fbpx

این اے 249 میں آ ج کس کی جیت،کس کی ہار ہو گی!

آج 29 اپریل ہے اور ایک اور حکومتی خالی سیٹ پر اپ سیٹ کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی کے فیصل واڈا کے سینیٹر بننے کے بعد خالی ہونے والی این اے 249 کی سیٹ حکومتی عدم توجہی کے باعث اپنے ہی ہاتھوں سے جاتے دکھائی دینے لگی ہے ۔
فیصل واڈا نے مضبوط ترین حریف شہباز شریف کو ہراکر یہ سیٹ جیتی تھی، مگر ہر الیکشن سے قبل کیے جانے والے وعدوں کی طرح اس بار تبدیلی سرکار نے پرانا سیاسی رویے برقرار رکھتے ہوئے، ڈھائی سال لارے لپوں میں گزار دیئے ، جس کا خمیازہ عوام نے پھیکی تبدیلی کے بعد اب توبہ کر لی ہے ۔ اب کی بار عوام کا رویہ اور ارادہ دوبارہ اور نئی تبدیلی کا لگ رہا ہے ۔

فیصل واڈا نے الیکشن 2018 سے پہلے ڈیرے حلقے میں ڈال کر ووٹر کو رام کیا مگر جیتنے کے بعد حلقے کی عوام کو دوربین میں بھی دکھائی نہیں دیئے، جس کا خمیازہ پی ٹی آئی لیڈرز و ورکرز کو ری الیکشن میں عوامی طنز و تیز سوالات اور مطالبات کی پورا نا ہونے پر ہری جھنڈی دکھانے پر پی ٹی آئی صوبہ لیڈر شپ کافی پریشان دکھائی دے رہی ہے ۔
جب کہ دوسری جانب پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال اپنی پوری توجہ، اور کمک کے ساتھ میدان میں موجود ہیں،، چونکہ پی ایس پی ابھی تک کوئی الیکشن نہیں جیتی مگر سیاسی پنڈت اس بار کی بہترین الیکشن کمپین کے بعد پی ایس پی بھی مقابلے کی دوڑ میں گن رہے ہیں ۔

سال سے سندھ پر حکمران پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی شہر سے کیے وعدے ادھورے رہنے پر یہاں خاص توجہ سمیٹتے دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ حالانکہ ان کے پاس ایک برادری عزم کا مضبوط امیدوار وکیل قادر مندوخیل کی موجودگی کسی طور بہتری کی گنجائش پیدا کرتی ہے ۔
اسی مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل نے ایک الگ تھلگ الیکشن کمپین کے ذریعے عوام کی توجہ اور سابقہ بہترین رنراپ والی پوزیشن کو ابھی تک برقرار رکھا ہے ۔لیکن یہاں تمام پارٹیوں کی بھرپور تیاریوں اور کارنر میٹنگز کے باوجود ٹی ایل پی ایک سرپرائز نظر آنے لگی ہے ۔ گزشتہ الیکشن کی طرح اس بار بھی ملک کی ابھرتی پارٹی این اے 249 کے مدمقابل کو اپنی موجودگی کا احساس دلا چکی ہے،، لیڈران نے رات گئے دیر اپنے تمام کارکنوں کو حلقہ این اے 249 میں پہچنے کا حکم دے دیا ہے،، جس سے مقابلہ مزید سخت سے سخت طرہونے کی امید ہے ۔حکومت اور تحریک لبیک کے مابین گزشتہ ہونے والے معاملات بھی اس ضمنی الیکشن پر اثرانداز ہونگے ۔ اسی تناظر میں پی ٹی آئی کے ایم این اے ڈاکٙر عامر لیاقت بھی ضمنی الیکشن میں اپنی ہار کا پیشگی اظہار کرتے نظر آئے ہیں۔۔ اسی طرح خرم شیر زمان بھی کارکنان سے شکوہ کنا دکھائی دیے۔۔ اس مجموعی صورتحال میں یہ سیٹ برسراقتدار پارٹی کے ہاتھ دوبارہ آتے دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.