لاہور:میاں نوازشریف کے پاسپورٹ کی مدت ختم:اگر پاکستان نے تجدید نہ کی توکیا بھارتی حکومت سیاسی پناہ دے گی،اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف کے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کی مدت اگلے سال 2021ء کے دوسرے مہینے فروری میں ختم ہو جائے گی۔ اس مدت کے بعد میاں نوازشریف کے لیے پاپسورٹ کی تجید بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے ،
اس صورت میں کیا صورت حال سامنے آسکتی ہے، امیگریشن سے متعلقہ ماہرین کہتے ہیں کہ اس صور ت میں برطانیہ میں زیر علاج نواز شریف کے پاسپورٹ کی میعاد ختم ہونے پر ان کے پاس چار آپشن ہونگے۔
ان ماہرین کا کہنا ہےکہ سب سے پہلی صورت یہ ہوگی کہ وہ نئے پاسپورٹ کیلئے حکومت پاکستان سے درخواست کریں۔
دوسرا آپشن برطانیہ سے دوسرے ملک منتقلی ہے۔ ان کی سعودی عرب اور قطر منتقل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مودی حکومت پردباو ہے کہ نوازشریف کو بھارت آنے کی دعوت دیں، چونکہ نوازشریف کے اباواجداد کا تعلق بھارت سے ہے اورآج بھی نوازشریف کی بھارت میں موجود پرانی رہائش ان کے لیے محفوظ ہے بھارتی حکومت نے اس میں کسی کورہائش کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ یہ چند سال قبل یہ بھی بھارتی حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ مودی نے وہ رہائش خالی کروا کراس کی تزین وآرائش کروا رکھی ہے اور اسے ایک تاریخی عمارت کےطور پرمحفوظ کرلیا ہے ،
کیا واقعی نوازشریف بھارت میں جاسکتے ہیں اس سلسلے میں یہی کہا جارہا ہے کہ اگرنوازشریف بھارت جاتے ہیں تو وہ وہاں ان کی بڑی عزت کی جائے گی نوازشریف شاید چلے بھی جائیں لیکن ان کے کچھ دوست ان کو ان حالات میں بھارت نہیں جانے دیں گے کیوں کہ نوازشریف کی باقی سیاست بھی دفن ہوسکتی ہے اوران حالات میں ایسی غلطی کی گنجائش نہیں
ہاں لندن میں تویہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ نوازشریف کو پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے کی صورت میں وہاں کچھ لابیان پہلے ہی کام کررہی ہیں ، ان لابیوں میں اکثروہ لوگ شامل ہیں جوپاکستانی نہیں ، اس حوالے سے تو پاکستان میں چند دن پہلے ایسی بھی خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ بھارتی لابی نوازشریف کی بھرپورمدد کررہی ہے
اگرنوازشریف بھارت نہیں جاتے اورامکان بھی یہی ہے کہ وہ ان حالات میں بھارت نہیں جائیں گے توپھر تیسرے نمبر پر سیاسی پناہ کیلئے حکومت برطانیہ کو درخواست دیں یا پھر پاکستان واپس آ کر مقدمات کا سامنا کریں اور جیل چلے جائیں۔
نواز شریف نے گزشتہ سال برطانیہ سے وزٹ ویزا حاصل کیا تھا، جس کی میعاد ختم ہو چکی ہے اور کوڈ 19 کی بنیاد پر انہوں نے ویزا میں توسیع کیلئے برطانوی حکومت سے رجوع کر رکھا ہے۔بظاہر ویزا توسیع میں کوئی رکاوٹ نہیں لیکن فروری میں پاسپورٹ کی میعاد ختم ہونے پر ویزا میں توسیع مسئلہ بن سکتی ہے۔ نواز شریف نے خاندان اور پارٹی کے سینئر رہنماﺅں کیساتھ مشاورت کی ہے۔
دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وزارت داخلہ نے عمران خان کو ساری صورت حال سے متعلق آگاہ کردیا ہے ، اور اس سلسلے میں نئے وزیرداخلہ شیخ رشید کی وزیراعظم عمران خان سے تفصیلی بات ہوچکی ہے ،
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر میاں نواز شریف کا پاسپورٹ تجدید کے لیے آتا ہے تو انہیں کیا کرنا چاہیے؟ واضح رہے کہ مشرف کے دور جب میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب ملک بدر کیا گیا تھا تو حکومت خود ہی ان کے پاسپورٹ کا اجرا کر دیتی تھی تاہم اس میںضمانت یہ ہوتی تھی وہ سعودی عرب سے باہر کہیں سفر نہیںکریں گے۔ تاہم اب کی بار ایسا نہیںلگ رہا کیونکہ حکومت پہلے ہی واویلا کر رہی ہے کہ میاں صاحب ہمیںدھوکا دے کر لندن بھاگ گئے ہیں۔ بلکہ وہاں سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک مکمل مہم چلا رہے ہیں اس لیے اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کی حکومت ان کے پاسپورٹ کی تجدید کرے ۔ بلکہ حکومت ان کی واپسی کے لیے کوشش کررہی ہے کہ وہ وطن واپس آ کر مقدمات کا سامنا کریں۔
