بشریٰ، ارسلان آڈیو لیک: کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کا کام تفتیش کرنا ہے؟ جسٹس عامر فاروق

0
36

اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور تحریک انصاف سوشل میڈیا کے ہیڈ ڈاکٹر ارسلان خالد کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو لیک پر جسٹس عامرفاروق نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کا کام تفتیش کرنا ہے؟

عدالت نے مزید کہا: اگر اس طرح آڈیو کالز پر تفتیش کرنا شروع کردیں تو اس میں پورا پاکستان آجائے گا کیا ہم سب پھر بیٹھ کر تفتیش کرتے رہیں؟
بشریٰ بی بی اور ارسلان خالد کی مبینہ آڈیو لیک کی تحقیقات کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ دو پرائیویٹ لوگوں کی گفتگو پر عدالت رِٹ کیسے جاری کرے؟

 ‏اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست گزار کے وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ایک آڈیو لیک ہوئی، آپ چاہتے ہیں ہم تفتیش کریں، جو لوگ آڈیو لیک سے متاثر ہوئے کیا انہوں نے کسی فورم پر درخواست دی ہے؟
جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ایسی رِٹ آئیندہ ڈرافٹ کرتے وقت سوچ سمجھ کر کیا کریں کہ مانگ کیا رہے ہیں.

واضح رہے کہ: گزشتہ دنوں وکیل محمد آصف گجر کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں درخواست گزار نے وزارت داخلہ، وزارت اطلاعات، چیئرمین پیمرا، پی آئی ڈی، ایف آئی اے، انٹیلی جنس بیورو اور اسٹیٹ بینک کو فریق بنایا تھا۔
درخواست نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ آڈیو لیک کی فارنزک تحقیقات کرے۔

Leave a reply