ورلڈ ہیڈر ایڈ

مودی حکومت کی نظربند کشمیریوں کو دھمکی ، محبوبہ مفتی کی بیٹی نے بتا دی

مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا جاوید نے ایک مودی حکومت کے حوالے سے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے۔

محبوبہ مفتی نے پارٹی وفد سے ملنے سے انکار کیوں کیا؟

التجا مفتی کی ایک ٹوئٹ میں مطابق کشمیر کی جیلوں میں قید بھارت نوازسیاسی رہنماﺅں کو مودی حکومت نے دھمکی دی ہے کہ وہ خاموش رہیں۔ اگر انھوں نے اپنی نظر بندی کو عدالت میں چیلنج کیا تو ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ یعنی پی ایس اے لگایا جائے گا۔

التجا کے اس ٹوئٹ کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے کسی بھی بھارت نواز سیاستدان نے ابھی تک عدالت سے رجوع نہیں کیا اس لیے التجا کی ٹوئٹ کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ بھارت نواز سیاستدان 5اگست سے نظربند یا قید ہیں۔

پنڈتوں کے کشمیر چھوڑنے کی وجہ محبوبہ مفتی نے بتا دی

دریں اثناء نیشنل کانفرنس کے رہنما فاروق عبداللہ 5 اگست سے گھر میں نظر بند ہیں۔ جب تامل ناڈو میں ایس ڈی ایم کے لیڈر وائیکو نے سپریم کورٹ میں ان کی رِہائی کے لیے درخواست دائر کی تو قابض انتظامیہ نے فاروق عبداللہ کے خلاف پی ایس اے لگا دیا۔

التجا جاوید کو اپنی ماں محبوبہ مفتی سے ملنے کی اجازت مل گئی

اسی سرح انگریزی ویب سائٹ ’دی ٹیلی گراف‘ نے جیل میں بند ایک سیاسی لیڈر کے بیٹے کے حوالے سے بتایا کہ انھوں نے ظلم کے ڈر سے عدالتوں میں درخواست دائرنہیں کی۔ اگر ہم عدالت میں اپیل کرتے ہیں تو میرے والد کو طویل مدت تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.