fbpx

محمد رضوان کی سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی مذمت

قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید مذمت کی ہے-

باغی ٹی وی : فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر کرکٹر محمد رضوان نے جاری بیان میں سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

قومی کرکٹر نے لکھا کہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، یہ دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کا دل اور روح ہے، متعدد لوگ اسے دل سے حفظ کر چکے ہیں، کیا آپ انہیں بھی جلا دیں گے؟اب وقت آگیا ہے کہ دنیا بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کے خلاف اٹھ کھڑی ہو-

سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی ،وزیراعظم شہباز شریف کی شدید الفاظ میں مذمت


اس سے قبل سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی اس حوالے سے بیان جاری کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ قرآن عظیم کتاب ہے، یہ ہمیں دوسرے مذاہب کے ساتھ رواداری کا درس سکھاتی ہے، قرآن کو نذر آتش کرنے کی نمائش اور تشہیر کرنا ایک بے شرمی کا کام ہے، میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں اور اس کے خلاف کھڑا ہوں اسلامو فوبک کارروائیاں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ سوئیڈن اور ترکیہ کے درمیان نیٹو کی رکنیت کو لے کر کشیدگی چل رہی ہے۔ سوئیڈن نیٹو میں شمولیت کا خواہاں ہے لیکن ترکیہ گزشتہ برس مئی سے اس کی مخالفت کر رہا ہےترکیہ کا کہنا ہے کہ پہلے سوئیڈن ترک صدر طیب اردگان کے ناقدین اور کرد رہنماؤں کو ڈی پورٹ کرے لیکن سوئیڈن یہ مطالبات تسلیم نہیں کر رہا۔

سویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی پرمسلم دنیا کا شدید احتجاج،عالمی برادری سےنوٹس لینےکامطالبہ

اسی اثناء میں سوئیڈن کی انتہائی دائیں بازو کی شدت پسند جماعت کے رہنما راسموس پلودن نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہفتے کو اسٹاک ہوم میں ترک سفارتخانے کے باہر احتجاج کرے گا اور اس دوران وہ قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے سوئیڈش حکام نے راسموس کو قرآن کی بے حرمتی کی اجازت دے دی تھی جس پر ترکیہ نے بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا جبکہ دو روز میں سوئیڈن کے سفیر کو دو بار طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کراچکا ہے۔

ترکیہ نے نیٹو رکنیت کے معاملے پر بات چیت کیلئے سوئیڈش وزیر دفاع کا طے شدہ دورہ بھی منسوخ کردیا ہے اور کہا ہے کہ اب مذاکرات کا کوئی مقصد باقی نہیں رہاسوئیڈن کے وزیر دفاع پال جانسن نے کہا ہے کہ ترکیہ کے ساتھ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکیں۔

خیال رہےکہ راسموس پلودن اور اس کی پارٹی کی جانب سے اس سے قبل بھی اسلام مخالف حرکات کی جاتی رہی ہیں، 2022 اور 2020 میں بھی پلودن نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قرآن پاک کو نذر آتش کرنےکی تقریب کے انعقاد کی کوشش کی تھی جس کے بعد سوئیڈن میں بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

حکومت کا توشہ خانہ ریکارڈ پبلک کرنے کا فیصلہ