے بھی برقرار رکھے جس پر اخراجات تو آئیں گے،اسٹیٹ بینک نے دسمبر میں کہہ دیا تھا مقررہ ہدف حاصل نہیں ہوسکیں گے،ہم ابتری کی طرف جارہے ہیں اور ملک کو تباہی کی طرف لے جایا جا رہا ہے،ملک اس حال میں ہے کوئی بھی سیاسی کارکن اقتدار سنبھالنے کو تیار نہیں ،

اے پی سی میں پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان کر رہی ہیں،پیپلز پارٹی کے وفد میں نثار کھوڑو، سید ناصر حسین شاہ اور وقار مہدی بھی شامل ہیں

شیری رحمان نے اے پی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ ٹیکس کراچی سندھ دیتا ہے۔ 11 فیصد ایوارڈ میں غیرقانونی کٹوتی ہوئی۔ عمران خان پارلمنٹ کے لئے مسنگ پرسن ہیں۔ وہ برداشت نہیں کرسکتے کہ لوگ تنقید کریں اسی وہ صدارتی نظام پر نظریں جما کر بیٹھے ہیں جو پرائی خواہش ہے،ہم نے جمہوریت کے لئے بہت بڑی قربانیاں دی اور ہم ان کو رایگان نہیں جانے دیں گے ،آج کی حکومت سے این ایف سی کی کمیٹی بھی نہیں بن رہی کیونکہ ایڈوائزر آئینی طور پر کمیٹی کی صدارت نہیں کرسکتا بلکہ منسٹر کرے گا۔

شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ ایجنڈے پر اے پی سی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ پیپلزپارٹی ہمیشہ سے ہر تحریک میں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ہے۔ہم انشاء اللہ وفاق سطح پر اے پی سی کو بلانے کی تگ ودو کررہےہیں۔ ضرورت ہےکہ ہم ملک کواس ظلم و جبر سے نکال لیں اور وفاق کو مشکلات سےنکالیں۔اس وقت 18ویں ترمیم پر شب خون مارا جارہا ہے اور ملک کو دو بارہ تقسیم کی طرف لے جایا جارہا ہے۔18ویں ترمیم کسی ایک ذات یا جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک وفاقی مسئلہ ہے اور فیڈریشن کو مضبوط کرنے کا واحد ذریعہ ہے ۔

مسلم لیگ ق کے رہنما سردار عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ وفاق کو چاہیے کہ وہ صوبوں کو اور پھر صوبوں کو چاہیے کہ وہ ضلعی سطح پر انکا حق دینا چاہیے۔پیٹرول سستا ہوا ہم نے بجلی سستی نہیں کی لیکن جب دوبارہ پیٹرول مہنگا ہوا تو بجلی کی قیمتوں کو پھر سے بڑھا دیا۔

جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی کا کہنا تھا کہ پاکستان کبھی ترقی نہیں کر سکتا جب تک ہم قرآن وسنت کی طرف نہیں گے اور دینی اور اسلامی قیادت کی طرف نہیں آئیں گے تب تک پاکستان کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔موجودہ سال کا بجٹ سودی قرضوں کا بجٹ ہے۔ہمارے ملک میں ان لوگوں کو چن چن کر وزیر بنایا گیا ہے جنہیں بس گالیاں دینا آتا ہے تاکہ وہ مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کی تذلیل کر سکیں۔ جعلی پائلٹس کا شوشہ چھوڑ کر پاکستان کی ائیر لائن اور پائلٹس کو انٹر نیشنلی بدنام کیا گیا ہے۔

نظام مصطفیٰ پارٹی کے رہنما الحاج محمد رفیع نے کہا کہ قرارداد مقاصد جو کہ لاکھوں علماء کرام کی قربانی ہے ہم نے اس قرارداد مقاصد کو پس پشت ڈال دیا جو ہماری بربادی کا سبب بنا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما شاہی سید نے کہا کہ ہم تمام جماعتوں سے دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں اور اس کے بدلے میں بس پختونوں کی عزت چاہتا ہوں.جب بلدیہ والا سانحہ ہورہا تھا تب ادارے کہاں تھے، 2016 میں جے آئی ٹی کہاں تھی جب نواز شریف، ذرداری اور الطاف حسین چور تھا۔

پی ایس پی کے رہنما ارشد وہرہ نے اے پی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر سے 2200ارب روپے ٹیکس وفاق کو حاصل ہوتا ہے تو وفاق کو چاہیے کہ وہ کراچی کو اس کا مکمل حصہ دے، کراچی شہر کے ساتھ بہت زیادتی کی گئی ہے

جے یو آئی سندھ کی آل پارٹیز کانفرنس سے جمعیت علماء پاکستان کے سیکرٹری جنرل شاہ محمد اویس نورانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کے بعد مولانا فضل الرحمن صاحب کی بات مان لی جاتی اور اپوزیشن کی جانب سے حلف نہ اٹھایا جاتا تو آج حالات مختلف ہوتے،قوم اب صدارتی نظام نہیں قومی نظام چاہتی ہے۔ موجودہ حکومت مکمل چوروں کا سرٹیفائڈ ٹولہ ہے۔یہ وقت نہ مائنس ون ہے نہ مائنس ٹو نہ مائنس تھری اس وقت پورا پاکستان مائنس میں ھے

Leave a reply