کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر پوری قوم کل جمعہ کو مقبوضہ جموں کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکرے گی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے قوم پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری عوام سے بھرپور اظہار یکجہتی کےلئے نصف گھنٹہ کے لئے سب کام چھوڑ کر باہر نکلیں اور کشمیریوں کو واضح پیغام دیں کہ پاکستانی قوم بھارت کے جبر و فسطائیت، مودی حکومت کے نسل کشی کے ایجنڈا اور خطہ کی حیثیت تبدیل کرنے کے غیر قانونی اقدام کے خلاف کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

کشمیری عوام سے یوم یکجہتی کے حوالے سے جاری پروگرام کے مطابق جمعہ کو یکجہتی آور 12 بجے سے شروع ہو کر ساڑھے 12 بجے تک جاری رہے گا، جس کے آغاز پر ملک بھر میں سائرن بجائے جائیں گے۔ پاکستان اورکشمیر کا ترانہ بجایا جائے گا۔ ترانے بجانے کے دوران 12 بجے سے 12 بج کر 5 منٹ تک تمام ٹریفک رک جائے گی، ٹرینیں ایک منٹ کے لئے کھڑی کی جائیں گی،

پاکستان بھر میں عوام اپنے مقام کار یا جہاں بھی موجود ہوں گے وہ نصف گھنٹہ کے لئے کھڑے ہو جائیں گے اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے۔ وزیراعظم اور چاروں وزراءاعلی اپنے اپنے ارکان پارلیمنٹس کے ہمراہ اپنے متعلقہ سیکرٹریٹ/ آفس کے سامنے جمع ہونے والوں کی قیادت کریں گے جبکہ ملک بھر میں عوام اپنے مقام کار، دفاتر کی عمارتوں، گھروں، مارکیٹوں، شاپنگ مالز سے باہر آ کر قریبی سڑکوں اور گلیوںمیں جمع ہوں گے۔

جمعہ کی نمازوں کے بعد مظلوم کشمیری عوام کے لئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی۔ بعد از نماز جمعہ دو بجے سے شام پانچ بجے تک ملک بھر میں عوامی ریلیاں نکالی جائیں گی جن کے شرکاءپاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم تھامے ہوئے ہوں گے.

پارلیمنٹ سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق کل12بجےپارلیمنٹ ہاؤس کےلان میں وزیراعظم آئیں گے ،12بجے پاکستان کے ترانے کےعلاوہ کشمیرکاترانہ پڑھاجائےگا ،پارلیمنٹ ہاؤس کےلان میں پاکستانی اورکشمیری پرچم لہرائےجائیں گے ،تمام اراکین پارلیمنٹ بھی پارلیمنٹ ہاؤس کےلان میں جمع ہوں گے ،اسکول وکالج کےطالب علم اوراسٹاف بھی احتجاج میں شریک ہوگا ،

دن کے 12 بجتے ہی وفاقی دارالحکومت کی تمام شاہراہوں پر ٹریفک سگنل سرخ ہو جائیں گے۔ قومی ترانے کیساتھ کشمیر کا ترانہ بھی پڑھا جائے گا۔ مرکزی تقریب اسلام آباد کے ڈی چوک میں ہوگی۔

مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کشمیر آور کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ دن کے 12 بجتے ہی ٹریفک سگنل سرخ ہو جائیں گے۔ ملک بھر میں ٹرینیں بھی روک دی جائیں گی جبکہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی موخر کر دیا گیا ہے

حکومت نے فیصلہ کیا کہ کشمیر آور کے لیے وفاقی دارالحکومت کے تمام ٹریفک سگنل دن 12 سے 12 بج کر 30 منٹ تک سرخ رہیں گے۔ ملک بھر میں چلنے والی ٹرینیں بھی رک جائیں گے، ریلوے کے ملازمین بھی کشمیریوں سے یکجہتی کریں گے. تعلیمی اداروں میں بھی طلبا بھر پور طور پر کشمیریوں سے یکجہتی کریں گے

ٹریفک رکتے ہی تمام شاہراہوں پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بھرپور احتجاج کیا جائے گا جبکہ سرکاری ملازمین دفاتر سے نکل کر ڈی چوک میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کریں گے۔ وزرا اور تحریک انصاف کے قائدین بھی ڈی چوک میں جمع ہوں گے جہاں مرکزی اجتماع ہوگا۔

ملک بھر میں علماء کرام کشمیر کے موضوع پر خطبات جمعہ دیں گے. بھارتی جارحیت کی مذمت کی جائے گی اور نماز جمعہ کے بعد بھی بھارتی جارحیت کے خلاف احتجاج کیا جائے گا، مساجد میں مذمتی قراردادیں بھی منظور کی جائیں گے.

اراکین اسمبلی اپنے حلقوں میں احتجاج میں شریک ہوں گے، گاؤں کی سطح پر کشمیریوں سے یکجہتی کے پروگرام ترتیب دئیے گئے ہیں، سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی یکجہتی کشمیر منانے کے لئے متحرک ہیں،

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے زیر صدارت آج اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پنجاب میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی منانے کیلئے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پورے پنجاب میں کل 12 بجے دوپہر کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور طریقے سے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔ لاہور میں مال روڈ کے 3 مقامات فیصل چوک، ریگل چوک اور سول سیکرٹریٹ چوک پر لوگ جمع ہوں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب فیصل چوک میں یوم یکجہتی کشمیر پر لوگوں کے ہمراہ اکٹھے ہوں گے۔ یوم یکجہتی کشمیر پر پاکستان اور کشمیر کے ترانے بجائے جائیں گے جبکہ پنجاب کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز، اضلاع اور تحصیلوں میں بھی دوپہر 12 بجے لوگوں کے اجتماعات ہوں گے اور تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی بھرپور طریقے سے یوم یکجہتی کشمیر منائیں گے۔

جمعہ کے اجتماعات کے بعد ریلیاں نکالی جائیں گی اور لوگ ریلیوں میں پاکستان اور کشمیر کے پرچم لے کر شرکت کریں گے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اپیل کی کہ عوام یوم یکجہتی کشمیر کے اجتماعات میں بھرپور شرکت کریں۔ ہم کشمیر کے عوام کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی جدوجہد آزادی میں تنہا نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے۔

خیبر پختونخواہ کے اراکین اسمبلی بھی خیبر روڈ پر کشمیریوں سے یکجہتی کریں گے.

معروف اینکر ، تجزیہ نگار اور کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہےکہ وہ کل 30 اگست بروز جمعہ دوپہر پونے 12 بجے چیرئ کراسنگ پر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے کشمیری مسملمانوں سے اپنی وفا اور محبت کا بھرپور مظاہر ہ کریں گے

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے حوالے سے معروف اینکر مبشر لقمان نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ اور ان کی تمام صحافی برادری دیگر ہم وطنو کے ساتھ مل کر چیئر کراسنگ کے مقام پر کشمیریوں سے وفاشعاری کا بھرم بھرتے ہوئے سب سے پہلے پاکستان کا قومی پرچم لہرایا جائے گا

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے قومی ترانہ بھی پڑا جائے گا ، معروف اینکر مبشر لقمان نے قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ اس دن وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شہدائے کشمیر کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کہا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اس موقع پر وہ اپنے کشمیری شہداء کے لیے اپنے رب سے دعا گو بھی ہوں‌گے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.