مریم نواز نے شہباز شریف کی کھل کر مخالفت کر دی، کہا ان کا پوائنٹ آف ویو ہمیشہ مختلف ہوتا ہے

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شہباز شریف کے موقف کی کھل کر مخالفت کی اور کہا ہے کہ ان کا پوائنٹ آف ویو ہمیشہ مختلف ہوتا ہے. مسلم لیگ ن کے اندر جمہوریت ہے ہماری اپروچ میں‌ فرق ہو سکتا ہے تاہم آخری فیصلہ نواز شریف ہی کرتے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف بھی پارٹی ڈسپلن کے پابند ہیں. اپوزیشن کی اے پی سی کو وہی لیڈ کرینگے۔ جب پارٹی کا صدر موجود ہے تو میں کیوں اے پی سی کو لیڈ کروں گی، میری شرکت کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نہ یہ ملک مصر ہے نہ ہم نوازشریف کو مرسی بننے دیں گے۔ شہباز شریف کی اپنی رائے اورمیری اپنی رائے ہے۔ میثاق معیشت کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے اسے مذاق معیشت قرار دیدیا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ میاں‌ نواز شریف کو دل کا عارضہ پرانا ہے انہیں تیسری بار جیل میں ہارٹ اٹیک ہوا لیکن ہمیں لاعلم رکھا گیا ،نوازشریف کی صحت کے معاملے پر آگاہ ہونا عوام کا حق ہے میاں صاحب کودل کا عارضہ15 سے20سال پرانا ہے ،نوازشریف کی صحت کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں لینا چاہتی ہوں ، میاں صاحب کو ایک اور بائے پاس کی ضرورت ہے، ان کو ضمانت نہیں دی گئی،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نواز نے کہا کہ میاں صاحب کو تیسری بار ہارٹ اٹیک اسوقت ہوا جب وہ اڈیالہ جیل میں تھے، میاں‌صاحب کی طبیعت خراب ہوئی تو ایک دن سیل میں مجھے میسج دیا گیا کہ سپیڈنڈٹ آفس فوری پہنچیں وہاں گئی تو کچھ حضرات بیٹھے تھے کچھ پمز کے کارڈیالوجسٹ تھے انہوں نے بتایا کہ میاں صاحب کی طبیعت خراب ہے انہیں کہیں کہ ہسپتال چلے جائین اسی دوران نواز شریف وہاں آ‌گئے ان کو ہسپتال جانے کا کہا تو وہ نہیں آئیں گے ،میاں صاجب نے کہا مجھے منطور نہیں کہ میں اکیلا آپ کو جیل چھوڑ کر ہسپتال چلا جاوں، ڈاکٹرز نے کہا کہ میاں‌صاحب کو کنوینس کریں کہ وہ ہسپتال جائیں مغرب کے بعد کا وقت تھا میں محسوس کر رہی تھی کہ کچھ ہلچل ہے لیکن کچھ بتایا نہیں جا رہا،

مریم نواز سے جب تاریخ پوچھی تھی تو انہوں‌ نے کہا کہ کیلکولیٹ کر لیں مجھے تاریخ یاد نہیں. مریم نواز نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان کو ایمرجنسی میں لاہور سے اڈیالہ بلوایا گیا اور کہا کہ میاں صاحب کا ٹیسٹ کروانا ہے، میں نے ایک گھنٹہ لگا کر کنوینس کیا کہ وہ ہسپتال جائٰیں، ڈاکٹر عدنان آ گئے ،میاں‌ صاحب ہسپتال چلے گئے ان کو دو یا تین دن رکھا گیا، وہ مزید بھی رکھنا چاہتے تھے، مجے ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں دی جاتی تھی، ایک دن مجھے خبر ملی کہ میاں صاھب واپس آ رہے ہیں جب واپس آئے تو میری دس منٹ کی ملاقات ہوئی، میاں‌صاحب ڈاکٹر کی ہدایات کے باوجود جیل واپس آئے تھے، ان کو میڈیکل سہولیات اپنے آپ دے دی گئیں، ایمرجنسی کی چیزیں مہیا کر دی گئیں میں یہ سوچتی رہی کہ کیا بات ہے، پھر ایک دن معالج نے بتایا کہ میاں صاحب کو اس دن ہارٹ اٹیک ہوا تھا، ہمیں کسی‌ڈاکٹر، جیل کے عملے نے کوئی ریکارڈ نہیں دیا، ڈسچارج سلپ کچھ ہفتے بعد ملی جس میں واضح لکھا ہے کہ میاں صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا، یہ مریض ،لواحقین اور مریض کے معالج کو دیا گیا.

مریم نواز نے کہا کہ جیل حکام نے بڑی غفلت برتی اگر کچھ نقصان ہوتا تو میری روح کانپ جاتی، نواز شریف کی ہارٹ کی دو میجر سرجریز ہو چکی ہیں،

مریم نواز نے مزید کہا کہ میاں صاحب کی ایک بڑی شریان 95 فیصد بند ہے،میاں صاحب کو ایک اور بائے پاس کی ضرورت ہے، ان کو ضمانت نہیں دی گئی، میں آئی وٹنس ہوں‌جب وہ ہسپتالوں کے چکر لگا رہے تھے مجھے ہسپتال جانے کی اجازت تھی، کئی ڈاکٹرز نے کہا کہ یہ ہائی رسک کیس ہے،

واضح رہے کہ میاں نواز شریف کو 29 جولائی 2018 کو اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا . نواز شریف کے بائیں بازو اور سینے میں تکلیف کے باعث ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کر کے فوری طور پر جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا تھا.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.