ورلڈ ہیڈر ایڈ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اثاثے چھپانے کا معاملہ، اسسٹنٹ کمشنر انٹرنیشنل ٹیکسز زون کا خط منظر عام پر آگیا

سپریم کورٹ کے سینئر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر ایک طرف اپنے غیر ملکی اثاثے چھپانے کا الزام ہے اور اسی سلسلہ میں سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا ہے تو دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر انٹرنیشنل ٹیکسز زون کا 10مئی2019 کو کمشنر آئی آر کو لکھا گیا خط بھی منظرعام پر آگیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لندن میں موجود اپنے بیوی بچوں کے اثاثے ظاہر نہیں کئے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خط میں لکھا گیا ہے کہ مس زرینہ عیسیٰ جو کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ہیں نے 2014ءکو جمع کروائی گئی ٹیکس سٹیٹمنٹ میں لندن میں موجود اپنی جائیداد کو ظاہر نہیں کیا ۔ اسی طرح لکھا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس بات کے پابند تھے کہ وہ”سیکشن گیارہ بی کے تحت“ غیر ملکی اثاثے جو ان کے بیوی بچوں کے نام ہیں، انہیں ریکارڈ پر لاتے اور اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں اپنے کل اثاثوں اور ان کے اخراجات کتنے ہیں، انہیں ظاہر کرتے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔

اسسٹنٹ کمشنر ٹیکسز زون کی جانب سے لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ مس زرینہ عیسیٰ اور ان کے بیٹے نے بھی 2014ءسے 2018ءتک ٹیکس ریٹرن میں اپنی اس جائیداد کا ظاہر نہیں کیا ہے۔اس سلسلہ میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ قانونی طور پر اس امر کے پابند تھے کہ وہ ٹیکس ریٹرن میں اپنے اثاثے چھپانے کی بجائے انہیں ظاہر کرتے مگر خودان کے اور ان کی بیوی کی جانب سے لندن میں موجود اثاثوں کو ظاہر نہیں کیا گیاہے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کو 5 اگست 2019ءکو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر منتخب کیا گیا۔ درج بالا اثاثہ جات میں ایک جائیداد کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 2011 میں بنایا جبکہ بقیہ دو 2013 سے اب تک حاصل کی گئیں۔ 2011 سے اب تک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنے ٹیکس ریٹرن فائل کرتے آ رہے ہیں تاہم بتدریج اپنے اثاثہ جات کو چھپاتے چلے آ رہے ہیں۔ جو کہ ITO 2011 کے سیکشن 116 ایک بی کے تحت جرم ہے جبکہ وہ قانونی اور عدلیہ قوانین کے تحت اپنے اثاثہ جات ظاہر کرنے کے پابند ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے 2014 میں اپنے اثاثہ جات فائل کرتے ہوئے بھی درج بالا اثاثہ جات ظاہر نہ کئے۔تاحال اتنے مہنگے اثاثہ جات کے حصول کے ذرائع کا ادراک نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس امر کی وضاحت کی جا سکی ہے کہ درج بالا اثاثہ جات منی لانڈرنگ کے تحت حاصل ہوئے یا نہیں۔یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا گیا ہے جس میں ان پر لندن میں ان کے بیوی ، بچوں کے نام اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ادھر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس سلسلہ میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو خط لکھ کر اپنے اوپر لگائے گئے الزاما ت کی واضح طور پر تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی کردار کشی کی کوشش کی جارہی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت کو لکھے گئے خط میں سوال کیا ہے کہ جناب صدر کیا میرے خلاف شکایت کے مخصوص حصے میڈیا میں افشا کرناحلف کی خلاف ورزی نہیں، کیا میڈیا میں مخصوص دستاویزات لیک کرنا مذموم مقاصد کی نشاندہی نہیں کرتا۔ اسی طرح خط میں یہ بھی کہا گیا کہ اس سے پہلے کہ کونسل مجھے نوٹس بھیجتی اور میرا جواب آتا، میرے خلاف میڈیا پر کردار کشی کی مہم شروع کر دی گئی، حکومتی ارکان میڈیا میں ریفرنس سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں، کیا یہ مناسب رویہ اور آئین سے مطابقت رکھتا ہے؟۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ لندن میں‌ جائیدادیں ان کے نام پر ہیں جو اس کے مالک ہیں اور ملکیت چھپانے کی کوشش کبھی نہیں کی گئی، جائیدادیں کسی ٹرسٹ کے ماتحت نہیں نہ ہی کبھی کوئی آف شور کمپنی قائم کی گئی۔ صدر مملکت کو لکھے گئے خط میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جب سے انہوں نے یہ پیشہ اختیار کیا وہ انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، ان کے خلاف انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی کوئی شکایت موجود نہیں نہ ہی ان کے خلاف انکم ٹیکس کی کوئی کارروائی جاری ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.