fbpx

کیا ہم مسلم فیملی لاء میں ایک فرقہ اہل تشیع کے لیے قانون سازی کریں؟ بیرسٹر علی ظفر

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں حکومت کمیٹی کومسلم فیملی لاز میں ترمیم پر قائل نہ کرسکی
چیرمین کمیٹی اور اپوزیشن کے سینیٹرز نے فرقہ ورانہ بنیادیوں پر قانون سازی کی مخالفت کردی
قرفہ ورانہ بنیادوں پر قانون سازی نہیں ہونی چاہیے آج ایک فرقہ کے لیے قانون سازی کررہے ہیں کل دوسرا آجائے گا ،ارکان کمیٹی
کمیٹی نےخواتین کی جائیداد حقوق کے نفاذ(ترمیمی) بل2021 کثرت رائے سے منظور کر لیا،
رضاربانی کے بل پر بات کرنے کے دوران مزید قانون فروغ نسیم کے مسکرانہ پر برہم ہوگئے بل پر بات کرنے سے انکارکردیا ،
فروغ نسیم نے معانی مانگ لی ،ہسی مذاق ارکان کمیٹی کرسکتے ہیں تو مجھے بھی اجازت ہونی چاہیے ۔فروغ نسیم
اعلیٰ ججوں و ماتحت عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کے طریقہ کار پر نظرثانی کی ضرورت ہے،چیرمین کمیٹی

اسلام آباد (رپورٹ.محمداویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں حکومت کمیٹی کومسلم فیملی لاز میں ترمیم پر قائل نہ کر سکی چیرمین کمیٹی اور اپوزیشن کے سینیٹرز نے فرقہ ورانہ بنیادیوں پر قانون سازی کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ قرفہ ورانہ بنیادوں پر قانون سازی نہیں ہونی چاہیے آج ایک فرقہ کے لیے قانون سازی کررہے ہیں کل دوسرا آجائے گا قانون کوفرقہ ورانہ رنگ نہ دیاجائے ،قرقہ ورانہ قانون سازی خطرناک چیزہے اس نے مزیدپولریزیشن ہوگی ،کمیٹی نےخواتین کی جائیداد حقوق کے نفاذ(ترمیمی) بل2021 کثرت رائے سے منظور کر لیا،رضاربانی کے بل پر بات کرنے کے دوران مزید قانون فروغ نسیم کے مسکرانہ پر برہم ہوگئے بل پر بات کرنے سے انکارکردیا ،فروغ نسیم نے معانی مانگ لی ،ہنسی مذاق ارکان کمیٹی کرسکتے ہیں تو مجھے بھی اجازت ہونی چاہیے ۔

چیرمین کمیٹی علی ظفر نے کہاکہ اعلیٰ ججوں و ماتحت عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کے طریقہ کار پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ 1839سے لے کر 2021تک قانون ویب سائٹ پر ڈال دئیے ہیں کوئی بھی شخص ویب سائٹ پر جاکر دیکھ سکتا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر علی ظفر کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں ارکان کمیٹی اعظم نذیر تارڑ ، میاں رضا ربانی، ہمایوں مہمند، مصدق ملک، فاروق ایچ نائیک، ولید اقبال اور شبلی فراز نے شرکت کی جبکہ وفاقی وزیر برائے قانون فروغ نسیم اور پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون ملیکہ بخاری بھی اجلاس میں شریک ہوئے، اجلاس میں وزارت قانون و انصاف کے کام اور کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، چیرمین کمیٹی سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ ججوں کی تعیناتی میں مسائل ہیں ان کو حل کرنے کی ضرورت ہے اعلیٰ ججوں و ماتحت عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کے طریقہ کار پر نظرثانی کی ضرورت ہے

سینیٹرفاروق نائیک نے کہاکہ نیب کورٹ ہائیکورٹ کے انتظامیہ نگرانی میں نہیں آتے ہیں باقی عدالتوں میں کرونا کی وجہ سے چھٹی تھی جبکہ نیب کی عدالتیں چل رہی تھیں ہائی کورٹ کے جج سے پوچھا تو انہوں نے کہاکہ یہ عدالتیں (نیب کورٹس) ہماری انتظامیہ نگرانی میں نہیں آتی ہیں ۔شبلی فراز نے سوال کیا کہ یہ آج سے ہیں یا کب سے اس طرح چل رہی ہیں۔جس پرفاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سیاست نہ کریں،یہ 1999 سے ہے جب پرویز مشرف یہ قانون لایا،یہ قانون آج تک پارلیمنٹ نے پاس ہی نہیں کیا ،جتنی ترامیم ہوئی 2002 میں مشرف نے کی ہیں۔

وزیرقانون فروغ نسیم نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ شروع سے ہی اس طرح ہیں ان کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور نیب عدالتوں کوہائی کورٹ کی انتظامی نگرانی میں دینے کی ضرورت ہے ۔فروغ نسیم نے کہاکہ وزارت قانون میں سیاسی تقرریاں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے مسائل آتے ہیں اچھا وزیر قانون ہوتاہے تو وہ اچھا سیکرٹری بھی لے آتا ہے ۔حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ وزارت قانون وانصاف نے 1839سے لے کر 2021تک قانون ویب سائٹ پر ڈال دئیے ہیں کوئی بھی شخص ویب سائٹ پر جاکر دیکھ سکتا ہے ۔فروغ نسیم نے کہاکہ اب وکیلوں کوموٹی موٹی کتابیں دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے سب کچھ ایک ویب سائیٹ پر دستیاب ہوگیاہے ۔