میاں صاحب کے پاس دوسرا آپشن یہ ہے کہ وہ پاکستان آ کر پاسپورٹ کی تجدید کروائیں جو کہ ناممکن ہے۔ میاں صاحب کی دختر اور ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز ایک سے زیادہ مرتبہ اپنے والد کی فوراً وطن واپسی کے امکانات رد کر چکی ہیں :ان حالات کے تناظر میں صاف ظاہر ہے کہ عمران خان صاحب پاسپورٹ کی میعاد کے خاتمے پر حکومت برطانیہ سے درخواست کریں گے کہ نواز شریف ایک قومی مجرم ہیں اس لیے انہیں پاکستان واپس بھجوایا جائے جو کہ کسی صورت ممکن نہیں لگتا۔
وزارت داخلہ اورامیگریشن حکام کا خیال ہے کہ تیسری صورت یہ ہوگی کہ صورت یہ ہے کہ نواز شریف پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے بعد بھی برطانیہ میں ہی رہیں۔ موجودہ پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے اور نیا جاری نہ ہونے کی صورت میں نواز شریف ایک بے وطن شخص بن جائیں گے جس کے بعد ان کے پاس مزید دو آپشن ہوں گے۔ اول تو وہ دیگر سیاسی رہنماؤں کی طرح سیاسی پناہ کی درخواست دے دیں۔ دوسری صورت میں نواز شریف برطانیہ کی وزارت داخلہ کو ایک درخواست دے سکتے ہیں کہ انہیں وہاں رہنے کی اجازت دی جائے اور حکومت برطانیہ اس بات کی اجازت دے سکتی ہے یہ کوئی ایسا پیچیدہ عمل نہیں ہے۔
ایک صورت حال جس پر ماہرین کا خیال ہے کہ ممکن ہونا نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ برطانیہ میں اگر کوئی بھی شخص ثابت کر دے کہ اپنے ملک میں اس کی جان کو خطرہ ہے تو برطانوی قوانین اور قانونی روایات کے تحت اسے وہاں رہنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ سابق پاکستانی وزیر اعظم کو علاج کی غرض سے پاسپورٹ کی غیر موجودگی میں بھی برطانیہ میں قیام طویل کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ تاہم ہر دو صورتوں میں انہیں مطلوبہ ثبوت برطانوی حکام کے سامنے پیش کرنا ہوں گے۔ یہاں پر یہ بات بھی واضح رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین کوئی بھی ایکسٹراڈیشن ٹریٹی موجود نہیں ہے اور اس سے قبل اسحاق ڈار اور ماضی میں بھی پاکستان کے کئی سیاسی رہنما برطانیہ میں پناہ گزین رہے ہیں۔
اگر حکومت پاکستان کے دباؤ کی وجہ سے حکومت برطانیہ فرض محال ان دونوں آپشنز کو رد کر دیتی ہے اور میاں صاحب کو پاسپورٹ کی تجدید کے لیے مجبور کرتی ہے تو میاں صاحب لازما چوتھا آپشن یعنی وہ کسی بھی عرب ملک خاص کر سعودی عرب یا قطر کو ترجیح دیں گے ان حالات میں جبکہ نوازشریف کو بھارت کی طرف سے کھلی پیش کش ہے وہ کسی عرب ملک میں پناہ لینا بہتر سمجھیں گے اور اس کے لیے وہ سادہ سا عمرہ کا بہانا بنا کر سعودی عرب کا رخ کریں گے یا پھر قطر کا۔
دوسرا یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سعودی حکام کی نوازشریف سے ملاقاتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ نوازشریف کو سعودی عرب عمرے کے بہانے سیاسی پناہ دے دے گا
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ قطر کے ساتھ تو میاں نوازشریف کے کاروباری مراسم ہیں وہ نوازشریف کو ہرصورت برداشت کریں گے لیکن سعودی عرب عمران خان کے سعودی عرب سے متعلق دو ٹوک موقف کی مخالفت میں نوازشریف کوبلاکرعمران خان پرایک دباو قائم کرنے کے کوشش کریں گے یا پھرسعودی عرب کی خواہشات کے مطابق کام کریں گے لیکن یہ ہونہیں سکتا ، سعودی عرب سے متعلق خارجہ پالیسی عمران خان نہیں بلکہ تمام اداروں نے ملک کرتیار کی ہے اور اس میں اب پاکستان کسی کی مرضی کا محتاج نہیں رہے گا
