خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ گزشتہ دو روز سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہے، ایک ٹی وی شو سے شروع ہونے والے ڈرامہ ٹویٹر ، فیس بک تک جا پہنچا ہے اور صارفین دو دھڑوں میں بٹے نظر آ رہے ہیں،کوئی کہہ رہا ہے گالی کیوں نہیں نکالی کوئی کہتا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاتا ہے، کوئی کہہ رہا ہے میرا جسم میری مرضی کوئی کہہ رہا ہے میری زبان میری مرضی،

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ یہ اچانک شروع نہیں ہوا، ہمارے ملک میں کچھ لوگوں کو سکون راس ہی نہیں آتا نہ خود سکون سے رہتے ہیں نہ کسی کو رہنے دیتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ سیاسی ماحول ٹھنڈا ہے، پی ایس ایل چل رہا ہے، لوگ ڈپریشن سے باہر آ رہے ہیں بھارتی مظالم کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں لیکن کچھ لوگ چاہتے ہی نہیں کہ سکون سے رہیں، اب خلیل الرحمان قمر نے جو کیا اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، انہیں تھوڑے عرصے کے لئے ٹی وی پر پابندی لگانی چاہئے، کم از کم تین ماہ کی پابندی لگنی چاہئے، رائیٹر کے پاس اسلحہ اس کے الفاظ ہیں، سخت الفاظ میں بات ہو تو لوگ بات کرتے ہیں، جو ادیب ہو، ادب سے تعلق ہو، الفاظ کا ذخیرہ ہوتا ہے وہ الفاظ کی حرمت کا پاس نہ کریں تو بہت غلط ہے، لیکن بدقسمتی کیا ہے، بدقسمتی سے عورت مارچ کو بھی معاشرے میں مردوں سے بغاوت اور نفرت کا سمبل بنا دیا گیا ہے، ہر معاشرے میں اچھے مرد بھی ہوتے ہیں.اگر آپ ایک بری مثال اٹھا کر معاشرے کے تمام مردوں پر لگا دیں تو یہ ٍغلط بات ہے،

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ خواتین بھی بہت زیادہ اچھی ہیں، شاید چند ایک ہوں‌جن پر بات کر سکیں، لیکن بات نہیں کرنی چاہئے، یہ دیکھیں عورت ایک ماں بھی ہے ،بہن بھی ،بیٹی بھی اس کی ہر مرد عزت کرتا ہے،احترام کرتا ہے اور اس کے پیروں کے نیچے جنت تلاش کرتا ہت، اس کا تحفظ کرتا ہے، اس کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اپنی زندگی وقف کر دیتا ہے جبکہ عورت جس کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہوتا ہے، نسل کی پرورش کرتی ہے تا کہ بڑا ہو کر اچھا بھائی، خاوند، بیٹا بنے، اگر عورت مارچ میں اس طرح کے بینر ہوں کہ اپنا ٹائم آ گیا اور اس طرح کے عجیب قسم کے نشان بنے ہوں ، ہاتھوں کے سگریٹ بنے ہوں اس کا کیا مطلب ہے، سگریٹ نوشی سب کے لئے مضر ہے، مجھے حق ہونا چاہئے کہ جو تنخواہ مردوں کو ملتی ہے وہ خواتین کو ملیں لیکن سگریٹ نوشی کی اجازت کیوں؟ سگریٹ نہ مرد کو دیکھتا ہے نہ عورت کو دیکھتا ہے، جو سب سے زیادہ سگریٹ پینے والے لوگ ہیں ان کی زندگی کو کھوکھلا کر دیتا ہے.

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ میرا جسم میری مرضی کا کہا جا رہے کہ مطلب غلط لیا جا رہا ہے،بچوں کی تعداد پر عورتوں کی مرضی ہونی چاہئے،یہ شوہر ،بیوی دونوں کا آپس کا فیصلہ ہے ،لیکن اگر کوئی ایک فیصلہ کر لے تو دوسرے کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے، لیکن اگر پلے کارڈ پر یہ لکھ دیں کہ …میں الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا، جو تصاویر ہیں وہ بھی کسی صورت قابل برداشت نہیں، بے حیائی کو کوئی معاشرہ برادشت نہیں کرتا، دنیا کے کسی ملک میں چلے جائیں جہاں ہر قسم کی آزادی ہے وہاں ان کی روایات ہوں گی اس کے مطابق وہ چلیں گے، مادرپدر آزادی نہیں ہوتی

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ عورت مارچ میں ایک اور پلے کارڈ سامنے آیا تھا کہ کھانا گرم کر دوں گی لیکن…میں پورا بولنا نہیں چاہتا کیوں کہ بچے بھی دیکھ رہتے ہیں، اس کا مطلب کیا ہے ،عورتوں کی برابری کا مطلب یہ نہیں کہ انکو اسلحہ دے کر بارڈر پر بھیج دیا جائے، ان سے ڈھائی من کی آٹے اور سیمنٹ کی بوریاں اٹھوائی جائیں کہ مرد اپنے کام گھر میں خود کر رہا ہے، روزگار کی ٹینشن اب عورت خود لے گی، نہیں ایسا نہیں ہے، دین اسلام سے زیادہ عورت کو حق کسی نے نہیں دیا ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں عورتوں کے حقوق بتائے،

