سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور راجہ پرویز اشرف نے انت مچا دی، غیر متعلقہ اور اضافی افراد کو بھرتی کیا گیا ہے جو حکومت پاکستان کے خزانے کو قوی نقصان پہنچا رہے ہیں، اسد قیصر نے ملازمین کو بھرتی کیا تو وہیں راجہ پرویز اشرف بھی ان سے پیچھے نہ رہے ، قومی خزانے کا بے دردی سے اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کہ سیکرٹری قومی اسمبلی کا ڈرائیور بحریہ ٹاؤن فیز ایٹ سے سرکاری گاڑی پر دودھ لینے جاتا ہے، اسمبلی ہاؤس میں ملازمین کی بھر مار، میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں کی گئیں،راجہ پرویز اشرف نے اسد قیصر کے غیر قانونی کاموں کو اس لئے تحفظ دیا کیونکہ وہ خود اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتے تھے
اس ضمن میں چیئرمین نیب اور چیف الیکشن کمشنر کو درخواست دی گئی ہے جس میں حقائق سامنے رکھے گئے ہیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپیکر نیشنل اسمبلی نے ریٹائرڈ آفیسروں کی فوج رکھی ہے جو کہ تین سال سے لے کر 12 سال کے لئے اسمبلی میں غیر قانونی کام کر رہے ہیں اور اس کے بدلے اسپیکر قومی اسمبلی کی مہم چلارہے ہیں ۔ ان ریٹائر ڈلوگوں نے پہلے اسپیکر اسد قیصر کے ساتھ مل کر اس کے بندے سمبلی میں لائے، جن میں ایک اس کا بھانجا ہے جس کو اسد قیصر نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں Depotion پر بلا کر ضم کیا ۔ مگر پشاور ہائی کورٹ نے اس کو واپس بھجوایا۔ اب اسمبلی میں لا کر اس ضم کر کے گریڈ 19 دے دیا ہے اس کے علاوہ اسد قیصر نے PIPS جو کہ ایک گورنمنٹ آرگنائزیشن نہیں ہے سے شہر یار کو بلا کر سیکشن آفیسر کی پوسٹ پر ضم کر دیا گیا ہے۔ جو کہ گورنمنٹ رولز کے سراسر خلاف خلاف ورزی ہے۔اور اس کے علاوہ مشتاق احمد جو کہ ایڈیشنل سیکرٹری قانون سازی ہے اس کی بیٹی کو PIPS میں گریڈ 14 میں بھرتی کرکے گریڈ 17 میں نیشنل اسمبلی میں ضم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ سیکرٹری نیشنل اسمبلی طاہر حسین کے بیٹے کو Depotion میں PIPS میں بھرتی کرکے نیشنل اسمبلی میں گریڈ 18 میں ضم کر دیا گیا۔ اسی طرح ایک ڈپٹی سیکرٹری جس کی تقریبا بارہ سال ہے اور ایکسٹنشین چل رہی ہے اس کو جوائنٹ سیکرٹری کا چارج سونپ دیا گیا ہے، جو کہ جعلی بلز بنانے کا ماہر ہے۔ اور سپیکر کے گھر کے مہمانوں کی خاطر تواضع اور رہائش کا انتظام ان جعلی بلوں کے ذریعے کرتا ہے ۔ اس ساری کر پشن میں سیکرٹری نیشنل اسمبلی ، ایڈیشنل سیکرٹری چوہدری مبارک ، مشتاق احمد ، ایڈیشنل سیکرٹری اور وسیم احمد جو کہ بی اے میں تھرڈ ڈویژن ہے اور وہ ایک درخواست بھی نہیں لکھ سکتا ہے اس کو گریڈ 22 دے دیا گیا ہے ۔ یہ وسیم جو کہ DGIR ہے۔ اس نے اسمبلی سیکرٹریٹ لیٹر بنوا کر اپنے بیوی بچوں کو کینیڈا سیٹ کیا ہے اور پچھلے مہینے اسمبلی سیکرٹریٹ کے جعلی خط سے اس نے اپنے نوکر کا ویزا لگوا کر کینیڈا بھجوا دیا ہے۔ یہ وسیم جو کہ اسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی ہوا تھا جس کے پاس موٹر سائیکل نہیں تھی اب ارب پتی بن چکا ہے۔ اس کے خلاف ایک لڑکی جو کہ اسٹنٹ ڈائر یکٹر تھی کے ساتھ ہراسمنٹ کا کیس بنا مگر سیکرٹری نیشنل اسمبلی اور ایڈیشنل سیکرٹری نے اس کو بچالیا۔ کیونکہ یہ سارے لوگ مل کر اسمبلی سیکرٹریٹ کا 60 فیصد اخراجات کھا جاتے ہیں ۔ اگر چوہدری مبارک کو صرف پوچھ لیں تو کروڑوں روپے کی ریکوری ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ راجہ پرویز اشرف نے 6 بندوں کو سیکرٹری نیشنل اسمبلی بنا دیا ہے جن میں تین عرصہ دراز سے ایکسٹیشن پر ہیں اور تین موجودہ حاضر سروس ہیں۔ اگر ان کے پاس حاضر سروس بائیس گریڈ کے آفیسرز ہیں تو پھر یہ ایکسٹنشن والوں کو سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ ان میں دو وسیم احمد اور شعمون ہاشمی کسی طور پر اس لائق نہیں ہیں۔ سپیکر صاحب کی اس عنایت کی وجہ سے یہ سیکرٹری انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور سارا خرچہ اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے ہو رہا ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کے کچھ ملازم مثلا مشتاق احمد DG اور سعید متیلا DG اور سلیم خان کو آرڈینیٹر تنخواہ اسمبلی سے لے رہے ہیں اور راجہ پرویز اشرف کی انتخابی مہم چلا تے رہے اور ساری گاڑیاں نیشنل اسمبلی کی استعمال ہو تی رہیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کئی سولوگوں کو بغیر ٹیسٹ اور انٹرویو، بغیر ایڈوئر ٹائرمنٹ کے بھرتی کیا ہے۔ اس طرح اسد قیصر نے بھی کئی سو بندوں کو اسمبلی سیکرٹریٹ میں بھرتی کیا ہے ان کو راجہ پرویز نے اس لئے نہیں نکالا کہ وہ خود بھرتی کرنا چاہ رہا تھا۔ اس کے علاوہ کیمرہ مین کو گریڈ 20 دے دیا ہے۔ حاضری لگوانے والے بھی خود گریڈ ہیں میں ہیں یہ لوگ Leave Application نہیں لکھ سکتے ۔ اس کیمرہ مین نے پورا گھر اسمبلی سیکرٹریٹ میں نوکری پر رکھوالیا ہے۔
ہمیں فخر سے آزادی حاصل کرنے کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے، چیف جسٹس
یہ کس قسم کے آئی جی ہیں؟ان کو ہٹا دیا جانا چاہئے،چیف جسٹس برہم
چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی
طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث
سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا
سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور
سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ
حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام
باخبر ذرائع کے مطابق صرف یہاں تک بس نہیں بلکہ سیکرٹری قومی اسمبلی کا ڈرائیور بحریہ ٹاؤن فیز ایٹ سے روزانہ سرکاری گاڑی پر دودھ لے کر آتا ہے،دودھ کے لئے 50 کلو میٹر کا سفر روزانہ کیا جاتا ہے وہ بھی سرکاری خرچے پر ، اسی طرح سرکاری گاڑیوں کو غیر ضروری کاموں میں استعمال کر کے قومی خزانے کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے.