ہیڈ کانسٹیبل ممتاز احمد کے قاتلوں کو منطقعی انجام تک پہنچایا جائے گا.ڈی پی او عمر سلامت

رحیم یارخان ( ) ڈی پی او عمر سلامت نے کہا ہے کہ شہید ہیڈ کانسٹیبل ممتاز احمد کے قاتلوں کو منطقعی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ پنجاب پولیس بہادر سپوت پر بزدلانہ حملہ کر کے مجرمان نے اپنے لیے مشکل کھڑی کر لی ہے۔ مفرور قاتل، اغواء کار اور ڈاکوؤں کے وار کا حکمت اور پوری طاقت سے جواب دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہید ہیڈ کانسٹیبل کے آبائی علاقہ چک 81 میں ہونے والے نماز جنازہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز احمد پولیس کا ایک بہادر، نڈر اور جرائم کے خلاف لڑنے والا عظیم سپوت تھا جس کی ساری سروس کرائم فائٹنگ سے بھری پڑی ہے جس پر وہ اسے سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر شہید ممتاز کے بیٹے حماد احمدکو گلے سے لگا کر اس کے دکھ کا مداوا کرنے کی کوشش کی اور اس دوران وہ خود انتہائی رنجیدہ ہو گئے۔ انہوں نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا ممتاز شہید کے قاتلوں کو ان کے منطقعی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام تر وسائل اور صلاحیتیوں کا استعمال کیا جائے گا انہیں کیفر کردار تک پہچا کر دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سفاک اور بزدل قاتلوں کو نے پنجاب پولیس کے بہادر سپوت کو شہید کر کے اپنے لیے بہت بڑی مشکل کھڑی کر لی ہے ہم انہیں پاتال سے کھینچ باہر نکالیں گے اور اس واردات کے تمام کرداروں کو بے نقاب کر کے انجام تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے بزدلانہ واردات کے بعد فرار ہونے والے قاتلوں کو حکمت عملی اور بھر پور طاقت سے جواب دینے کا بھی عندیہ دیا۔ اس موقع پر شہید ممتاز کی والد مشتاق احمد و دیگر عزیز و اقارب سے بھی انہوں نے دلی ہمدردی کا اظہار کہا اور کہا کہ یہ پنجاب پولیس اور اہل رحیم یارخان کے لیے بڑا نقصان ہے۔ ممتاز شہید جیسے اہلکار روز روز پیدا نہیں ہوتے۔

رحیم یار خان ( ) پولیس کا اندھڑ گینگ کی کمین گاہ اور ملحقہ علاقوں کا محاصرہ سرچ آپریشن کے دوران کمیں گاہ مسمار کر دی۔ اندھڑ ڈاکوؤں نے گزشتہ روز ہیڈ کانسٹیبل ممتاز کو شہید کر دیا تھا پولیس کو اندھڑ ڈاکوؤں کی تلاش تمام زرایعے ایکٹو کر دئیے۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ روز اندھڑ ڈاکوؤں نے اغواء کاری اور ڈاکہ زنی کو کچلنے کے لیے پولیس کی کامیابیوں میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ہیڈٖ کانسٹیبل ممتاز احمد بلا کو ایک حلمے کے دوران شہید کر دیا تھا جس کے بعد جب پولیس نے مجرمان کی تلاش کی تو وہ ان کا کھرا اندھڑ قلعہ جا پہنچا جہاں پر پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے بعد قاتل ملزمان فرار ہوگئے تھے پولیس نے آج پھر اندھڑ قلعہ اور اس کی باقیات میں قائم ان کی کمین گاہ کو محاصرہ کر کے کمین گاہ مسمار کر دی اور گرد و نواح میں سرچ آپریشن کر کے اس بات کا یقین کیا کہ کہیں ڈاکوؤں نے کوئی دیگر خفیہ ٹھکانہ قائم نہ کر رکھا ہو۔ اس موقع پر اے ایس پی ڈاکٹر حفیظ الرحمن بگٹی اور ڈی پی او عمر سلامت بھی موقع پر موجود تھے۔ پولیس حملے میں ملوث اندھڑ ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے کے لیے پر عزم ہے اور اس سلسلہ میں تمام تر زرایعے متحرک کر دئیے گئے ہیں اور جلد قاتلوں تک پہنچے کی حکمت عملی بھی تیار کی جا رہی ہے۔

رحیم یارخان: ڈی پی او عمر سلامت شہید ہیڈ کانسٹیبل ممتاز احمد کے بیٹے کو گلے لگا کر دلاسا دے رہے ہیں
رحیم یارخان: اے ایس پی ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی قیادت میں اندھڑ گینگ کی کمیں گاہ مسمار کی جا رہی ہے .

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.