ورلڈ ہیڈر ایڈ

صحرا کا شیر…… از محمد ہارون

تخلیق ارض و سماء اور پھر تخلیق آدم علیہ السلام سے اب تک اس دنیا میں انسانوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے. بہت سے لوگ آئے اور گئے جن کا تاریخ میں کوئی ذکر نہیں اور بہت سے لوگ ایسے آئے جن کے کارناموں کو درج کر کے مؤرخین نے اپنی تحریر کو چار چاند لگائے، وہ کسی قوم کے لیے بہترین رہنما تو کسی قوم کے لیے بدترین دشمن تھے.

آج میں جس شخصیت کا ذکر کرنے جا رہا ہوں ان کو دنیائے تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے وہ ایک قوم کے بہترین رہنما، سپہ سالار اور ایک تاریخ ساز جنگجو تھے اور دوسری طرف وہ ایک دوسری قوم کے لیے بد ترین دشمن تھے جس نے ان کے ناک میں دم کر رکھا تھا.

کسی کو کیا معلوم تھا کہ 20 اگست 1858ء کو پیدا ہونے والا یہ شخص ایک تاریخ رقم کر جائے گا. میری مراد لیبیا کی تحریک آزادی کے مشہور رہنما اور نڈر جنگجو عمر المختار ہیں.

عمر المختار 1858ء میں لیبیا (جو کہ اس وقت خلافت عثمانیہ کے ماتحت تھا) کے ایک گاؤں جنزور میں پیدا ہوئے. کم عمری میں ہی ان کے والد انتقال کر گئے اور انہوں نے اپنا بچپن غریبی میں گزارا. ابتدائی تعلیم مسجد سے حاصل کی اور جلد ہی قرآن کی تعلیم کے ماہر ہو گئے اور اپنے علاقے میں امام کے نام سے پکارے جانے لگے.

یہ اکتوبر 1911ء کی بات ہے جب ترکی اور اٹلی کے درمیان جنگ کے دوران اطالوی فوج کے بحری جہاز لیبیا کے ساحلوں پر آ پہنچے اور اطالوی بیڑے کے سربراہ فارافیلی نے خلافت عثمانیہ اور لیبیا کے لوگوں سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اس علاقے کو اٹلی کی تحویل میں دے دیں اور خود اس علاقے کی ملکیت سے دستبردار ہو جائیں ورنہ وہ لیبیا کے دو اہم شہروں تریپولی(طرابلس) اور بنغازي پر حملہ کر دیں گے.

وہاں کے لوگوں نے اطالوی فوجوں کے مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے اندرون ملک جا کر ان کے خلاف مزاحمت شروع کر دی جس کے بعد اطالوی فوجوں نے مذکورہ دونو‍ں شہروں پر بمباری شروع کر دی جو کہ تین دن تک جاری رہی "کہا جاتا ہے کہ یہ اطالوی فوجوں اور مزاحمتی جماعتوں کے مابین جنگ کی شروعات تھی.”

عمر مختار جو کہ معلم قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ لیبیا کے جغرافیہ سے بخوبی آگاہ تھے اور صحرا میں جنگ لڑنے کی حکمت عملیوں سے بھی خوب واقف تھے، انہوں نے گوریلا حملوں کی تکنیک کو اپناتے ہوئے اطالوی فوجوں پر حملے شروع کر دیے. وہ چھوٹی چھوٹی ٹکریوں میں بٹ کر حملہ کرتے اور فوجی چوکیوں، رسد گاہوں اور فوجی قافلوں کو نشانہ بناتے. اطالوی چونکہ بیرونی طاقت تھے اور وہاں کے جغرافیہ سے اتنی واقفیت نہیں رکھتے تھے لہذا ہر گوریلا حملے نے انہیں گہرے زخم پہنچائے.

ابھی یہ جنگ جاری تھی کہ اٹلی میں موسولینی کی جماعت انقلاب کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آ گئی. موسولینی نے بھی آتے ہی عمر مختار کی فوج کو روکنے اور لیبیا پر اپنا تسلط جمانے کی کوشش شروع کر دی.

عمر مختار کی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے اطالوی فوج نے مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قید کرنا شروع کر دیا ایک اندازے کے مطابق 1 لاکھ 25 ہزار لوگوں کو قید کیا گیا جس میں سے دو تہائی شہید ہو گئے. اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو قید کرنے کے باوجود عمر مختار کی یہ تحریک آزادی کمزور نہ پڑی اور اطالوی فوج کی ساری چالیں دھری کی دھری رہ گئیں.

