fbpx

میانمار میں انٹرنیٹ بھی بند .احتجاج جاری ، صورتحال مزید خراب ہوگئی

میانمار میں انٹرنیٹ بھی بند . صورتحال مزید خراب ہوگئی

باغی ٹی وی : میانمار میں فوجی اقتدار کے خلاف مظاہروں کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔ اب اس میں بدھ بھکشوؤں کے ساتھ ساتھ نرسیں بھی ملک گیر احتجاج میں شامل ہوگئی ہیں۔ اس وقت میانمار میں انٹرنیٹ بند کردیا گیا ہے . میانمار کے فوجی حکمرانوں نے ملک کے انٹرنیٹ کو بند کردیا ہے کیونکہ ہزاروں افراد پیر کی بغاوت کے خلاف ابھی تک کی سب سے بڑی ریلی میں شامل ہوئے تھے۔

نیٹ ورک بلاک انٹرنیٹ آبزرویٹری کے مانیٹرنگ گروپ نے کہا کہ قریب قریب انٹرنیٹ کی سطح پر رابطے عام ہونے کی وجہ سے رابطے کی سطح کو عام سطح کے 16 فیصد تک لے جا رہے ہیں۔

ینگون کے مرکزی شہر میں ، ہجوم نے "فوجی آمر ، ناکام ، ناکام ، جمہوریت ، جیت ، جیت” کے نعرے لگائے۔

میانمار کے دارالحکومت نیپیداو میں پیر کو فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے میں شریک لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے پانی کی تیز دھار کا استعمال کیا۔ ملک گیر مظاہروں کے تیسرے دن سب سے بڑے شہر ینگون (سابقہ رنگون) میں ہزاروں افراد احتجاج میں شریک تھے۔

فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے کو سن 2007 کے ‘زعفرانی انقلاب‘ کے بعد کا سب سے بڑا مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ فوج نے ایک ہفتہ قبل منتخب رہنما انگ سان سوچی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔میانمار میں فوجی جنتا کے خلاف مظاہروں میں تیزی مظاہروں کا دائرہ پھیل رہا ہے،

خیال رہے کہ یکم فروری کو میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد سے نہ تو صدر اور نہ ہی آنگ سان سوچی کی جانب سے کوئی پیغام سامنے آیا ہے۔

مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف من آنگ ہلینگ کی قیادت میں 11 رکنی کابینہ نے ایک سال کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

فوج نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی۔ ان انتخابات میں آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے بھاری اکثریت حاصل کی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.