بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کے نفرت انگیز اقدامات جاری،مدر ٹریسا چیریٹی کے لیے غیر ملکی فنڈنگ ​​روک دی

0
43

بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کے نفرت انگیز اقدامات جاری ہیں جبکہ اس لپیٹ میں مسلمانوں کے ساتھ مسیحی برادری بھی آگئی ہے ،انتہا پسند بھارتی حکومت نے مدر ٹریسا کی طرف سے قائم کردہ خیراتی ادارے کے لیے غیر ملکی فنڈنگ ​​لائسنس کی تجدید کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق مدر ٹریسا مشنری آف چیریٹی کے تحت ہزاروں ورکرز(ننز) کام کر رہی ہیں جو لاوارث بچوں کے لیے گھر، اسکول، کلینک اور ہاسپیس جیسے منصوبوں کی نگرانی کرتی ہیں کرسمس کے دن، ہندوستان کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ غلط معلومات کی وجہ سے دوبارہ رجسٹریشن نہیں کی جا رہی –

ہندو انتہا پسند افراد طویل عرصے سے چیریٹی پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ اپنے پروگراموں کو لوگوں کو عیسائی بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے تاہم ادارے کی جانب سے ان تمام الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

بھارت:انتہاپسند ہندوؤں نے کرسمس پر’سانتا کلاز‘کو بھی نہ بخشا :مگرعالمی برادری…

دی مشنریز آف چیریٹی، جس کی بنیاد 1950 میں مدر ٹریسا نے رکھی تھی، ایک رومن کیتھولک تھیں جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کولکتہ میں سماجی کاموں میں گزارا تاہم سنٹر کی انتظامیہ نے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ 2014 میں مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو امتیازی سلوک اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے صرف اس سال بھارت میں 300 سے زیادہ عیسائی مخالف واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

ایک اسکول کی پرنسپل نے بتایا کہ پچھلے ہفتے، 200 سے 300 لوگوں کا ایک ہجوم مدھیہ پردیش کے ایک عیسائی اسکول میں اس وقت گھس آیا جب طلبا امتحان دے رہے تھے، ہجوم نے عمارت پر پتھراؤ بھی کیا بچوں کو وہاں سے نکال کے اسکول کے دوسرے حصے میں بٹھایا گیا لیکن وہ خوف کی وجہ سے پیپر نہیں دے سکے۔

بھارت:انتہاپسند ہندوؤں نے کرسمس پر’سانتا کلاز‘کو بھی نہ بخشا :مگرعالمی برادری…

واضح رہے کہ کرسمس کے موقع پر سانتا کلاز کے پتلے کو نذر آتش کردیا تھا ریاست اترپردیش کے شہر آگرہ میں ہندوانتہا پسند جماعت بجرنگ دل نےاحتجاجی مظاہرہ کیا کرسمس کے موقع پر انتہا پسند کی جماعت کی جانب سے بھارت میں ہندوؤں کی مبینہ جبری تبدیلی مذہب کو بنیاد بنا کر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا بجرنگ دل کی جانب سے مظاہرہ 24 دسمبر کو سینٹ جان چوک پر کیا گیا جبکہ انتہاپسند مظاہرین نے ’سانتا کلاز مردہ باد اور گو بیک سانتا کلاز‘ کے نعرے بھی لگائے تھے-

خیال رہے کہ بھارت اقلیتوں کیلئے غیر محفوظ ملک سمجھا جاتا ہے، امریکا کے کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے بھارت کو اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار دیا تھا۔

گزشتہ دنوں انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی حکمران جماعت نے ہندو انتہا پسندوں کو اقلیتوں پر حملہ کرنے اور انہیں ہراساں کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

منشیات کے جھوٹے الزام پر بھارتی اداکارہ نے خودکشی کر لی

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمزکے مطابق ہندو انتہا پسند مسیحی کمیونٹی کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ، زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے ہندو انتہا پسند عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے اور ان کو عبادت سے روکتے ہیں، عیسائیوں پر بڑھتے ظلم کی وجہ ہندو انتہا پسندانہ سوچ ہے جس کی وجہ سے اقلیت خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں، ہندو انتہا پسند بھارت میں رہنے والے عیسائیوں کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق موت کے خوف سے عیسائیوں نے خود کو ہندو ظاہر کرنا شروع کر دیاہے ، عیسائیوں کے زیر تسلط چلنے والے خیراتی ادارے کو ہندو انتہا پسند وکلا نے بند کروانے کیلئے متعدد بار شکایت درج کروائیں، ہندو انتہا پسندبھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کی نسل کشی پر بھی خاموش ہیں-

امریکی اخبار کے مطابق اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بھارتی وزیر اعظم کی خاموشی پر عالمی برادری کو شدید تحفظات ہیں، ہندو انتہا پسند مودی ہندوستان کو قوم پرست ملک بنانے کے خواہ ہیں-

دوران سفر گاڑی میں سو جانے والی خاتون کو ’اوبر‘ ڈرائیور نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

Leave a reply