ملک میں‌ توانائی کی کھپت اور قابل تجدید توانائی سے متعلق حکومت کس نئی پالیسی پر کام کر رہی ہے؟ اہم خبر

ورلڈ اکنامک فورم کے صدر نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر سے ملاقات کی ہے، اس موقع پر معاون خصوصی نے ڈبلیو ای ایف کے صدر کو ملک میں توانائی کی کھپت اور قابل تجدید توانائی پر حکومت کی نئی پالیسی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ قابل تجدید توانائی میں 2025 تک 20 فیصد اور 2030 تک 30 فیصد اضافہ ہوگا۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کوورلڈ اکنامک فورم کے صدر Borge Brende نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر سے ملاقات کی معاون خصوصی نے ڈبلیو ای ایف کے صدر کو ملک میں توانائی کی کھپت اور قابل تجدید توانائی پر حکومت کی نئی پالیسی کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ہم نے قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں آہستہ آہستہ اضافے کے حصول کا ہدف مقرر کیا ہے جس میں 2025 تک 20 فیصد اور 2030 تک 30 فیصد اضافہ ہوگا۔ ہمارا مقصد 2030 تک ہائیڈل سمیت 60 فیصد صاف توانائی کا حصول ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ریکوری اور بجلی چوری پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے بازیاب ہونے کے بعد 80 فیصد فیڈرز پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم اور ان پر بجلی میں مفت اضافہ کیا گیا ہے. ملاقات کے دوران گیس کے شعبہ کے بارے میں معاون خصوصی نے بتایا کہ ہم نے گیس قیمتوں کو لاگو کرنے کے لئے ٹیئرسسٹم (Tier system) متعارف کرایا اور معاشرے کے نچلے طبقے کو تحفظ فراہم کیا ہے. اسی طرح ان کا کہنا تھا کہ ہم برآمداتی بنیادوں پر صنعتوں کے لئے گیس کی قیمتوں پر بھی پہلے ہی سبسڈی فراہم کر چکے ہیں۔

ڈبلیو ای ایف کے صدر نے پاکستان کی بہترین سیکیورٹی اور توانائی صورتحال کو سراہا اور نئی قابل تجدید توانائی پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے اس کو وسیع پیمانے پر متعارف کروانے کے لئے ڈبلیو ای ایف کی خدمات کی پیشکش کی۔ واضح‌ رہے کہ حکومت اس وقت ملک میں‌توانائی کی کھپت اور قابل تجدید توانائی سے متعلق ایک نئے منصوبہ پر کام رہی ہے. اس ملاقات میں مشیر پٹرولیم کی جانب سے اسی منصوبہ سے آگاہ کیا.
محمد اویس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.