fbpx

ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس

اسلام آباد: ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے اسلام آباد میں گول میز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں لیگل فورم کشمیر کے مرکزی رہنماؤں نے بریفنگ دی۔

گول میزکانفرنس میں ضیاء مصطفی پر ڈوزئیر کا اجرا کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کے وکیل ناصر قادری ایڈوکیٹ نے بریفنگ میں بتایا کہ ضیاء مصطفی کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، ڈوزئیر میں 111 فرضی پولیس مقابلوں کا ذکر ہے جوسنہ 2000 سے 2021تک کیے گئے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضیاء مصطفے غلطی سے راولا کوٹ سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوا تھا، اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی جب اسے پکڑا گیا تھا ، اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کو قانونی طور پر جیل میں قید نہیں کیا جاسکتا ۔کیس ٹرائل کورٹ شپیاں میں چلا جس میں 38گواہوں کو پیش کیا گیا ۔

پولیس ضیا کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ، ہائی کورٹ نے بھی اپیل خارج کرکے ضیا کو معصوم قراردیا ،بعد ازاں سپریم کورٹ میں تاخیر سے اپیل دائر کی گئی ، اکتوبر میں سری نگر میں ضیا کو جعلی پولیس مقابلے میں شہید کردیا گیا۔

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا کہ 5 اگست کے بعد سے بھارتی فوج کو کشمیریوں کی نسل کشی کے احکامات دئیے گئے ہیں ، عالمی برادری اپنی مجرمانہ خاموشی ختم کرے ۔

مشتاق اسلام کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں آزادی کی آواز دبانے کے لیے مہلک ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے۔

ڈوزیئر میں مزید کہا گیا ہے کہ اسٹوک وایئٹ کی رپورٹ میں اس بات کے دو ہزار سے زائد ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ بھارتی حکام جموں و کشمیر میں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر کے راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ضیا مصطفی کا کیس 18 سال سے زیر سماعت تھااور وہ جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں قید تھے۔ بھارتی پولیس کے مطابق ضیا مصطفی کو پونچھ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک ٹھکانے کی نشاندہی کے لیے بھاٹا دوریاں لے جایا گیا اور بعد ازاں کراس فائر میں شہید کر دیاگیا۔
تاہم، ان کے اہل خانہ کے مطابق ضیا کو ایک جعلی مقابلے میں مارا گیا۔ انہوں نے 17 سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید ایک شخص کو اس طرح شہید کرنے اور بھارتی فورسز کے ظلم پر بھی سوال اٹھایا۔
ضیا مصطفی ولد عبدالکریم برمگ کلاں تحصیل راولاکوٹ ضلع پونچھ آزاد جموں و کشمیر کا رہائشی تھا جسے بھارتی فورسز نے 13 جنوری 2003 کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ نادانستہ طور پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرکے دوسری جانب چلا گیا تھا۔ ضیا کے بھائی عامر حامد کے مطابق ایل او سی پار کرنے کے وقت ضیا مصطفی کی عمر15 سال تھی۔
بھارت نے اس کی گرفتاری کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، کیونکہ وہ ایجنسیاں اس کی گرفتاری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھیں، اس لیے ضیا کی باقاعدہ گرفتاری مارچ 2013 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد سے نادیمرگ میں دکھائی گئی، جہاں نامعلوم مسلح افرادنے 24 کشمیری پنڈتوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ .
ضیا کو شوپیاں کی ضلعی عدالت میں مقدمے کا سامنا تھا جہاں مقبوضہ کشمیر کے حکام ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ٹرائل کورٹ نے کیس کومستردد کر دیا ۔مقبوضہ جموں کشمیر کے حکام نے جموں کشمیر ہائی کورٹ سری نگر ونگ میں فوجداری اپیل دائر کی جسے بھی خارج کر دیا گیا۔