اجلاس کے دوران مسلم فیملی لاز(ترمیمی) بل (دفعہ چار کی ترمیم) اور مسلم فیملی لاز(ترمیمی) بل (دفعہ سات کی ترمیم ) کی ترمیم کا جائزہ لیا گیا، دونوں بلوں پر تفصیلی بحث کی گئی ، چیئرمین کمیٹی سینیٹرعلی ظفر نے کہاکہ یہ ایجنڈا بہت اہم ہے ۔شیعہ بیوہ کو جائیداد میں حصہ دینے کے حوالے سے ہے اس قانون کے تحت1/4جائیداد میں حصہ ملے گا اس کو زمین نہیں بلکہ اس کی رقم ملے گی ۔اگر جھگڑا ہو گا تو معاملہ عدالت میں جائے گااور اسلامی نظریاتی کو نسل بھی یہ جاسکتا ہے ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک فرقہ کے لیے قانون سازی ہورہی ہے ۔کیا ہم مسلم فیملی لاء میں ایک فرقہ کے لیے قانون سازی کریں؟ کیا یہ ہونا بھی چاہیے کہ نہیں؟ یہ فرقہ ورانہ قانون بن رہاہے ۔کیا اس پرعلماء کو بلائیں ان کو سنیں کہ نہیں ؟ یہ خطرناک چیز ہے جس کے بارے میں ہم قانون بنائیں گے ۔ڈرفٹ میں لیگل نقائص ہیں ایک جگہ شیعہ لکھاہے دوسری جگہ اہل تشیع اور تیسری جگہ فقہ جعفریہ کالفظ استعمال کیا گیا ہے ۔

سابق چیرمین سینٹ رضا ربانی نے کہاکہ میں آپ کے ساتھ سوفیصد اتفاق کرتا ہوں ۔ اس طرح کی ترمیم سے پولریزیشن ہوگی ۔اس سے پنڈورا بکس کھل جائے گا ۔آج ایک فرقہ کے لیے قانون سازی کریں گے تو کل دوسرا آجائے گا ۔یہ ترمیم ایرانی قانون سے لائی گئیں ہیں۔سینیٹراعظم نزیر تاڑر نے کہ قانون کو قرقہ ورانہ رنگ نہیں دینا چاہیے ۔ہر فرقہ کے اندر مزید فرقہ ہیں ۔

سینیٹرفاروق ایچ نائیک نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے مسلم فیملی لاء کو ٹھیک مانا ہے ۔یہ دونوں بل واپس لیے جائیں۔سینیٹر ولید اقبال نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس قانون کو ٹھیک قراردیا ہے ۔بل پر سینیٹرز کے اتفاق رائے نہ ہونے پر چیرمین کمیٹی نے ایجنڈا نمبر4 جوکہ خواتین کی جائیداد حقوق کے نفاذ(ترمیمی) بل2021 کے حوالے سے تھا وہ لے لیا۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ یہ بل ہم پاس کرسکتے ہیں خواتین کو جائیداد میں حصہ نہیں دیتے ہیں اس حوالے سے یہ بل ہے ۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاکہ خواتین کے جائیداد میں حصہ کے حوالے سے بل قومی اسمبلی میں پاس ہوگیا ہے صدر کو اپیل اصل بل میں تھا مگر ڈرافٹ میں رہ گیا تھا ۔ اس لیے یہ ترمیم لائے ہیں ۔بل پر سابق چیرمین سینیٹ میان رضا ربانی بات کررہے تھے جس پر وزیر قانون مسکرادئیے جس پر رضاربانی غصہ میں آگئے اور کہاکہ میں بل پر بات نہیں کروں گا وزیر قانون میری بات پر مسکرا رہے ہیں میں اب اس پر بات نہیں کروں گا میں نے دھوپ میں بال سفید نہیں کئے مجھے پتہ ہے وہ کیوں مسکرائے جس پر وزیرقانون فروغ نسیم نے کہاکہ میں معافی مانگتا ہوں کمیٹی میں ہنسی مذاق کا ماحول ہے اگر سب ہسی مذاق کرسکتے ہیں تو میں کیوں نہیں کرسکتا ہوں ۔مزید بحث کے بعد بل خواتین کی جائیداد حقوق کے نفاذ(ترمیمی) بل2021 کمیٹی نے کثرت رائے سے پاس کردیا۔

فروغ نسیم نے مسلم فیملی لاز(ترمیمی) بل (دفعہ چار کی ترمیم) اور مسلم فیملی لاز(ترمیمی) بل (دفعہ سات کی ترمیم ) کی ترمیم کے حوالے سے کمیٹی کوبتایاکہ شیعہ بیوہ کو جائیداد میں حصہ دینے کے حوالے سے بل اہم ہے ۔اسلامی نظریاتی کونسل کے شیعہ رکن نے بھی اس کو درست کہاہے ۔یہ غریب اہل تشیعوں کا مسئلہ ہے امیروں کو حصہ مل جاتاہے ۔ اس بل پر کسی ایک اہل تشیع عالم نے مخالفت نہیں کی ۔ اس ترمیم سےغریب بیوئوں کو فائدہ ہوگا ۔اس طرح کے کیس کے فیصلوں میں 15 سال سے زائد کا عرصہ لگ جاتا ہے ۔ طیبہ خانم نے بھی اس ترمیم کی حمایت کی ۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بھی اہل تشیع علماء آئے اور اس پر واضح موقف دیا ۔ اس ترمیم کا مقصد خواتین کو حق دینا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے دونوں بلوں کو مزید غور کے لیئے آئندہ کے لیئے موخر کر دیا۔