این اے 245 کا ضمنی انتخاب،جی ڈی اے نے فاروق ستار کی حمایت کا اعلان کر دیا

0
39

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) اور ایم کیو ایم بحالی کمیٹی نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے قبل انتخابی اتحاد کرلیا جبکہ جی ڈی اے نے این اے 245 پر ہونے والی ضمنی انتخاب میں ڈاکٹر فاروق ستار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے فنکشنل لیگ ہاؤس کراچی میں جی ڈی اے کے سیکرٹری اطلاعات سردار عبدالرحیم، سید محمد اسماعیل شاہ راشدی، ایم پی اے حسنین مرزا سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی۔

بعد ازاں پریس کانفرنس کے دوران جی ڈی اے کے سیکرٹری اطلاعات سردار عبدالرحیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنی شکست کو دیکھتے ہوئے بلدیاتی انتخابات سے فرار چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم بحالی کمیٹی سے جی ڈی اے کا بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اتحاد ہوا ہے، ایک دوسرے کے سامنے امیدوار کھڑے نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ این اے 245 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں ڈاکٹر فاروق ستار سے بہتر کوئی امیدوار نہیں لہٰذا جی ڈی اے انہیں بھرپور سپورٹ کرے گی۔اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 15 سالوں سے حکمرانی کرتے ہوئے ایک جماعت نے سندھ کو تباہ کردیا ہے،سندھ کی عوام کو مزید تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے جسے ناکام بنادیں گے۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کےکنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ دوبارہ مردم شماری میں ہمیں ٹھیک نہ گِنا گیا تو سڑکوں پر آکے خود کو گِنوائیں گے، اس ضمنی الیکشن میں ڈنڈی ماری گئی تو ڈنڈے لے کر نکلیں گے۔کراچی کے علاقے جمشید روڈ پر این اے 245 کے مرکزی الیکشن آفس کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ اس ضمنی الیکشن میں ڈنڈی ماری گئی تو ڈنڈے لے کر نکلیں گے، غیرجمہوری طاقتوں کی خواہش ہےکہ کراچی کا مینڈیٹ تقسیم رہے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ شہرمیں جعلی نظریات کی بنیاد پرووٹ تقسیم ہوا، ہمارا ووٹ بینک چرایا گیا، ہم پر غلط نتیجے تھوپے گئے، اس لیے عوام سیاسی نظام سے غیر متعلق ہو رہے ہیں، ووٹ کی عزت کو عوام اپنے ہاتھوں سے بچائیں۔ان کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ پی ٹی آئی ناکام ہوگیا، تحریک انصاف آئندہ اقتدار میں آئے تو ایم کیوایم کے بغیر حکومت بنائے۔

تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ان کا کہنا تھا کہ کوئی مقدس گائے نہیں سب کے ساتھ یکساں سلوک کیاجائے، ایسانہیں ہوسکتا کہ کچھ لوگوں کو ہر غلط کام کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔

Leave a reply