fbpx

کابینہ کے کتنے اراکین نے اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کی شمولیت کی حمایت کی تھی؟ وزیر مذہبی امور بول پڑے

کابینہ کے کتنے اراکین نے اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کی شمولیت کی حمایت کی تھی؟ وزیر مذہبی امور بول پڑے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قادیانیوں کے اقلیتی کمیشن میں شمولیت کے حوالہ سے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وفاقی کابینہ میں دو الگ الگ سمریاں بھجوائی تھیں، ایک 21 اپریل جبکہ دوسری 5 مئی کو بھیجی گئی، ان میں احمدی برادری کا ذکر تک نہیں کیا گیا تھا۔

قومی اقلیتی کمیشن میں احمدیوں کے نمائندے کی شمولیت کے کابینہ کے فیصلے سے متعلق خبروں کے حوالہ سے انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی کابینہ کے 5 یا 6 ارکان نے احمدیوں کے نمائندے کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی حمایت کی تھی، جبکہ باقی اراکین نے مخالفت کی تھی،یہ معاملہ کابینہ میں زیر بحث آیا تاہم کابینہ کی اکثریت نے اس کی مخالفت کی، اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔ پاکستانی آئین کے تحت 1974ء میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کا کہنا ہے کہ میرا یقین ہے کہ احمدی دیگر اقلیتوں کی طرح نہیں ہیں، اسلام اور آئین پاکستان اقلیتوں کو تحفظ اور حقوق دیتا ہے، لیکن قادیاتی کوئی اقلیت نہیں ہیں، قادیاتی آئین پاکستان کو نہیں مانتے، انہیں حق نہیں کہ وہ کسی کمیشن (آئین پاکستان کے ذیلی ادارے) کا حصہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جب کابینہ میں اس حوالے سے بحث ہوئی تو میں نے ایک ہر سطح پر اس کی مخالفت کی تھی۔ ہم تحقیقات کروائیں گے کہ کابینہ میٹنگ کے منٹس میں احمدیوں سے متعلق کس نے تبدیلی کی۔

وزیر مذہبی امور کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ کے منٹس میں جو ڈسکشن کو ڈی سیژن بنایا گیا میں نے اس میں اختلافی نوٹ لکھا ہے، قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل نہیں کیا گیا، کابینہ اجلاس میں اس حوالہ سے بات ہوئی تھی،

عوامی شدید احتجاج کے بعد وفاقی کابینہ نے قادیانیوں کو اقلیت کمیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا،نئے فیصلہ کے مطابق قومی اقلیت کمیشن میں قادیانی شامل نہیں ہونگے.وفاقی کابینہ نے وزارت مذہبی امور کی نئی سمری منظور کرلی

واضح رہے کہ قادیانیوں‌ کو اقلیتی کمیشن میں شمولیت کے حوالہ سے خبریں سامنے آنے پر حکومت کو شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد حکومت نے اب یہ فیصلہ واپس لیا،

حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق نے بھی اس حوالہ سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا، مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ موجودہ نازک حالات میں قادیانیت کا پینڈورا باکس کھولنا ناقابل فہم ہے ،اسپیکرپنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ قادیانی خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں نہ ہی آئین پاکستان کو مانتے ہیں

قادیانیوں کی اقلیتی کمیشن میں شمولیت کے حوالہ سے خبریں آنے کے بعد اس حکومتی فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کر دی گئی تھی، لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست شہری مسعود احمد ریحان نے کی جانب سے دائر کی گئی ، درخواست میں وزیراعظم، وفاقی وزارت مذہبی امور، امام بادشاہی مسجد مولانا عبدالخبیر آزاد اور قادیانی کمیونٹی کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ختم نبوت پر یقین رکھنے والا شخص ہی مسلمان کہلا سکتا ہے، وفاقی آئین میں قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا ہے تاہم وفاقی کابینہ نے قومی اقلیتی کمیشن کی تشکیل نو کرنے کی منظوری دی ہے۔ وفاقی کابینہ نے قادیانیوں کو بھی اس کمیشن کا ممبر مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیشن میں قادیانیوں کی شمولیت سے ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلنے کا خدشہ ہے۔ قادیانی غیر آئینی طور پر شعائر اسلام کا استعمال کرتے ہیں، کمیشن میں شمولیت کے بعد قادیانی کھلم کھلا تبلیغ اور شعائر اسلام کا استعمال کرینگے جس کے بعد قادیانیوں کے شعائر اسلام کے استعمال اور تبلیغ سے ملک میں خانہ جنگی ہونے کا خطرہ ہے

قادیانی آئین کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کا مسلسل ارتکاب کر رہے ہیں، حافظ عاکف سعید

قادیانیوں کو کمیشن میں شامل اقلیتوں کی طرح حقوق نہیں دیے جاسکتے ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مرزا قادیانی کے عقائد کی وجہ سے دیگر اقلیتوں کے مذہبی جذبات متاثر ہوں گے۔ اس لیے عدالت قومی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کی شمولیت کالعدم قرار دی جائے۔