fbpx

معاشرے میں تربیت کا کردار تحریر : اعزاز شوکت

کوئی معاشرہ بننے میں سب سے اہم کردار تربیت کا ہوتا ہے۔اور معاشرہ اسی کی بناء پر چلتا ہے۔
جب ایک فرد کا جنم ہوتا ہے تو وہ پہلے جانداروں کی رو میں گنا جاتا ہے ۔پھر وہ حیوانوں اور جانوروں میں گنا جاتا ہے پھر وہ ایک چیز یعنی تربیت جس سے وہ ایک انسان بنتا ہے ۔یہ اُسکی تربیت پر ہوتا ہے کہ وہ ایک اچھا انسان بنے گا يا برا اور اُسکی تربیت میں معاشرے میں اچھے کام کے لیے استعمال ہو گی یا بری۔

دوسرے جاندار بھی بالکل انسانوں کی طرح رہتے, کھاتے, سوتے اور نسل بڑھاتے ہیں۔ لیکن انسان کی عقل, تعلیم تربیت ,شعور انکو ان سے علحیدہ کرتا ہے. اسلیے اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔

انسان کے پیدا ہونے سے شروع ہونے والی ماں کی دی گئی تربیت تا عمر انسان کے کردار کو متاثر کرتی ہے. انسان کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی گود ہوتی ہے جہاں سے اسکی تعلیم و تربیت شروع ہوتی ہے۔وہاں سے حاصل کی گئی تربیت آگے معاشرے پر اثرانداز ہوتی ہے۔

معاشرہ خاندانی نظام سے بنتا ہے اور خاندان ایک ایک فرد سے ملکر بنتا ہے. یعنی ایک ایک انسان کو ملا کر پورا معاشرہ تیار ہوتا ہے.اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپکو مہذب معاشرہ چاہیے تو اس کے لیے آپکو مہذب انسانوں کی ضرورت ہے. اور مہذب انسان بننے کے لیے اچھی تربیت ہونا بہت لازم ہے.
ابتدا میں ماں معاشرے کے بنیادی جز یعنی ایک انسان کی تربیت شروع کر کے معاشرے کی تشکیل شروع کرتی ہے. اب یہ تربیت جتنی زیادہ اچھی ہو گی وہ انسان آپکو بہترین خوش اخلاق معاشرہ دے گا. لیکن اگر کچھ خامی ۔رہ گئی تو معاشرہ کی بربادی کا سبب بنے گی
تربیت معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کا کام کرتی ہے۔کسی بھی قوم کی پہچان اسکی تعلیم, تربیت اور اخلاق سے ہوتی ہیں۔
ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ صرف تعلیم سے ہی انسان کو باشعور باکردار نہیں بنا سکتی بلکہ ساتھ ساتھ تربیت بھی لازم و ملزوم ہے. اگر تعلیم کے ساتھ تربیت نہ ہوگی تو کبھی کوئی معاشرہ عظیم ترین نہیں بن سکتا
آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگ کتنی اعلی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں، ڈگریوں کی قطار لگا دیتے ہیں، پھر اعلی عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں، مگر پھر وہ اخلاق طور پر پست ہوتے ہیں، مہذب نہیں ہوتے۔اتنا پڑھ لکھ کر بھی بد عنوانی بے ایمانی لوٹ مار کرتے ہیں،اور ایسے وہ معاشرے کی تباہی کا سبب بنتے ہیں. اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کتنی ضروری ہے

انسان نہ تو پیدائشی شریف ہوتا ہے اور نہ ہی پیدائشی مجرم ،بلکہ یہ اس کی تربیت پر منحصر ہوتا ہے.۔اگر اس کے آس پاس اچھے اخلاق والے لوگ ہیں تو انکی تربیت بھی اچھی ہو گی اور وہ فطری طور پر باشعور بنے گا. اس کے برعکس اگر وہ اچھی تربیت سے عاری معاشرے میں رہے گا تو بلاشبہ وہ بد اخلاق اور برا ہوگا اور معاشرے پر منفی اثر چھوڑے گا

نچوڑ یہ ہے کہ بہترین معاشرے کے لیے اچھی تربیت ایسے لازم ہے جیسے زندہ رہنے کے لیے سانس ,خوراک اور پانی
تربیت کا ہمارے معاشرے پر اتنا گہرا اثر پڑتا ہے کہ اگر اچھی تربیت ہو گی تو معاشرے میں امن و سکون ہو گا۔اور اگر بری تربیت ہو گی تو اِس سے نہ صرف اُسکے خاندان والے بلکہ پورا معاشرہ اثر انداز ہو گا۔ہر کوئی ڈر ڈر کر زندگی گزارے گا کیونکہ ایسے لوگ برے کاموں میں ملوث ہو کر لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اگر تربیت اچھی ہو گی تو معاشرہ بھی اچھا ہو گا۔
لیکن اگر تربیت بری ہو گی تو معاشرے کا نظام درہم برہم ہو جاۓ گا

@Zee_PMIK