مریم نواز،دعا کروں گا،کبھی ملک کی حکمران نہ بنو:ارشدشریف کےمبینہ قاتل کس کےبندے نکلے؟

0
86

لاہور:ہمارے انتہائی شفیق ساتھی ارشد شریف کو کینیا میں شہید کردیا جاتا ہے ، ان کے موبائل فونز اور ان کا لیب ٹاپ غائب کردیا جاتا ہے، یہ اتنا بڑا خطرناک کھیل کوئی عام بندہ نہیں کرسکتا ، وہاں ایم کیوایم الطاف حسین کے کارندے بھی موجود ہیں مگریہ منظم کھیل کوئی عام بندہ نہیں کھیل سکتا

ان سیدھی سادھی باتوں کا اظہارکرتے ہوئے سنیئر صحافی مبشرلقمان نے کہا ہے کہ وہ بہت دکھی ہیں کہ ایک پاکستان کے ایک بڑے نام کو کینیا میں اس کو مروادیا جاتا ہے ، یہ لوگ کون ہیں ان کو منظرعام پر لانا ہوگا ،

سینیئر صحافی مبشرلقمان نے اس موقع پر مریم نوازکو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ کسی کی وفات پر اس طرح طعنے نہیں دیے جاتے اور نہ ہی اس قسم کی گھٹیا سوچ کا کوئی تصور کرسکتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے جو آج صبح ٹویٹ کی ہے ،اس نے بہت دکھی کردیا ہے ، اس کو اس قسم کی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی ، مریم کا اپنی والدہ محترم کی وفات کو ارشد شریف کی وفات سے لنک کرکے طعنہ نہیں دینا چاہیے تھا ، سب نے اس جہان فانی سے کوچ کرجانا ہے ، ، اگر کسی سے کوئی زیادتی ہوگئی ہے تو پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم سب کو جانے والی کی تمام غلطیاں معاف کردینی چاہیں ، اور اگرہمارے اختیار سے معاملہ باہرہے تو جس ذات کے پاس جانے والا جارہا ہےوہ بہتر جانتا ہے

مریم نواز جو آپ نے حرکت کی اب تو دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ‌آپ کو ہمارے اوپرحکمران نہ بنائے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جومریم نوازلہجہ اور رویہ اپنا رہی ہیں یہ زیب نہیں دیتی ،عمران خان پر بھی تنقید کرتا رہا ہوں کہ ان کوچھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑے لیڈر بنیاد نہیں بناتے لیکن آپ نے توتمام ضابطے ہی توڑ دیے ،

مبشرلقمان نے کہا کہ ارشد شریف سے سیاسی اختلاف تو ہوسکتا ہے لیکن یاد رکھیں ارشد شریف اس وطن عزیز کا وہ بیٹا ہے کہ جس کی وفات پر پاکستان کے ہرگھر سے رونے اورآہوں اور سسکیوں کی آوازیں آرہی ہیں، بے نظیربھٹو کے بعد ارشد شریف ہیں کہ جن کی وفات پر ہرپاکستانی دکھی ہے، بلکہ ارشد شریف کی وفات پرجہاں کہں بھی پاکستانی موجود ہیں یا صحافت کی دنیا سے تعلق رکھنے والے موجود ہیں وہ سب غمگین اور دکھی ہیں کہ کس طرح ایک حق کی آواز کوطاقت کے ساتھ دبا دیا گیا

ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ میں جہاں بھی جارہا ہوں وہاں مجھے ارشد شریف کی شہادت پرہرکوئی دکھی نظرآرہا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ کسی کو ارشد شریف کی سیاسی سوچ سے تواختلاف کرسکتا ہے لیکن ارشد شریف جیسا ہونہار، تابندہ اور ملک وقوم کا خیرخواہ صحافی بے بسی کی حالت میں ماردیا گیا ،ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف ایک ہیرا تھا جسے ہم سے چھین لیا گیا ہے

