لیبیا میں طوفان اورسیلاب سےاموات میں اضافہ،سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں

دیرنا شہر کی متعدد کالونیاں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں
0
66
flood

لیبیا میں طوفان اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا رکھی ہے، جس کے نتیجے میں اموات کی تعداد 5 ہزار 200 ہوگئی، ان ہی حالات کے پیش نظرسڑکیں لاشوں سے بھر گئیں ہیں۔

باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے، بڑی تعداد میں اموات ہونے کے ساتھ سیلابی ریلوں میں 10 ہزار افراد لاپتا ہوگئے ہیں طوفان اور سیلاب کی تباہی کے 36 گھنٹے بعد منگل کو ہی ساحلی شہر تک بیرونی امداد پہنچنا شروع ہوئی تھی سیلاب نے ڈیرنا تک رسائی کی کئی سڑکوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا۔

مشرقی لیبیا کے وزیر صحت نے بتایا کہ ایک ہزار سے زیادہ لاشیں جمع کی گئیں، جن میں 700 لاشیں بھی شامل ہیں جنہیں اب تک دفنایا جا چکا ہےدیرنا کی ایمبولینس اتھارٹی نے موجودہ ہلاکتوں کی تعداد 2,300 بتائی ہے، دیرنا شہر کی متعدد کالونیاں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں، دیرنا اور قریبی علاقوں میں زیادہ تباہی ڈیم ٹوٹنے سے ہوئی۔

چین میں سیلاب سے فارم سےدرجنوں مگر مچھ فرار،شہریوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین

یہ تباہی اتوار کی رات دیرنا اور مشرقی لیبیا کے دیگر حصوں میں ہوئی جیسے ہی طوفان نے ساحل کو ٹکرایا، دیرنا کے رہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی اور محسوس کیا کہ شہر کے باہر ڈیم ٹوٹ چکے ہیں۔

طوفان مشرقی لیبیا کے دیگر علاقوں سے ٹکرایا، جن میں بیدا قصبہ بھی شامل ہے۔حکومت کی جانب سے فیس بک پر شیئر کی گئی فوٹیج کے مطابق مرکزی اسپتال بیدا کا میڈیکل سینٹر سیلاب میں ڈوب گیا اور مریضوں کو وہاں سے نکالنا پڑا،جن دیگر قصبوں کو نقصان پہنچا ان میں سوسا، المرج اور شحط شامل ہیں۔ بن غازی اور مشرقی لیبیا کے دیگر مقامات پر سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے اور اسکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل

لیبیا کے وزیر داخلہ عصام ابوزریبہ نے بتایا کہ سمندری طوفان کی تباہ کاریوں کے باعث حکومت نے بین الاقوامی اور مقامی ایجنسیوں سے فوری امداد کی اپیل کی ہے،سمندری طوفان کے باعث لیبیا کے شمال مشرقی ساحلی علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کردی گئی ہیں۔

Leave a reply