fbpx

خیبر پختونخواہ کے علاقے میں قدیم ہندو مندر مشتعل افراد نے جلا دیا

خیبر پختونخواہ کے علاقے میں قدیم ہندو مندر مشتعل افراد نے جلا دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختوںخواہ کے علاقے کرک میں مشتعل افراد نے ہندوؤں کے ایک مندر کو جلا کر مسمار کر دیا،

کرک کے علاقے ٹیری میں قائم قدیم ترین ہندو مندر میں توسیعی کام جاری تھا کہ سینکڑوں مشتعل افراد وہاں پہنچے اور مندر کو آگ لگادی، جس کے بعد عمارت کے زیادہ تر حصے کو بھی مسمار کردیا گیا، مشتعل افراد کئی گھنٹوں تک مندر کے اطراف موجود رہے۔

اس موقع پر مقامی پولیس بھی موجود تھی لیکن پولیس نے کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا،پولیس خاموش تماشائی بنی رہی

ہندو رہنما روہت کمار ایڈووکیٹ نے الزام لگایا کہ علاقہ مکینوں نے امن معاہدے اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مندر کو مسمار کیا ہے۔

دوسری جانب مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہندو برادری نے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے مندر میں توسیعی تعمیرات شروع کی تھیں، جس کے حوالے سے مقامی پولیس کو بھی آگاہ کیا گیا مگر انہوں نے غیرقانونی تعمیرات نہیں رکوائیں۔ پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کرنے پر علاقہ مکین مشتعل ہوئے اور مندر پر حملہ کردیا۔

واقعے کے دوران پولیس کہیں نظر نہیں آئی تاہم کافی دیر بعد بھاری نفری علاقے میں پہنچی اور مشتعل افراد کو منتشر کرکے حالات پر قابو پالیا

کرک کے علاقہ ٹیری میں مندر کو آگ لگانے اور مسمار کرنے کا واقعہ ،وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا ،پولیس کو واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری کاروائی عمل لاکر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا

دوسری جانب وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ اور پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کرک میں مندر کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور کرک کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ملوث ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کرک کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق ملوث عناصر کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