لاہور ڈی ایچ اے حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائے،وزیر اعلی پنجاب

0
96

لاہور ڈی ایچ اے حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائے وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی کی لواحقین سے ملاقات کے دوران گفتگو،وزیر اعلی محسن نقوی نے کہا کہ مقدمہ میں قتل کے دفعات شامل کئے گئے ہے کیونکہ یہ حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی شازش تھی جس کے تحت پورے خاندان کو موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا،
لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 7 میں تیز رفتار کار کی ٹکر سے 6 افراد کی موت کے مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر دی گئی، واقعے کی تفتیش بھی تبدیل کر کے ڈی ایس پی کاہنہ کو مارک کر دی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کم عمر ڈرائیور افنان شفقت کی گاڑی کی ٹکر سے ایک ہی گھرانے کے 6 افراد جاں بحق ہونے کے واقعے کے مقدمے میں دفعہ 302 بھی شامل کر دی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ 302 کی تفتیش کے لیے ملزم افنان کی طلبی کرائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد کے ورثا نے ملزم پر انہیں ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا، ان ذرائع نے مزید بتایاکہ واقعے کی تفتیش بھی تبدیل کردی گئی ہے، واقعے کی تفتیش اب ڈی ایس پی کاہنہ کو مارک کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ کار کی ٹکر سے 2 بچوں سمیت 6 افراد کے جاں بحق ہونے کا واقعہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب پیش آیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم افنان مقدمہ درج ہونے کے بعد جیل جا چکا ہے۔ دوسری جانب6 افراد کی ہلاکت کے مقدمے کے ملزم افنان شفقت نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا، درخواست میں نگران وزیراعلیٰ، سی سی پی او لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
کمسن ملزم افنان شفقت نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ مجھے تحفظ فراہم کیا جائے، درخواست میں فریق بنائی گئی تمام شخصیات کو عدالت طلب کرے۔

تحقیقات میں حیران کن انکشافات

لاہور کے علاقے ڈیفینس فیز 7 میں تیز رفتارگاڑی کی ٹکر سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد کی موت کے کیس میں تحقیقات کے دوران نئے انکشافات سامنے آئے تھے۔
ذرائع پنجاب حکومت کے مطابق کم عمر ڈرائیور افنان کی حادثے سے قبل جاں بحق افراد کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی، افنان وائی بلاک سے گاڑی میں بیٹھی خواتین کا کافی دیر تک پیچھا کرتا رہا، متاثرہ گاڑی کے ڈرائیور حسنین نے کئی بار گاڑی کی اسپیڈ تیز کی کہ افنان پیچھا چھوڑ دے لیکن ملزم افنان نے گاڑی کا پیچھا نہیں چھوڑا اور مسلسل خواتین کو ہراساں کرتا رہا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ وائی بلاک نالے پر متاثرہ گاڑی کے ڈرائیور حسنین نے گاڑی روک کر افنان کو ڈانٹا، دوسری گاڑی سے حسنین کے والد نے بھی ملزم افنان کو سمجھایا کہ خواتین کو ہراساں مت کرو، اس دوران ملزم افنان دھمکیاں اور گالیاں دیتا رہا اور کہتا رہا میں دیکھتا ہوں تم لوگ ڈیفینس میں گاڑی اب کیسے چلاتے ہو۔
ذرائع پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ حسنین اپنی بہن اور بیوی کو لے کر آگے نکلا تو ملزم نے دوبارہ پیچھا شروع کر دیا، مکڈونلڈ چوک پر گھوم کر ملزم افنان نے 160 کی اسپیڈ سے گاڑی خواتین والی گاڑی سے ٹکرا دی، حادثے کے بعد حسنین کی گاڑی 70 فٹ روڈ سے دور جا گری اور سوار تمام افراد جاں بحق ہو گئے،

Leave a reply