خوشی اور خوشگوار زندگی…!!! تحریر:جویریہ بتول

خوشی اور خوشگوار زندگی…!!!
(تحریر:جویریہ بتول)
یہ بات طے اور مسلمہ ہے کہ خوشی کا تعلق مکان و اموال سے نہیں ہے بلکہ خوشی کا راز دل کی کیفیت میں پوشیدہ ہے…
جتنا آپ کا دل مطمئن ہوتا ہے،خوشی کے آثار آپ کے چہرے،انداز اور زندگی کے ہر پہلو سے جھلکتے دکھائی دیتے ہیں…
خوشی پھول نہیں کہ تم سونگھ لو…
اگر دل اداس ہے تو پھول کو چھُو کر بھی راحت نہیں ملتی…
عموماً ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس جتنے زیادہ مکانات ہوں گے،بینک بیلنس ہو گا،سہولیات،مرغوبات اور ہر پسندیدہ چیز ہو گی ہم تب خوش رہ سکتے ہیں؟
ایسا بھی نہیں ہے،بلکہ انہی چیزوں کی زیادتی ہمارے فکر و اندوہ میں اضافے کا باعث ہے…
ہماری ذہنی تناؤ کو بڑھاوا دیتی ہے…
یہ چیزیں نعمتیں ضرور ہیں،مگر ان میں نعمتیں عطا کرنے والے کی رضا کو تلاش کر ہی ہم اپنے لیئے باعثِ سکون بنا سکتے ہیں…
حقیقت میں وہ دل خوش رہ سکتا ہے جو ایمان کی قوت سے بھر پور ہو…
راضی بقضا رہے…
ملی نعمتوں پر شکر گزاری کے جذبہ سے لبریز…
اور عدم موجود پر صبر کے ساتھ پُر اُمید ہو…
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
"اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھیئے،دنیاوی زندگی کی شان و شوکت کو جو ہم نے اُن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے،وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیئے دی ہے اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے…”
(طٰہ:131)۔
خوشی کا معیار اور زندگی میں خوشگواری کا حصول،بڑائی،ظاہری ٹیپ ٹاپ اور دنیاوی مال و متاع کی زیادتی میں نہیں ہے…
آپ اکثر مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ بڑے بڑے بنگلوں اور مال والے کسی نہ کسی ذہنی کوفت میں مبتلا ہوں گے اور دو وقت کی روٹی بمشکل حاصل کرنے والوں کے انداز،گفتگو اور اطمینان سے خوشی چھلک چھلک کر دکھائی دیتی ہو گی…!!!

خوشی آپ تب پا سکتے ہیں جب آپ کے دل میں کسی کے معاملات کا رنج نہ ہو…
کوئی کیا کر رہا ہے،کیوں کر رہا ہے؟
کسی کے رزق پر آپ حسد اور بغض کا شکار نہیں ہوں گے بلکہ یہ بات ذہن میں لے آئیں کہ وہ آپ کے کسی کام کا نہیں ہے،نہ آپ کو وہ ملنے والا ہے…
بس آپ کے پاس جو روکھا سوکھا ہے وہ پرفیکٹ ہے…
یہ دنیا ہے…نشیب و جس کا مقدر ہیں…
نفس میں عاجزی سے خوشی نصیب ہوتی ہے،
اسے گمنام رکھنے سے روحانی بالیدگی ملتی ہے…
بناوٹ اور تکبر سے اکڑے درختوں کو ہی تند و تیز ہوائیں جلد اُکھاڑ دیتی ہیں…
یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ تقدیر ہمیشہ ہماری خواہشات کے عین مطابق نہیں ہو سکتی…
یہ ہمارا قصور ہو گا کہ ہم اُسے نہ مان کر خود کو ہمیشہ کے لیئے افسردہ کر لیں،ساری زندگی بددلی اور شکوؤں کی نذر کر ڈالیں…
دل تب بھی خوشی کے سمندر میں موجیں مارتا ہے جب ہم اپنی خوشی کے ساتھ لوگوں کی بھی بھلائی اور خوشی چاہیں…
شاعر کہتا ہے:
"میرے اور میری زمین پر وہ بادل نہ برسیں،جو سارے ملک کو سیراب نہ کرتے ہوں…”
ہر وقت صرف اپنے ہی غم میں گھلتے چلے جانا اور اس بات کا حسد رکھنا کہ میرے جیسی نعمت،سہولیات اور صلاحیتیں کسی اور کو نہ ملنے پائیں تو یہ چیز بھی خوشی کو ہمیشہ کے لیئے ہمارے آنگن سے رخصت کر دیتی ہے…!!!
برائی کا بدلہ اچھائی سے دینے،ترشی کے مقابل نرمی اپنانے اور غرور کے مقابل تواضع بھی خوشی لاتی ہے…
لوگوں کے رویوّں پر کڑھنے کی بجائے وہ جس حال میں ہیں،انہیں قبول کرنے سے بھی خوشی کا حصول ممکن ہے…
مثالیت میں پڑنے کی بجائے حقیقت کے ساتھ جینے میں بھی خوشی کا گہرا راز ہے…!!!
عارضی خوشی کے پیچھے دائمی خوشی ضائع نہ ہونے دیں…
دائمی اور کامل خوشی کیا ہے ؟
یہ کوئی برائی اس کے حسین چہرے پر چھینٹے نہ پڑنے دے…
آپ سلاخوں کے پیچھے باہر کی دنیا کو دیکھ کر مسکرائیں…
آپ شر میں بھی خیر ڈھونڈنے والے ہوں…
آپ راضی بالقضا ہوں…
آپ میسر پر مشکور ہوں…
آپ پانے کے لیئے پر اُمید ہوں…
آپ پتھر دیکھ کر دلبرداشتہ ہو کر سفر ہی ترک کر دینے کی بجائے اُسے تراش کر رستہ بنائیں…
آپ تنقید کے پتھروں پر برہم ہو جانے کی بجائے انہیں سے آگے نکل جانے کا برج تعمیر کریں…
زندگی کے سفر میں رب کی رضا کو نصب العین بنا لیں…
تو آپ کا ہر لمحہ خوشی و رضا اور اطمینان و برکت سے بھر پور گزرے گا…!!!
اپنے ٹارگٹ پر نظر کریں اور اس کی تکمیل اور خوشی میں دوسروں کو بھی شامل کریں…
کسی کی راہ میں روڑے ڈالنے اور کسی کی خوشی پر رنجیدہ ہونا چھوڑ دیں…
خوشی کے حصول کے یہی آسان سے فارمولے ہیں…
کیونکہ لاریب خوشی کا تعلق ظاہر و باہر سے نہیں بلکہ اندر کی کیفیات سے ہوتا ہے،اور پھر ہم باہر کی دنیا کو بھی اُسی آئینہ میں دیکھنے لگ جاتے ہیں…!!!!!!
===============================
(جویریات ادبیات)۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.