عمر مختار کی بیس سالہ جدوجہد اس وقت اختتام کو پہنچی جب وہ ایک حملے میں زخمی ہو کر اطالوی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے. قید کے دوران ان پر خوب تشدد کیا گیا. ان پر تشدد کرنے والے فوجیوں نے بعد ازاں بتایا کہ جب ان پر تشدد کیا جاتا اور ان سے تفتیش کی جاتی تو وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قرآن مجید کی آیتیں پڑھتے.

ان پر اٹلی کی قائم کردہ ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور ان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی.دانشور آج بھی ان پر چلائے جانے والے مقدمے اور عدالتی غیر جانبداری کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں.ان سے جب آخری خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے ” انا للہ و انا الیہ راجعون” پڑھا.انہیں 16 ستمبر 1931ء کر سر عام پھانسی دی گئی کیونکہ عدالت کا حکم تھا کہ انہیں ان کے پیروکاروں کے سامنے سر عام پھانسی دی جائے.

"جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے””یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں”

معلوماتی ویب سائٹ وکی پیڈیا کے مطابق:آج کل ان کی شکل لیبیا کے 10 دینار کے نوٹ پر چھپی ہوئی ہے جبکہ دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہالی ووڈ نے 1981ء میں ان کی زندگی پر ایک فلم”The Lion of Desert” یعنی "صحرا کا شیر” بنائی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر مصطفٰی العقاد تھے۔ فلم میں عمر مختار کا کردار انتھونی کوئن نے ادا کیا۔

یہ ہے وہ کہانی جو کہ وکی پیڈیا اور اس جیسی دیگر معلوماتی ویب سائٹس کی فراہم کردہ معلومات پر مشتمل ہے. اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ عمر مختار جیسے مجاہد کی زندگی سے ہمیں کیا درس ملتا ہے؟ اگر ہم عمر مختار کی زندگی کا بغور مطالعہ کریں تو ان کی زندگی ہمیں بہادری، شجاعت، مسلسل جدوجہد اور ہمت و حوصلے کا درس دیتی ہے.

حالات چاہے جیسے بھی ہوں، دشمن چاہے کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو لیکن ہر حال میں اللہ پر توکل، وطن عزیز کی حفاظت، اپنی قوم کی آزادی کا جذبہ اور فہم و فراست، یہ تمام چیزیں وہ ہیں جو ایک سادہ لوح انسان کو بھی شیر جیسا طاقتور بنا دیتی ہیں پھر وہ اللہ پر توکل کر کے اپنی قوت ایمانی کو بروئے کار لا کر اپنے فہم سے منصوبہ بندی کر کے دشمن سے ٹکرا جاتا ہے اور اسے نیست و نابود کر دیتا ہے.

ایسے ہی لوگوں کو تاریخ یاد رکھتی ہے اور ایسے ہی لوگ دیگر قوموں کے لیے مثالیں چھوڑ جاتے ہیں پھر 63 سال بعد 1994ء میں پیدا ہونے والے برہان وانی بھی ایسے ہی لوگوں کی زندگی کو مشعلِ راہ بنا کر دشمن سے ٹکراتے ہیں اور 2016ء میں جامِ شہادت نوش کر جاتے ہیں.

آج بھی کشمیر کے لوگ اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے اس راہ میں آنے والی تمام مصیبتوں کا سامنا بڑی دلیری سے کر رہے ہیں اب وہ وقت دور نہیں جب مظلوموں کی آہ سنی جائے گی، جب آسمان سے کشمیریوں کے حق میں فیصلے اتریں گے، جب ظالم سے اس کے ہر ظلم کا حساب لیا جائے گا، جب کشمیر کے لوگ کھلی ہوا میں سانس لے سکیں گے، جب آنے والی نسلوں کے بچے اپنے خوبصورت بچپن کو اپنے دوستوں کے ساتھ بنا کسی ڈر کے گزار سکیں گے،

جب بیٹے کے باہر جانے پر ماں کو یہ ڈر نہیں ہو گا کہ پتہ نہیں میرا بیٹا زندہ واپس لوٹ کر آئے گا یا نہیں یا کسی جرم میں قید تو نہیں کر لیا جائے گا، اب وہ وقت دور نہیں جب کشمیر کی ہر مسجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوں گی، جب کشمیر میں سکون ہو گا، جب کشمیر تعلیم و ترقی کے میدان میں اپنا سفر شروع کرے گا اور اب وہ وقت دور نہیں جب ہندؤں کا ظلم ان کو لے بیٹھے گا اور وہ تاریخ کا صرف ایک سیاہ باب بن کر رہ جائیں گے.

اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے

اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں، اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
(فیض احمد فیض)

تحریر : محمد ہارون

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.