کرک میں پی ٹی آئی کارکنان کا پولیس پر پتھراؤ

ضلعی انتظامیہ نے شہر میں دفعہ 144نافذ کر رکھی ہے
0
110
police

کرک میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انڈس ہائی وے پر ورکرز کنونشن کے دوران پولیس نے دھاوا بول دیا۔

باغی ٹی وی: ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اجتماعات اور جلسے جلوس پر پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود تخت نصرتی چوکارہ میں پی ٹی آئی کارکنوں نے ریلی کی شکل میں نکل کر جلسہ گاہ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، پولیس نے پی ٹی آئی کارکنوں کو روکا جس پر کارکن مشتعل ہوگئے اور پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا۔

چار فروری کو کرک کے علاقے امبیری کلہ میں جلسہ کے دوران سیاسی جماعت کے شرپسند پولیس سے متصادم ہوگئےسیاسی جماعت نے انتظامیہ سے جلسے کی اجازت نہیں لی تھی، جب پولیس نے منع کیا تو مخصوص سیاسی جماعت کے شرپسندوں نے پولیس پر دھاوا بول دیا شرپسندوں نے پولیس گاڑیاں تباہ کردیں، شرپسندوں کے پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئےاس تصادم کے بعد علاقے میں حالات تشویش ناک ہیں، علاقے سے پولیس کی مزید نفری طلب کرلی گئی ہے۔

پولیس نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے بعد پی ٹی آئی کارکنان منشتر ہوگئےپولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے 30 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا،گرفتاری کے بعد کارکنوں کو تخت نصرتی حوالات منتقل کیا گیاورکرز کنونشن پر دھاوا بولنے کی وجوہات بتاتے ہوئے پولیس کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ نے شہر میں دفعہ 144نافذ کر رکھی ہے،کسی کو حکومتی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

پاکستان علماء کونسل نے فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کی حمایت کا اعلان,رانا ثناءاللہ

قبل ازیں کلفٹن تین تلوارکے قریب پی ٹی آئی کارکنان اورپولیس کے درمیان جھڑپوں سے علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا، پی ٹی آئی کارکنان کے پتھراؤ سے ایس ایچ اوبوٹ بیسن اور لیڈی پولیس اہلکار سمیت متعدد اہلکارزخمی ہوگئے اور ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی جبکہ متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اتوار کو شاہراہ قائدین سے مزار قائد تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اتوار کی صبح ترجمان تحریک انصاف نے تین تلوار پر ایک تقریب کے انعقاد کا اعلان کر دیا جہاں کراچی کے تمام حلقوں کے امیدواروں کو ریلیوں کی شکل میں پہنچے کی ہدا یت کی گئی۔

ن لیگ اور پی پی نے عوام کو غربت، مہنگائی اور کرپشن کا تحفہ …

پی ٹی آئی کے کارکنان بڑی تعداد میں ریلی میں شرکت کے لیے کلفٹن تین تلوار پہنچے تو وہاں پولیس کی بھاری نفری پہلے سے تعینات تھی، پولیس نے ریلی میں شرکت کے لیے آنے والے پی ٹی آئی کے کارکنان کو آگے جانے سے روک دیا جس پر کارکنان مشتعل ہو گئے۔

پولیس نے انہیں منشترکرنے کی کوشش کی تو پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا اورڈنڈوں سے دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں ایس ایچ او بوٹ بیسن ریاض نیازی سمیت متعدد اہلکارزخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پراسپتال منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکنان کو منشترکرنے کے لیے لاٹھی چارج اورآنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے باعث متعدد کارکنان کی حالت غیر ہو گئی، اس دوران پی ٹی آئی کارکنان نےواٹرکینن پردھا وا بول دیا اور شدید پتھراؤ کیا جس کے باعث پولیس واٹر کینن استعمال نہیں کرسکی۔

پیپلز پارٹی غریبوں کے دل کی آواز محسوس کرتی ہے،آصف زرداری

پولیس نے پی ٹی آئی کے متعدد کارکنوں کوحراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، پی ٹی آئی کے کارکنان اورپولیس کے درمیان جھڑپوں کے باعث علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا، پولیس کارکنان کو تین تلوار سے پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوگئی تاہم کچھ دیر میں کارکنان بڑی تعداد میں دوبارہ تین تلوارپرجمع ہو گئے اور پولیس کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔

پی ٹی آئی کے کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے باعث کلفٹن تین تلوارکے قریب ٹریفک کی روانی بھی معطل رہی جبکہ جھڑپوں کے دوران پولیس کی جانب سے ریلی کی کوریج کے لیے موقع پر موجود مختلف چینلز کے کیمرا مین اوررپورٹرزکوبھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

تہذیب کا دشمن پر آج ایسے مقدمات بن رہے ہیں جن کا ہم تو …

Leave a reply