اسٹیبلشمنٹ کی موجودہ لیڈر شپ انتہائی دیانتدار اور آزاد ہے،رانا ثناء اللہ

0
141
rana sanaullah

سابق وفاقی وزیر مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے عید کے بعد فیصل آباد میں‌پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج خوشی کا دن ہے، سب عید منار ہے ہیں، سب کو مبارکباد، اللہ فلسطین کے مسلمانوں کو جو ان پر بدترین ظلم ڈھایا جا رہا ہے اس سے نجات دلائے، کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی ملے اور پاکستان کے عوام جن مشکلات میں ہیں اللہ تعالیٰ انکی مشکلات دور کرے،

رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ میں قائد نواز شریف اور ن لیگ کی قیادت کی درازی عمر کی بھی دعا کرتا ہوں، اس وقت جو سیاسی‌صورتحال ہے یقینا اچھی نہیں ہے،ملک اس وقت جن مشکلات میں گھرا ہے ان حالات میں مشکلات سے نجات دلانے کے لئے نواز شریف کی رہنمائی کی ضرورت ہے، نواز شریف کی قیادت میں ملک کو مستحکم کرنے اور معیشت کی بہتری کیلئے کوششیں جاری ہیں، 8 فروری کے انتخابات کے بعد بھی سیاسی استحکام نہیں مل سکا، کچھ سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں موجود ہیں ہیں مراعات بھی لے رہی ہیں اور سیاسی عدم استحکام بھی پیداکر رہی ہیں،مراعات لینے کے باوجود سازشیں ساتھ ساتھ کر رہے ہیں،اپنی سوچ کو جو قطعی طور پر محب وطن سوچ نہیں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، ملک معاشی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، 2018 میں ملک سیاسی طور بھی مستحکم تھا، قریب تھا کہ ملک سیاسی طور پر بھی مستحکم ہو جاتا اور معاشی طور پر بھی، لیکن بدقسمتی سے اس وقت کی حکومت کو ڈی ریل کیا گیا اور الیکشن میں دھاندلی کرائی گئی،عدلیہ کے لوگ اس میں ملوث تھے،ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار کیا گیا جس سے معاشی حالات بھی خراب ہوئے،عمران خان کو کامیاب کروانے کے لئے مستحکم ملک کو غیر مستحکم کیا گیا،ابھی تک وہ صورتحال برقرار ہے، کوشش جاری ہے کہ ملک میں سیاسی و معاشی استحکام آئے اور جس دلدل میں پھنسے ہیں اس سے نکالا جائے، شہباز شریف کوشش کر رہے ہیں،سیاسی رہنماؤں کی مشترکہ کوششوں سے ہی کامیابی ملے گی.

رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ عام عوام کا بھلا ہونا چاہئے، عام آدمی کا احساس کرنا چاہئے، پارٹی کے ساتھ اختلافات کا تاثر اور اندازے بالکل غلط ہیں، الیکشن کے بعد تمام پارٹی اجلاسوں میں شامل رہا ہوں، ہر سیاسی جماعت میں مختلف نقطہ نظر ہوتے ہیں، ہر کسی کو حق ہوتا ہے اپنا نقطہ نظر پیش کرے، پارٹی کی صدارت کی ذمہ داری پوری کر رہا ہوں جبکہ پارلیمانی سیاست میں آگے آنے والوں کو ہی حکومتی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں، اسٹیبلشمنٹ کا رول دنیا میں نہ کہیں ختم ہوا نہ ہوگا، اسٹیبلشمنٹ 2010 میں جو تھی 2018 میں نہ تھی جو تب تھی اب نہیں ہے، اسٹیبلشمنٹ کی موجودہ لیڈر شپ انتہائی دیانتدار اور آزاد ہے جن کے کوئی ذاتی مفادات نہیں ہیں، سب کی کوشش اور خواہش سیاسی استحکام ہے جس کیلئے سیاسی قیادت کو کردار ادا کرنا ہے، اگر کوئی سیاسی جماعت باقی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت اور مل کر چلنے کیلئے تیار نہ ہو گی تو افراتفری ہو گی، ایک سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیرداخلہ مسحن نقوی جو نیا عہدہ چاہیں لے سکتے ہیں، محسن نقوی، فیصل واوڈا اور انوارالحق کاکڑ کا تعلق ایک ہی قبیلے سے ہے جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو ان تینوں کا کزن کہا جا سکتا ہے

Leave a reply