اس کی بڑی وجہ اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کونصیحت کرنے کا پہلوبھی شامل ہیں ، اس سلسلے میں پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے مقدس مقامات کا تحفظ اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہے اورکرے گا لیکن سعودی عرب اوردیگر عرب ملکوں کی اسرائیل سے دوستی کے معاملے میں وہ کسی کا پابند نہیں رہے گے،
اس لیے نوازشریف کو سعودی عرب بلائے یا قطرپاکستان کوکوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ پاکستان بہر کیف ان ممالک پردباوبڑھانے میں کامیاب ضرور ہوجائے گا اورپھرنوازشریف کا معاملہ پھرحکومت پاکستان کی کورٹ میں آگرے گا
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ میاں صاحب کو شاید چوتھے آپشن کی طرف ہی جانا پڑے اور حکومت بھی کوشش کرے گی وہ چوتھے آپشن کی طرف ہی جائیں کیونکہ اس وقت لندن حکوت کے خلاف سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ جس کی وجہ وہاں ن لیگ اور دیگر سیاسی قائدین کی موجودگی ہے۔
اس صورتحال میں یہ ممکن ہےکہ تحریک انصاف کی حکومت اور سعودی عرب کے مابین تعلقات مزید پیچیدہ ہوجائیں اور ممکن ہے کہ پاکستان میاں صاحب کی واپسی کا مطالبہ زیادہ شدو مد سے کرے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان پاکستان اگلے مہینے تشریف لا رہے ہیں ۔
بظاہر ان کا دورہ تجارتی نوعیت کا ہے تاہم ان کی آمد کا مقصد ممکنہ طور پر نواز شریف کی سعودی عرب میں پناہ پر بحث کرنا بھی ہو۔ اگر میاں صاحب سعودی عرب میں پناہ لے لیتے ہیں تو اس سے تحریک انصاف کو بھی فیس سیونگ کا موقعہ مل جائےگا کہ وہ تو میاں صاحب کو واپس لانے کے لیے بالکل تیار تھے اور برطانیہ سے بات چیت بھی کر لی تھی تاہم اب یہ ممکن نہیں رہا کیوںکہ سعودی عرب اور شریف خاندان کے پرانے اور ذاتی تعلقات ہیں۔ پس آنے والے وقت میں میاں صاحب کی سواری سعودی عرب تشریف لانے کے امکانات بہت زیاد ہیں تاہم یہ بات وقت ہی بتائے گا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
دوسری طرف برطانیہ سے آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ نوازشریف سخت دباو میں اوراگربرطانیہ نوازشریف کو قبول کرتا ہے تونوازشریف کو برطانوی ایجنڈے پرعمل پیرا ہونا ہوگا جو کہ پاکستان کے لیے اچھا شگون نہیں
بہرکیف اگلے آنے والے دنوں میں یہ عمران خان کے پاس بڑے بڑے وفود آئیں گے لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ عمران خان نہ تو کسی کے دباو میں آئے گا اورنہ ہی ریلیف دے گا ، ہاں اس دوران کوئی اسلام آباد ہائی کورٹ نہ پہنچ جائے ، عدالت میں جانے سے معاملہ نیا رخ اختیارکرسکتا ہے ، یہ ایک روایت بن چکی ہے اورایک تاریخ رقم ہورہی ہے کہ ملک کے کسی دوسرے کونے سے اٹھ کراسلام آباد ہائی کورٹ جانے والے کوریلیف تو مل جاتا ہے لیکن ابھی تو یہ امکانات ہیں کیا ممکنا ت میں بھی شامل ہے جیسے جیسے وقت گزرے گا حقیقت کھل کرسامنے آتی جائے گی
دوسری طرف حکومت کے مخالف پی ڈی ایم اتحاد توٹوٹ چکا حکومت کے خلاف تمام اپوزیشن کی تحریک سے ہوانکل چکی اب حکومت اپوزیشن کو کس کس پیج پرکیسے کھیلاتی ہے یہ حکومتی حکمت عملی ہوگی اان حالات میں کوئی یہ گمان کرے کہ حکومت پرکسی قسم کا دباو ہے تویہ موقف اب اپنی قوت کھوچکا ہے
ان حالات میں دوسری طرف ن لیگ کے ارکان اسمبلی کوتویہ عین الیقین ہوچکا ہے کہ نوازشریف فیملی تواقتدارسے آوٹ ہوچکی ، اب ارکان اسمبلی نے آنے والے الیکشن کس طرح لڑنے ہیں وہ بہترجانتے ہیں اوروہ حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں بس ایک دیر ہے اندھیر نہیں ، نوازشریف کے لیے تمام راستے بند ہیں اگرآتے ہیں تو سامنے جیل کی اندھیرکوٹھڑی اوراگرنہیں آتے تو پھر ساری زندگی جلاوطنی میں گزرے گی اورموجودہ حکومت اپنے اگلے پانچ سالوں کی بھی منصوبہ بندی کرنے میں کامیاب ہوجائے گی