کراچی، پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ ملک ریاض سندھیوں کی آبائی زمین پر زور زبردستی، دھونس،دھاند لی اور ظلم و جبر کے ذریعے دن دہاڑے قبضہ کر رہا ہے۔ مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں کے نعرے لگانے والے سندھ کے چیمپئین کہاں ہیں؟ رمضان المبارک میں جوکھیو گوٹھ ملیر میں غریبوں پر ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ پرانے سندھیوں کو ان کی موروثی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ وہ سیاسی جماعتیں کہاں ہیں جو ملک ریاض کو لگام دینے کی باتیں کر رہی تھیں؟ عمران خان کی اس معاملے پر خاموشی معنی خیز ہے کیونکہ ملک ریاض ساری بڑی سیاسی پارٹیوں کا مشترکہ اے ٹی ایم ہے۔ سندھ کے حقوق کے چیمپیئنوں کے آشیر باد سے بحریہ ٹاؤن نے پرائیویٹ سیکیوریٹی گارڈز کے ذریعے عوام کو ان کی زمینوں سے بے دخلی کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔
کیا بحریہ ٹاؤن اسی ظلم اور بربریت کے لئے ریٹائرڈ جنرلزاور ججز کو نوکری کی آفرکرتی ہے؟اس تمام معاملہ کی تحقیقات کے لئے اعلی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔ پاسبان اس ظلم کی شدید مذمت کرتی ہے اور اس کے خلاف بھرپور تحریک چلائے گی۔ گذشتہ روز جوکھیو گوٹھ ملیر کے رہائشیوں پر بحریہ ٹاؤن کے غنڈوں کی فائرنگ اور ظلم کے خلاف رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے نام پر سندھ کے عوام پر ایک اور ایسٹ انڈیا کمپنی مسلط کی گئی ہے۔
سندھ میں بسنے والوں سے روٹی کپڑااور مکان کے بعد اب ان کی آبائی زمینیں بھی چھینی جا رہی ہیں۔ سندھ پیپلز پارٹی کی جاگیر نہیں ہے، سندھ کی زمین پر سندھیوں کا حق ہے۔ پرائیویٹ گارڈز نہتے لوگوں پر گولیاں برسا رہی ہے۔ مراد علی شاہ ان کو قانون شکنی کی اجازت کس بنا پر دے رہے ہیں؟ 70سالوں سے سندھ پر مسلط پیپلز پارٹی نے اپنی تقدیر تو سنوار لی پر عوام کی تقدیر نہیں سنوار سکی، انہیں مافیاؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ سندھ میں مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں کے نعرے لگانے والوں کی حکومتی عمل داری کہیں نظر نہیں آ رہی ہے۔ بحریہ ٹاؤن کی سینئیر مینجمنٹ میں اگر معمولی سی بھی غیرت ایمانی ہے تو وہ اس ظلم و ستم کے خلاف استعفے دیں۔ لوگوں کی زمینیں کس قانون کے تحت ان سے چھینی جا رہی ہیں؟سندھ کے باشندوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے ملک ریاض کی یہ گھناؤنی سازش ہے۔ بحریہ ٹاؤن کے نام پر عوام پر ظلم و ستم کرنا اور ان کی زمینین چھیننے کا عمل بند کیا جائے۔
اعلی عدالتی کمیشن قائم کر کے تحقیقات کی جائیں کہ وزیر اعلی سندھ نے ملک ریاض کو یہ زمینیں کیوں الاٹ کیں؟ کیا یہ زمینین ان کی یا سندھ حکومت کی ذاتی جاگیریں تھیں؟