مقبوضہ کشمیر کتنے سال بعد پاکستان کو ملے گا؟؟؟ سنگین علی زادہ

کشمیر کی موجودہ صورتحال اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا احاطہ کرتی تحریر

۔
بھارتی ھائی کمشنر آج بھارت چلا گیا اور عام طور پر دو ممالک نے جب جنگ کرنی ہو تو اپنے اپنے سفیر واپس بلا لیتے ہیں۔ لیکن پاک بھارت کے درمیان ابھی جنگ نہیں ہو گی بلکہ بھارتی ہائی کمشنر چھ ماہ بعد پاکستان واپس آ جائے گا۔ اس لیے کہ ریاست اپنی معیشت بہتر کرنے پہ توجہ ” فوکس "کر رہی ہے اور جنگوں سے معیشت تباہ ہوتی ہے اگر آپ کمزور ملک ہوں ۔ معاشی طور پر پاکستان وہاں کھڑا ہے کہ کھانستے ہوئے بھی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ کرپشن حکمران کرتے رہے اور سزا کشمیریوں کو ملی ۔ بھارت نے انتہائی سوچ سمجھ کر اور پاکستانی کی معاشی کیفیت کو سامنے رکھ کر یہ حرکت کی۔ ہماری معیشت واقعی اس قابل نہیں ہے کہ کسی طویل جنگ کا بوجھ سہار سکے۔
پاکستان سے ایمان کی حد تک محبت کرنے والے کسی ماہرِ معیشت سے پوچھ لیجئے وہ یہی کہے گا کہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا انجر پنجر اتنا ڈھیلا ہے کہ اگر اس پہ تیس روزہ جنگ کا بوجھ ڈال دیا جائے تو پینتیسویں روز اس کی ہڈیاں چٹخ جائیں گی۔ خود چین بھی پاک بھارت جنگ نہیں چاہتا اس لیے کہ چین کو کشمیر سے زیادہ اپنی سرمایہ کاری پیاری ہے۔ چین تاجرانہ زہنیت کا حامل ملک ہے۔ جہاں ایک روپیہ لگائے وہاں سے دس روپے آمدن کی توقع رکھتا ہے اور ایک جنگ زدہ ملک چین کو ایسی آمدن نہیں دے سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک چین نیوٹرل ہے اور جو بیان جاری کیا ہے اس میں بھی پاکستان اور بھارت کو امن اور گفتگو کے زریعے اپنا مسئلہ حل کرنے پہ زور دیا۔ ایسی دوستی جو ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہو وہ اگر امن پہ اصرار کرے تو پاکستان کیا کرے گا؟ جنگ تو ہر گز نہیں۔
زیادہ ملامت کا مستحق ہمارا میڈیا ہے جس نے چین کے بیان کو تروڑ مروڑ کے پیش کیا۔ چین نے لداخ پہ بھارت کے فیصلے کو ناقابلِ قبول کہا ہمارے میڈیا نے اسے کشمیر سے جوڑ دیا۔ یہ وقت گزاری کے حربے ہیں تا کہ عوام کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہےپرانے زخم بھر جاتے ہیں۔ لہٰذا وقت گزارا جا رہا ہے اس اچھل کود کے زریعے تا کہ عوام ٹھنڈے ہو جائیں ۔ وقت گزاری کےلیے امریکہ، اقوامِ متحدہ، او آئی سی سے بیانات جاری کروائے جا رہے ہیں، وہی بیانات جو پچھلے ستر سال سے سن کے ہم خوش ہو تے رہے۔ وقت گزاری کے حربے کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اب تک حکومت نے عوام کو کشمیر پہ اعتماد میں نہیں لیا۔ وزیرِ اعظم یا کسی بھی زمہ دارحکومتی نمائندے نے عوام سے کوئی وعدہ نہیں کیا کہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں والی حیثیت پہ دوبارہ لائیں گے۔ کیا حکومت نے عوام کو کوئی لائحہ عمل دیا ہے کہ کشمیر واپس لینے کےلیے اگر سفارتی کوشش ناکام ہوئی تو ہم جنگ کریں گے؟
کچھ لوگ کہتے ہیں کشمیر میں مجاہدین بھیج دیں تو آزاد ہو سکتا ہے۔ ہم مجاہدین بھیج دیتے ہیں ،پھر؟؟ ہمارے بھیجے گئے مجاہدین وادی میں کتنے ہندو فوجی قتل کر لیں گے؟ پانچ ہزار؟ دس ہزار؟ بیس ہزار؟ پچاس ہزار؟ یعنی کتنے؟ میں واضح کر دوں کہ انیس سالہ طویل جنگ میں ٹی ٹی پی نے ہمارے دس ہزار جوان شہید کیے یعنی گوریلا جنگ کا یہی محاصل ہوتا ہے۔ افغان طالبان کو انیس سال لگے گوریلا جنگ میں امریکہ کو ملک سے باہر نکالنے کےلیے۔ آپ ایف اے ٹی ایف کو سامنے رکھ کےسوچیں کیا پاکستان انیس سال تک کشمیر میں مجاہد بھیج سکتا ہے؟ وہ بھی اس صورت میں جب چین پاکستان اور بھارت کے درمیان امن دیکھنا چاہتا ہو اور ایف اے ٹی ایف کی تلور سر پہ لٹک رہی ہو ؟کشمیر کی واپسی کےلیے اب بیس سے تیس سال انتظار کریں۔ خوش قسمتی سے اگر کوئی اچھی حکومت آ گئی جو پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرے، عالمی سطح پر پاکستان کی اتنی عزت بڑھا دے کہ ہماری رائے کی اہمیت ہو، اور ہم معاشی طور پر ہم اتنے مضبوط ہوں کہ عالمی پابندیوں کی ہمیں کوئی فکر باقی نہ رہے تو کشمیر بیس سے تیس برس بعد ہمیں واپس مل جائے گا۔
بالاکوٹ پہ بھارتی حملے کے بعد آپ نے فورا جواب دیا تھا اس لیے کہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ اگر بھارت کو جواب نہ دیا جاتا تو بھارت ہر چھ ماہ بعد کشمیر میں حملہ کروا کے پاکستان پہ حملے کرتا۔ جہاں بقاء کا مسئلہ ہو وہاں ہم ایٹم بم بھی استعمال کر سکتے ہیں اور کریں گے بھی۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ اب کشمیر ہماری بقا یا زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر بقا کا مسئلہ ہوتا تو پاکستانی وزیرِ اعظم اسمبلی میں سوالات کے جواب میں چار دفعہ یہ نا کہتے کہ "تو اور کیا بھارت پہ حملہ کر دوں” ۔میں یاد کروانا چاہتا ہوں کہ فضل الرحمان نے ایک دفعہ یہ جملہ بولا تھا بس اور پاکستانی قوم نے اس کی مت مار دی تھی۔ یہ جملہ ہماری اسمبلی میں چار دفعہ بولا گیا ہے اب۔ اس لیے مان لیں کہ کشمیر اب پاکستان کےلیے زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کشمیر ہماری بقاء کا مسئلہ ہوتا تو اتنے آرام سے بھارت کشمیر میں ہندو بستیاں بسانے کے منصوبے پہ عمل نا کر پاتا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.