fbpx

موسیقی میں شوکت علی کی شراکت ناقابلِ فراموش ہے عدنان سمیع

پاکستانی نژاد بھارتی گلوکار و موسیقارعدنان سمیع نے لیجنڈری فوک گلوکار شوکت علی کی وفات پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلاشبہ ایک حیرت انگیز آواز کے مالک تھے۔

باغی ٹی وی :عدنان سمیع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں شوکت علی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیجنڈ گلوکار شوکت علی کی وفات کی خبر نے انہیں افسردہ کردیا ہے۔


انہوں نے لکھا کہ موسیقی میں ان کی شراکت ناقابلِ فراموش ہے بلاشبہ وہ ایک بہترین آواز رکھتے تھے۔

اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے شوکت علی کے بلند درجات کی دعا بھی کی۔

واضح رہے کہ معروف لوک گلوکار شوکت علی طویل علالت کے بعد یکم اپریل کو لاہور میں انتقال کر گئے، وہ جگر کے عارضے میں مبتلا تھے ۔

شوکت علی نے زندگی کے تقریباً 55 سال فن کی دنیا کو دیئے اس دوران انہوں نے پنجابی لوک گانوں کے علاوہ صوفیانہ کلام بھی گایا جبکہ اردو میں بھی نغمے ریکارڈ کروائے اور ان کے ملی نغمے بھی بہت مقبول ہوئے۔

1965 کی پاکستان انڈیا جنگ کے دنوں میں انہوں نے ایک گانا ریکارڈ کروایا تھا ’جاگ اٹھا ہے سارا وطن، ساتھیو، مجاہدو‘ بہت مقبول ہوا اور آج بھی اکثر سننے کو ملتا ہے شوکت علی کو ان کی فنی خدمات کے صلے میں 1990 میں صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.