کبوتروں کے تنازعہ پر قتل، مشتعل ہجوم نے ملزم کو زندہ جلا دیا

0
25
سفاک باپ نے 22 سالہ بیٹی کو گولیاں مار کر لاش سوٹ کیس میں بند کر کے سڑک کنارے پھینک دی

کبوتروں کے تنازعہ پر قتل، مشتعل ہجوم نے ملزم کو زندہ جلا دیا
چارسدہ کے مشہور اور جید عالم دین مفتی عبداللہ شاہ ،صوبائی وزیر قانون فضل شکور خان اور جماعت اسلامی کے فواد احمد کی یقین دہانی پر مظاہرین نے دھرنا ختم کر د یا

مفتی عبداللہ شاہ نے مقتول شاہ سوار خان کی نمازجنازہ فاروق اعظم چوک چارسدہ میں پڑھایا ،مظاہرین نے میت کو تدفین کے لیے اٹھا کر احتجاجی دھرنا ختم کر دیا ،واقعہ میں گرفتار 15 بے گناہ افراد کی رہائی سمیت دیگرمطالبات کے حل کے لئے صوبائی وزیر قانون فضل شکور خان نے پولیس کی طرف سے مظاہرین کو تحریری طور پر یقین دہانی کرا دی

شہسوار قتل کیس میں مظاہرین نے نعش فاروق اعظم چوک میں رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاجی مظاہرین نے چوک کو ہر قسم کے ٹریفک کے لئے بند کردیا تھا مظاہرین کا کہنا تھا کہ
16 بے گناہ افراد کی رہائی تک احتجاج جاری رہیگا کل رات علاقہ پلو ڈھیری میں 15 سالہ لڑکے کو کبوتروں کے تنازعہ پر قتل کیا گیا تھا۔اہلیان علاقہ نے واقعے کے بعد ملزم کے گھر کو آگ لگا کر ملزم کو بھی ژندہ جلا دیا تھا۔ ملزم کی والدہ بھی واقعہ میں شدید زخمی ہو گئی، مشتعل افراد کے پتھراو سے ایس ایچ او سٹی بہرہ مند خان بھی زخمی ہو گیا، زخمی ایس ایچ او اور ملزم کی مجروحہ والدہ کو ضلعہ ہسپتال منتقل کردیا گیا، پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے۔ پولیس کے مطابق قاتل کا مقتول کے ساتھ کئی دنوں سے کبوتروں پر تنازعہ چلا آ رہا تھا معذور قاتل نے قتل کے بعد خود کو گھر میں بند کیا اور پولیس کو گرفتاری دینے سے انکاری تھا۔علاقے ہجوم نے پولیس کی موجودگی قاتل کے گھر پر دھوا بول دیا ۔ مشتعل ھجوم نے معذورقاتل کو گھر کے اندر زندہ جلا دیا جبکہ والدہ شدید زخمی ہے ۔چارسدہ زندہ جل جانے والے معذور کے خاندان کاتعلق افعانستان سے بتایا جاتا ہے.

چارسدہ نوجوان کا قتل مشتعل مظاہرین کا ملزم کے گھر کو آگ لگانے کا واقعہ. وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے واقع کا نوٹس لے لیا۔ انسپکٹر جنرل پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی،وزیر اعلی نے قتل اور پرتشدد واقعہ کی شدید مذمت کی وزیر اعلی نے پولیس کو امن و امان اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی

Leave a reply