مسلم دنیا کے اسرائیل سے تعلقات میں بڑھتا ہوا رجحان ایسے میں کیا پاکستان کو بھی اسرائیل سے بات کرنی چاہیے ؟

پاکستا نیوں کا کہنا ہے کہ کوئی شخص بھی نہیں مانے گا کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کریں خواہ وہ عرب دنیا استوار کرے یا پاکستان کی جانب سے ایسی صورتحال بنے پاکستان اگر اکیلا رہ بھی گیا تو پاکستان دنیا کے اوپر آخری ریاست ہو گی جو اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرے گی-پاکستان کبھی اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کر سکتا-مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مذاکرات فلسطین کی آزادی کے لئے ضرور کرنے چاہیئں چونکہ یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے-

باغی ٹی وی : یو اے ای اور اسرائیل کے تعلقات کے بڑھ رہے ہیں اور سعودی عرب اور اسرائیل کے بارے میں خبریں سامنے آ رہی ہیں جن کی سعودیہ تردید بھی کر چکا ہے لیکن اگر کشمیر کے موقف پر انڈیا سے بات کی جا سکتی ہے تو کیا ایسی وجہ ہے کہ فلسطین کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ بات کیوں نہیں کی جا سکتی وزیر اعظم عمران خان نے اسرائیل کے بارے میں اپنا کُھلا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک کہ فلسطین کو آزاد ریاست بنانے کے اقدام نہیں اٹھائے جاتے-

سینئیر وکیل صحافی اور ہیومن رائٹ ایکٹیوسٹ اشرف آسمی کا باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فلسطین والا معاملہ ہے کہ ہماری بیت المقدس ان کے قبضے میں ہے قائد اعظم نے بھی اس حوالے سے بہت شدو مد کے ساتھ فلسین کی حمایت کی تھی عرب ممالک غداری کرنے پر اتر آئے ہیں عرب ممالک نے کبھی بھی امت مسلمہ کے لئے کوئی کام نہیں کیا مسلمانوں کو کوئی بھی مسئلہ بنتا ہے جیسا کہ ناموس رسالت کے حوالے سے اور فرانس کے حوالے سے بات آئی تو آپ کوبس پاکستان اور ترکی ہی مسلم ممالک نظر آئیں گے جو اس حوالے سے ہر اول دستے کے علمبردار ہوتے ہیں-

انہوں نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عرب حکمران انگریزوں کے خود کاشت پودے ہیں اگر عرب چاہے تو چند ہفتہ میں فلسطین آزاد ہو جائے گا لیکن عرب امریکہ کے بھی حاشیہ نشین بنے ہوئے ہیں اور امریکہ اور اسرائیل ایک ہی چیز ہے جہاں تک کشمیر کی بات ہے کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے اگر ہم اس حوالے سے بات کرتے ہیں تو اس کی بیک گراؤنڈ کچھ اور ہے اور اسرائیل والے مسئلے کی بیک گراؤنڈ مختلف ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ کوئی شخص بھی اس بات کو نہیں مانے گا کوئی شخص بھی نہیں مانے گا کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کریں خواہ وہ عرب دنیا استوار کرے یا پاکستان کی جانب سے ایسی صورتحال بنے کیونکہ جو اسرائیلی ہیں وہ ہمارے فلسطینی بھائیوں کے دشمن ہیں اور ہامری مقدس سر زمین پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے اگر ہم ان سے مذاکرات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے ان کا وجود وہاں پر تسلیم کر لیا ہے-

انہوں نے کہا کہ منافقت اور مصلحت میں فرق ہوتا ہے ان دونوں کو جوڑیں نہ فلسطین والا معلامہ یہ ہے کہ جب اسرائیل فلسطینی علاقوں کو نہیں چھوڑتا ڈائیلاگ کرنے کا مطلب ان کے وجود کو تسلیم کرنا ہے یہود و نصاریٰ تو کہتے ہیں پاکستان ہمارے سامنے بھیگی بلی بن کر رہیں –

ڈاکٹر حیات کلاسن سینئہر وکیل سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ بات یہ ہے کہ یہ دو مختلف چیزیں ہیں ایک اسرائیل کو تسلیم کرنا اور ایک ہے مذاکرات کرنا وہ بھی آزادی کے لئے اور فلسطین کی آزادی کے لئے یہ دو مختلف چیزیں ہیں اس کے لئے مذا کرات بہت ضروری ہیں مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں فلسطین کی آزادی کے لئے مذاکرات ضرور کرنے چاہیئں چونکہ یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہےانہوں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار مکہ مشرکین یہود و نصاریٰ اور وہ قبائل جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور اسلام کو نہیں مانا ان کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف مذاکرات کئے ہیں بلکہ ان کے ساتھ معاہدے بھی کئے ہیں اور تحریری معاہدے کئے ہیں یہ سنت ہے ہمارا مقصد فلسطین کی آزادی ہے اگر فلسطین کو مذاکرات کرنے سے آزادی ملتی ہے تو مذاکرات ضرار کرنے چاہیئں ہمیں ہماری مسجد اقصی مل جائے گی مسلمان اور فلسطینی آزاد ہو جائیں گے اور تھرڈ وار کا مسئلہ بھی پوری دنیا سے ہٹ جائے گا-انہوں نے کہا کہ میں پوری امت مسلمہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اسرائیل سے مذاکرات کر کے فلسطین کو آزاد کرائے-

راکان گروپ آف سکول کے پرنسپل انجینئیر فہیم ارشد نے اس حوالے سے باغی ٹی وی سے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ریاست ہے جو اسلامی ریاستوں میں ایک نظریے پر قائم ہوئی اور وہ نظریہ یقینی طور پر پہلا کلمہ طیبہ ہے پاکستان کا نظریہ اسلام کا نظریہ ہے اور اسلام کا نظریہ پاکستان کا نظریہ ہے پاکستان جیسی نظریاتی ریاست کوہر گز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اسرائیل جسی ناپاک ریاست کے وجود کو تسلیم کرے کیونکہ اگر پاکستان اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کرتا ہے تو نہ صرف یہ فلسطین کے معصوم بچوں کے خون سے غداری ہو گی بلکہ ان ہزاروں لاکھوں مسلمان شہیدوں کے خون سے بھی بے وفائی ہو گی جنہوں نے آزادی کی تحریک کو زندہ رکھنے کے لئے اتنے سالوں میں اپنی مائیں اور بچے قربان کئے ہمیں ہر گز معاشی چیزوں کو مدنظر نہیں رکھنا چاہیئے اس معاملے میں جب غیرت مسلم شامل حال ہو جب ایک مسلمانوں کے کون کے سودے کی بات ہو تو سب سے پہلے ہمیں مسلمانوں کے خون کی حرمت کے بارے میں سوچنا چاہیئے کیونکہ ایک مسلمان کے خون کی قیمت کعبے کی حرمت سے بھی بڑھ کر ہے اس لئے عرب حکمرانوں کو بھی اس بات کو سوچنا چاہیئے نادان جھک گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا تو اس وقت قیام پر ہی رہیں سجدے میں نہیں جھکنا چاہیئے معاشی چیزوں سے ہٹ کر اہل عرب کواپنی غیرت اور اہمیت کو جھنجو ڑنا چاہیئے بات ہر اس خطے کی ہونی چاہیئے جہاں پر بھی مسلمانوں پر ظلم و ستم کئے جا رہے ہیں بات لیبیان عراق فلسطین اور کشمیر کے معاملے پر بھی ہو نی چاہیئے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.