12 سالہ کمسن گھریلو ملازمہ عائشہ کے قتل میں ملوث مرکزی ملزمان گرفتار

0
113
sargodha

پنجاب پولیس کی بڑی کامیابی،12 سالہ کمسن گھریلو ملازمہ عائشہ کے قتل میں ملوث مرکزی ملزمان گرفتار کر لئے

وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے واقعہ کا نوٹس لیا تھا،آئی جی پنجاب نے آرپی او اور ڈی پی او سرگودھا کو ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کی ہدایت کی تھی،ملزمان کی گرفتاری کے لئے ایس پی انویسٹی گیشن، اے ایس پی کوٹ مومن پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں،ملزمان کمسن بچی عائشہ کو ڈنڈے اور راڈ سے تشدد کرتے رہے تھے، والدین سے ملاقات بھی بند کروا دی تھی، تشدد کی وجہ سے عائشہ کے جسم پر زخم بن گئے جن کا علاج نہ کروایا گیا، بدستورتشدد کیا جاتا رہا،کمسن عائشہ کے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہارنے پر ملزمان ڈیڈ باڈی گھر میں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے،کمسن مقتولہ کے والدین نے یکم مارچ 2024 کو پولیس کواطلاع دی

پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی،خصوصی ٹیموں نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے لاہور، ملتان، فیصل آباد، حافظ آباد اور سرگودھا کے مختلف علاقوں میں ریڈ کئے، خصوصی ٹیموں نے جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان کو لاہور اور حافظ آباد سے گرفتار کیا،ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیاہے،

جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

 اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

Leave a reply