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ پلے کارڈ سے تو یوں لگتا ہے کہ عورت مارچ کا مقصد کچھ اور ہے، ایک شوشہ چھوڑا گیا،پھر عوام کو ہیجان میں مبتلا کرنے کے لئے شوز کرنا شروع کر دئے گئے، شو میں ایک ایسے متنازعہ شخص کو بلایا گیا جو خود عجیب و غریب مخمصے کا شکار ہے، میں اس پر کم ہی بات کروں تو اچھا ہے، بی بی سی اور ٹی وی پر متنازعہ بیان دے کر خود ساختہ دانشور بھی بن گئے، اب وہی خلیل الرحمان قمر عورتوں اور مردوں کے حقوق کا علمبردار بن کر سامنے آ گیا، اب عوام سے ویڈیو میں دعا کی درخواست کر رہے ہیں کہ میرے لئے دعا کرے کہ میں مشن میں کامیاب ہو جاؤں اور بے حیائی کا خاتمہ ہو، یہ عوام کا مسئلہ ہے ہی نہیں اس کو اس میں ایسے ہی لایا جا رہا ہے،عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایک طر مارچ کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے، دوسری طرف خلیل صاحب بے حیائی کو روکنے کے لئے میدان میں نکل پڑے ہیں. جن باتوں کو خلیل صاحب جائز سمجھتے ہیں ہو سکتا ہے لوگ ان کو بھی بے حیائی سمجھتے ہیں،میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں میرے رشتے داروں کے گھر میں بھی ٹی وی دیکھنا منع ہے اور فلم دیکھنا اس کو تو بہت بڑا عیب سمجھا جاتا ہے،خلیل کہتے ہیں فلم لکھی ،اچھی لکھتا ہوں.

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ قانون سوسائٹی کے لئے بنا ہوتا ہے کسی ایک شخص کے لئے نہیں، یہ ایک سازش ہے عوام کو ایسے الجھا دیا گیا جو عوام کا مسئلہ ہی نہیں، دوسری طرف عورت مارچ کے نعرے دیکھ لیں، طلاق یافتہ لیکن خوش، ان نعروں کی اخلاقیات اجازت نہیں دیتی، عورت مارچ والوں سے پوچھا جائے کہ ان کے مقاصد کیا ہیں، فنڈڈ این جی اوز، پیسہ لے کر میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگا کر اس ملک کی عورتوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہے، یہ نہ تو سماجی مسائل، نہ معاشی مسائل کا حل ہے،وہ خواتین جو ڈرائیور کے بغیر گھر سے نہیں نکلتی، انہیں یہ معلوم نہیں کہ دوران زچگی کتنی خواتین مر جاتی ہیں اب وہ خواتین کے حقوق مانگ رہی ہیں،میں دیکھتا ہوں کہ ابھینندن پکڑا جاتا ہے ،کلبھوشن پکڑا جاتا ہے توچند خؤاتین پلے کارڈ لے کر آ جاتی ہیں اور ان کے حق میں احتجاج کرتی ہیں،لیکن جب کشمیر میں 18 ہزار بچیوں کی عصمت دری ہوئی تو ان پر تو کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی، عورت مارچ والوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا،اب بھارت میں جو ہو رہا ہے، دہلی میں شاہین باغ میں جس طرح عورتوں کی بے حرمتی کی گئی اس پر کیوں نہیں بولتے، ہم محدود کیوں ہو گئے ،کیا وہ عورتیں نہیں ، کیا ان کے حقوق نہیں، پاکستان ان ممالک میں ہے جہاں عورت کو چیف ایگزیکٹو بنا یا گیا ، پاکستان میں عورت کو وہ مسائل نہیں جو دیگر ممالک میں ہیں، یہاں ورکنگ وومین کے مسائل کا کسی کو پتہ نہیں، خواتین کے اصل مسائل کے حل میں رکاوٹ یہ خود ہیں، گزشتہ برس عورت مارچ کو دیکھئے کہ یہ عورت کو بنانا کیا چاہتے ہیں، ایسے مارچ کرنا خواتین کی بھی تذلیل ہے، جن کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے، تیزاب پھینکا جاتا ہے کیا ان کے لئے آواز نہیں اٹھانی چاہئے،

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ عورت مارچ والوں سے سوال پوچھنا چاہئے کہ لبرلز ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنی زبان کو بد زبان کر لوں،میں کپڑے اتار کر شو کرنا شروع کر دوں ،کہ میں لبرل ہوں جو دل میں آئے کروں، یہ آزادی کی بات نہیں، رضیہ سلطانہ جیسی عورت کا کیا جس نے خود کو بغیر آوارہ کہے پورے برصغیر پر حکومت کی،فاطمہ جناح جنہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا، پاکستان بنانے میں مردوں سے زیادہ خواتین کی محنت تھی، محنت کر کے جو خواتین چولہا جلاتی ہیں ان کے مسائل کا ذکر سامنے نہیں آیا، کیا یہ سازش ہے؟ اس کو ختم کرنا ہو گا، ہمیں برداشت کا مادہ ہاتھ سے نہیں چھوڑنا، مرد ہے جو خواتین کی عزت بناتا ہے اور عورت مرد کی طاقت بناتی ہے یہی خوبصورتی ہے، جن الفاظ کا چناؤ خلیل الرحمان قمر نے کیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس تقسیم کی ایک اور بڑی وجہ ہے ماروی سرمد اور خلیل الرحمان قمر کی ٹویٹس دیکھیں، انہوں نے جو ٹاک شو پر بات کی یہ ظلم ہو گیا، اس کو نہیں ہونا چاہئے، ناشائستہ گفتگو کی معاشرے میں اجازت نہیں ہو سکتی.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.