fbpx

جسٹس فائزعیسیٰ قاضی نے ساتھی ججز کے بعد دوسرے مخالفین پرتنقید کے تیرچلادیئے

اسلام آباد:جسٹس فائزعیسیٰ قاضی نے ساتھی ججز کے بعد دوسرے مخالفین پرتنقید کے تیرچلادیئے ،اطلاعات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جو کہ پچھلے کئی ماہ سے جارحانہ اندازاختیارکیئے ہوئے ہیں اورپچھلے چند ہفتوں سے وہ جس طرح اپنے ساتھی سنیئر ججزپرجارحانہ تنقید کرتے نظرآتے ہیں ایسے ہی اب انہوں نے ہراس شخص کی طرف اپنی توپوں کا رخ کردیا ہے جسے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ انہیں اپنا نہیں سمجھتے

اس حوالے سےجسٹس قاضی فائز عیسٰی نے علامہ طاہر محمود اشرفی کے نام خط لکھا ہے۔انہوں نے اس خط میں لکھا کہ بہت تعجب ہوا میری پیٹھ پیچھے آپ نے مجھے کاپی بھجوائے بغیر 11 اپریل کو چیف جسٹس پاکستان کےنام خط لکھا۔

خط میں ذاتی حوالے سے اختلافات کا ذکرکرنے کےبعد وہ لکھتے ہیں کہ چیف جسٹس سے خط میں آپ نے میرے استعفے کا مطالبہ کیا، ‏آئین میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں کہ عدالت عظمیٰ کے کسی جج کو کوئی تنبیہہ کرے، بہتر ہوتا آپ مجھ سے براہ راست مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے۔

خط میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا کہنا تھا کہ مجھے کسی عہدے کی ضرورت نہیں ہے، جب محسوس ہواکہ انصاف فراہم نہیں کرسکتا خود مستعفی ہوجاؤں گا۔

دوسری جانب علامہ طاہر محمود اشرفی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جوابی خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آپ کو جج نہیں سیاستدان ہونا چاہیے تھا، آپ کے خلاف کوئی فتویٰ دیا نہ کسی کو اشتعال دلایا۔

خط میں طاہر اشرفی کا کہنا تھاکہ کسی پر تہمت لگانےسے پہلے تحقیق کرلیا کریں، آپ جیسے جج ہی آمروں کو حق حکمرانی دیتے رہے، آپ کے منصب کا تقاضہ غصہ نہیں اعتدال ہے، اعتدال نہ کرنے والا مفتی یا جج کہلانے کے قابل نہیں رہتا۔

خط میں طاہر اشرفی نے کہا کہ چیف جسٹس کو بطور سربراہ آپ کو نصیحت کیلئے کہا تھا لیکن آپ شاید اپنے ادارے کے سربراہ کو نصیحت کرنے کا حق نہیں دیتے، چیف جسٹس کو خط آپ کے ویڈیو کلپ کے بعد لکھا تھا۔

یاد رہےکہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے چند دن ایسی گفتگو کی تھی کہ جس میں انہوں نے اسلام کی مسلمہ حقیقت کوپس پشت ڈالتے ہوئے عدالتی نظام اورآئین کومقدم قرار دیا تھا جس پریہ بحث شروع ہوئی تھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.