fbpx

مزارات پر جانے والوں کو لاہور ہائیکورٹ نے سنائی خوشخبری

مزارات پر جانے والوں کو لاہور ہائیکورٹ نے سنائی خوشخبری

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

مزارات پر جانے کے لئے شہریوں سے جوتے رکھنے کی فیس وصول کرنے سے عدالت نے روک دیا،لاہور ہائیکورٹ نے جوتے رکھنے اور پارکنگ کی فیس لینے کا اقدام غیر قانونی قرار دے دیا، تمام درباروں پر واش رومز کے استعمال پر بھی پیسے لینے سے روک دیا ،ڈی جی اوقاف نے عدالت میں بیان دیا کہ امور چلانے کیلئے آمدن کے کوئی متبادل ذرائع نہیں ۔جس پر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ درباروں کو چھوڑ کر واپس حکومت کے حوالے کردیں ،محکمہ اوقاف کو درباروں سے بھتہ وصولی کی اجازت نہیں دیں گے ۔

عدالت نے کہا کہ ایسا کرنے کے لیے قانون کے مطابق اخبارات میں اشتہار دیا جانا ضروری ہے، اوقاف والے غیر قانونی طور پر بیت الخلاء اور دیگر جگہوں پر اپنے بندے بٹھا دیتے ہیں، نمازیوں سے بھی پاپوش رکھنے کے عوض پیسے لیتے ہیں اگر اوقاف عوام کو اپنی سروسز نہیں دے سکتا تو اس محکمہ کو ختم کردیں آپ جوتوں سے لے کر موبائل رکھنے پر بھی چارجز لیتے ہیں عدالت نے پندرہ دن میں اس حکم پر عمل کرکے رپورٹ جمع کرانے کا بھی حکم دے دیا

واضح رہے کہ مزارات پر جوتے رکھنے اور پارکنگ فیس کے خلاف عدالت میں ایک درخواست زیر سماعت تھی جس پر عدالت نے آج فیصلہ سنایا

مزارات پر اکٹھا ہونے والا چندہ کہاں خرچ ہوتا ہے؟ چیف جسٹس

26 کروڑ کا نقصان برداشت کر لیا،مزید نہیں، پنجاب میں مزارات کھولنے کا فیصلہ