میر ظفر اللہ جمالی کے ” جانشین“

میر ظفر اللہ خان جمالی کو پاکستان کے تیرہویں اور بلوچستان سے منتخب ہونے والے پہلے وزیر اعظم کا اعزاز حاصل رہا ہے
0
86

میر ظفر اللہ جمالی کے ” جانشین“

قصے اورکہانیاں \ آغا نیاز مگسی

میر ظفر اللہ خان جمالی کو پاکستان کے تیرہویں اور بلوچستان سے منتخب ہونے والے پہلے وزیر اعظم کا اعزاز حاصل رہا ہے وہ اس سے قبل بلوچستان کے وزیر اعلی، جنرل ضیاء الحق کے دور میں 1985 میں ہونے والے غیر جماعتی عام انتخابات میں بلوچستان کے ضلع نصیر آباد سے ایم این اے منتخب ہو کر وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں پانی و بجلی کے وفاقی وزیر رہے اس کے علاوہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے جنرل ایوب خان کے مقابلے میں وہ انتخابات کے دورن محترمہ فاطمہ جناح کے سیکورٹی گارڈ اور پولنگ ایجنٹ بھی رہے ۔ ۔ میر ظفر اللہ جمالی کا 2 دسمر 2020 میں آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالاجی راولپنڈی کے ہسپتال میں انتقال ہوا۔ میر ظفر اللہ جمالی کے چچا زاد بھائی میر جعفر خان جمالی کے فرزند میر تاج محمد جمالی بلوچستان کے وزیر اعلی رہے ان کے بھائی میر سکندر حیات جمالی وفاقی سیکریٹری اور بلوچستان کے چیف سیکریٹری رہے ان کے ایک اور قریبی رشتہ دار میر جان محمد جمالی ایک بار بلوچستان کے وزیر اعلی دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور دو بار سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین رہے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اپنے علاقہ کو پختہ سڑکیں تک نہیں دے سکے کوئی طبی ادارہ یا ہسپتال اور کوئی یونیورسٹی نہیں دے سکے میر ظفر اللہ جمالی نے اپنے علاقے میں صرف ایک کیڈٹ کالج قائم کیا لیکن اس کے باوجود میر ظفر اللہ جمالی جب تک زندہ رہے وہ خود بھی اور میر جان محمد جمالی بھی فرشتوں کے ووٹ سے کامیابی حاصل کرتے رہے یہ دونوں رہنما کسی ایک جماعت میں جم کر نہیں رہے بلکہ ہر اس جماعت میں شامل ہوتے رہے جہاں سے انہیں اقتدار میں آنے کی امید نظر آتی تھی لیکن جوں ہی میر ظفر اللہ جمالی کی وفات ہوئی تو ناکامیاں ان کے خاندان کا مقدر بن گئیں یا یوں کہا جائے کہ ان کی آزمائشیں شروع ہو گئی ہیں ۔ میر ظفر اللہ جمالی نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے چھوٹے فرزند اور جانشین عمر خان کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل کرا لیا تھا اور پھر ان کو صوبائی وزیربھی بنوا لیا تھا۔

11 اپریل 2024 کو عید الفطر کے دوسرے روز ہمارا روجھان جمالی جانے کا اتفاق ہوا روجھان جمالی میں میر ظفر اللہ خان جمالی کے لیے جو نشست مختص تھی اس نشست پر ہمیں ظفر اللہ خان کے پوتے اور میر عمر خان جمالی کے فرزند میر عبدالوہاب جمالی براجمان نظر آئے ۔ میر ظفر اللہ جمالی نے اپنے چھوٹے فرزند میر عمر خان کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کر دیا تھا میر صاحب کی وفات کے بعد میر عمر خان اس نشست پر بیٹھا کرتے ہیں ظفر اللہ خان کے دوسرے بیٹے اس نشت پر نہیں بیٹھ سکتے ۔ میر عبدالوہاب کے اس مخصوص نشست پر بیٹھنے سے جمالی قبیلے کو یہ ایک پیغام دیا گیا ہے کہ میر عمر خان کا یہ برخوردار ان کا سیاسی و قبائلی جانشین ہے ۔ میر ظفر اللہ خان جمالی نے ایچی سن کالج اور اس کے بعد لارنس کالج میں تعلیم حاصل کی تھی پھر ان کے فرزند میر عمر خان جمالی نے بھی ایچی سن کالج سے تعلیم حاصل کی اور اب میر عبدالوہاب جمالی بھی ایچی سن کالج میں زیر تعلیم ہیں ۔ میر ظفر اللہ جمالی کی مخصوص نشست پر بیٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ابھی باضابطہ طور پر جانشینی کی تربیت شروع ہو چکی ہے اور سیاسی قیادت و رہنمائی کے لیے ان کی ذہن سازی کی جا رہی ہے ۔ میر ظفر اللہ جمالی کی وفات کے بعد پہلی بار 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کا انعقاد ہوا جس میں میر ظفر اللہ کے دو بیٹے میجر رٹائر جاوید خان جمالی قومی اسمبلی اور عمر خان جمالی صوبائی اسمبلی کی نشست پر ہار گئے اس کے علاوہ میر جان محمد جمالی بھی شکست سےدوچار ہوئے میر ظفر اللہ جمالی کے نااہل قرار پانے والے بھتیجے سابق صوبائی وزیر میرفائق جمالی کی اہلیہ محترمہ راحت جمالی بھی صوبائی اسمبلی کی نشست ہار گئیں تاہم پی پی پی کی جانب سے راحت جمالی کو خواتین کی مخصوص نشست کے لیے سینیٹر بنایا گیا۔ میر ظفر اللہ جمالی کے فرزند اور سیاسی جانشین خود میر ظفر اللہ جمالی اور ان کے بیٹے سابق صوبائی وزیر عمر خان جمالی کی خراب کارکردگی کا ان کی شکست کی وجہ ہے جبکہ عمر خان نے ابھی سے اپنے کمسن بیٹے میر عبدالوہاب جمالی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا ہے ۔ میر ظفراللہ جمالی کی مخصوص نشست پر صرف عمر خان اور عبدالوہاب بیٹھ سکتے ہیں اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ ہم نے اس دوران دیکھا اور محسوس کیا کہ عمر خان کی غیر موجودگی میں صرف میر عبداوہاب بیٹھ سکتے ہیں جبکہ اس دوران میر ظفر اللہ کے بیٹے میر جاوید جمالی اس نشست کو صرف حسرت بھری نگاہ سے دیکھ رہے تھے مگر اس نشست پر بیٹھ نہیں سکے کیوں کہ مسئلہ ”جانشینی“ کا ہے ۔

Leave a reply