مبشرلقمان نے دکھ بھرے لمحات بیان کرتےہوئے کہا ہے کہ کل جب میں نے یہ خبر سنی تو میں کاشف عباسی سے اس بات کی تصدیق کرنا چاہی تو انہوں نے کہا کہ کاشف کا کہنا تھا کہ میں نے خبردینے والوں سے معذرت کی اور کہا کہ میرے میں اتنی ہمت نہیں کہ میں ایک دکھی ماں ، بچوں کوان کے پاپا کی وفات کی خبر دوں ، ان کا کہنا تھا کہ اگر میں بھی ہوتا تو یہ نہ کرسکتا تھا

مبشرلققمان نے کہا کہ کل سے ہرکوئی ارشد شریف کی شہادت والی تصاویر ہر کوئی شیئر کررہا ہے جوکہ نہیں کرنی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس طرح دبئی حکومت نے ارشد شریف کو ملک بدر کیا ایسے تو کوئی بھی نہیں کرسکتا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرڈی پورٹ کرنا تھا تو پاکستان کردیتے جیسے کیا جاتا ہے تو پھر کس کے کہنے پران کو کینیا کی طرف جانے پر مجبور کیا گیا ، ان کا کہنا تھا کہ کینیا کی پولیس جس طرح جرائم کرتی ہے ان کے مقابلے میں تو پنجاب پولیس والے تو فرشتے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ اتنا زیادہ تضاد ہے کہ میرےجیسے بندہ 10 منٹ میں انکی اصلیت سامنے لاکردکھا دوں گا

مبشرلقمان کاکہنا تھا کہ وہ دونوجوان کون تھے ،خرم اور وقار بنیادی طور پر الطاف حیسن کے بندے ہیں یہ بوری بند لاشوں کے ڈیلر ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ان دونوجوانوں کے فارم کے نزدیک واردات ہوئی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارشد شریف کو کینیا کس نے بھیجا ، بعض کا کہنا تھا کہ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ وہ ریل اسٹیٹ کے سلسلے میں آیا تھا لیکن یہ درست نہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان دونوں کو پولیس تحفظ دے رہی ہے، انکا کہنا تھا یہ بڑی خطرناک گیم ہے ،

ان کا یہ بھی کہناتھاکہ ہرکوئی تحقیقات کرنے پر لگا ہوا ہے ، خرم اور وقار کو کون بچا رہا ہے ، ارشد شریف کے موبائلز اور لیب ٹاپس کس کے پاس ہے ، یہ عام بندہ نہیں کرسکتا ہے یہ بڑی قوت ہے جو خرم اور وقار کو بچانے کے لیے کوششیں کررہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ وہاں ہورہا ہے اور ہم یہاں الجھے ہوئے ہیں ، ان کا یہ کہنا تھا کہ اطہرمن اللہ نے درست فیصلہ کیا کہ انہوں نے جوڈیشیل کمیشن نہیں بنایا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہاں جوڈیشل کمیشن کیا کرے گا ، جب بڑے اثرانداز ہوں گے ،ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف جیسا سمجھدار ، زیرک اورملک وقوم کا خیرآدمی جس طرح اس کوراستے سے ہٹایا گیا، اور جس طرح وہ بیچارہ پاکستان سے دبئی ، پھر دبئی سے لندن اور پھرلندن سے دبئی اورپھردبئی سے کینیا اس کے پیچھے کون سی قوتیں تھیں جو اس کا پیچھا کررہی تھیں ، ارشد شریف کن کے راستے میں رکاوٹ تھا جواس کو راستے سے ہٹانا چاہتے تھے ، یہ بہت ہی ایک خطرناک کھیل ہے ،وہ ایک محبت وطن ، سب کی آنکھوں کا تارا تھا جسے ہم سے چھین لیا گیا ، وہ تو اگلے سفر پر روانہ ہوچکا جہاں ہرکسی نے جانا ہےمگرافسوس کہ اتنے بڑے سانحے سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا ، وہی منفی سوچ ، وہی الزام تراشیاں ، اس موقع پر ابصار عالم کے واقعہ کو بنیاد بنا کرجوزبان درازی کی جارہی ہے ، یہ سب باتیں بے فائدہ اور تکلیف دہ ہیں ، ارشد شریف کوئی اور نہیں تھا وہ بھی ہمارا ہی تھا اس کی شہادت پرہمیں اس قسم کے پراپیگنڈے سے باز رہنا چاہیے اور اس کے درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کرنی چاہیں

Leave a reply