نامور ادیب، صحافی ڈاکٹر انورسدید کا یوم پیدائش

0
97

نامور ادیب، صحافی ڈاکٹر انورسدید 04 دسمبر 1928ء کو ضلع سرگودھاکے دور افتادہ قصبہ مہانی میں پید اہوئےابتدائی تعلیم سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان کے عام اسکولوں میں حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا مزید تعلیم کےلیےاسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے ان کا اصلی نام محمد انوارالدین تھا-

ان کا رجحان ادب کی طرف تھا لیکن والدین سائنس کی تعلیم دلا کر انجینئر بنانا چاہتے تھے۔ اس دور میں اسلامیہ کالج لاہور میں تحریک پاکستان کی سرگرمیاں زور پکڑ چکی تھیں، انور سدید بھی ان میں شرکت کرنے لگے اور ایف ایس سی کا امتحان نہ دیا۔ اس وقت ان کے افسانے رسالہ بیسوی صدی، نیرنگ خیال اور ہمایوں میں چھپنے لگے تھے۔ عملی زندگی کی ابتدا محکمہ آبپاشی میں لوئر گریڈ کلرک سے کی۔ بعد ازاں گورنمنٹ انجینئرنگ سکول رسول(منڈی بہائو الدین) میں داخل ہو گئے۔

اگست1948ء میں اول آنے اور طلائی تمغہ پانے کے بعد اری گیشن ڈپارٹمنٹ میں سب انجینئر کی ملازمت پر فائز ہو گئے۔ یہاں انھوں نے ناآسودگی محسوس کی تو دوبارہ تعلیم کی طرف راغب ہوئے اور ایف اے، بی اے اور ایم اے کے امتحان پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے دئیے۔ ایم سے فرسٹ کلاس حاصل کی اور خارجہ طلبہ میں ریکارڈ قائم کیا۔

انور سدیدنے’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے نگراں راہ نما وزیر آغا تھے۔ پنجاب یونیورسٹی نے ڈاکٹر سید عبداللہ اور ڈاکٹر شمس الحسن صدیقی کو ان کا ممتحن مقرر کیا۔ دونوں نے ان کے مقالے کو نظیر قرار دیا جو آئندہ طلبہ کو راہنمائی فراہم کر سکتا تھا۔ ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘ کےاب تک نو اڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس دوران انور سدید نے انجینئرنگ کا امتحان اے ایم آئی، انسٹی ٹیوٹ آف انجینئر ڈھاکا سے پاس کیا۔

محکمہ آبپاشی پنجاب سے ایگز یکٹو انجینئر کے عہدے سے 60 برس کی عمر پوری ہونے پر دسمبر 1988ء میں ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ ماہنامہ ’’قومی ڈائجسٹ ‘‘ہفت روزہ’’زندگی‘‘ روزنامہ ’’خبریں‘‘ لاہور میں چند سال کام کرنے کے بعد وہ ملک کے نظریاتی اخبار’’نوائے وقت‘‘ کے ادارے میں شامل ہوگئے۔

اس ادارے سے انھوں نے’’دوسری ریٹائرمنٹ‘‘جولائی2003ء میں حاصل کی لیکن مجید نظامی چیف ایڈیٹر’’نوائے وقت ‘‘ نے انھیں ریٹائر کرنے کی بجائے گھر پر کام کرنے کی اجازت دے دی ۔ ’’نوائے وقت‘‘ کے ساتھ سلسلہ آخر دم تک قائم رہا۔ تنقید، انشائیہ نگاری، شاعری اور کالم نگاری ان کے اظہار کی چند اہم اصناف ہیں۔

ڈاکٹر انور سدید نے اپنے بچپن میں ہی ادب کو زندگی کی ایک بامعنی سرگرمی کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ ابتدا بچوں کے رسائل میں کہانیاں لکھنے سے کی، افسانے کی طرف آئے تو اس دور کے ممتاز ادبی رسالہ’’ہمایوں‘‘ میں چھپنے لگے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے’’اوراق‘‘ جاری کیا تو انھیں تنقید لکھنے کی ترغیب دی اور اپنے مطالعے کو کام میں لانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے رسالہ’’اردو زبان‘‘ سرگودھا کے پس پردہ مدیر کی خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے ساتھ’’اوراق‘‘ کے معاون مدیر کی حیثیت میں بھی کام کیا۔

روزنامہ ’’جسارت‘‘، روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘، ’’مشرق‘‘، ’’حریت‘‘، ’’امروز‘‘، ’’ زندگی‘‘، ’’قومی زبان‘‘اور ’’خبریں ‘‘ میں ان کے کالم متعدد ناموں اور عنوانات سے چھپتے رہے۔ ’’دی اسٹیٹسمن‘‘اور ’’دی پاکستان ٹائمز‘‘میں انگریزی میں ادبی کالم لکھے۔ انھیں تعلیمی زندگی میں تین طلائی تمغے عطا کیے گئے۔ ادبی کتابوں میں سے ’’اقبال کے کلاسیکی نقوش‘‘، ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘اور ’’اردو میں حج ناموں کی روایت‘‘پر ایوارڈ مل چکے ہیں۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے انھیں بہترین کالم نگار کا اے پی این ایس ایوارڈ عطا کیا۔ 2009 میں ادبی خدمات پر صدر پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا-

جناب انور سدید نے 88 کتابیں تصنیف و تالیف کی ہیں، چند کتابوں کے نام حسب ذیل ہیں:
۔ (1)فکرو خیال
۔ (2)اختلافات
۔ (3)کھردرے مضامین
۔ (4)اردو افسانے کی کروٹیں
۔ (5)موضوعات
۔ (6)بر سبیل تنقید
۔ (7)شمع اردو کا سفر
۔ (8)نئے ادبی جائزے
۔ (9)میر انیس کی اقلم سخن
۔ (10)محترم چہرے
۔ (11)اردو ادب کی تحریکیں
۔ (12)اردو ادب کی مختصر تاریخ
۔ (13)پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ
۔ (14)اردو ادب میں سفر نامہ
۔ (15)اردو ادب میں انشائیہ
۔ (16)اقبال کے کلاسیکی نقوش
۔ (17)اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش
۔ (18)؟
۔ (19)غالب کے نئے خطوط
۔ (20)دلاور فگاریاں
۔ (21)قلم کے لوگ
۔ (22)ادیبان رفتہ
۔ (23)آسمان میں پتنگیں
۔ (24)دلی دور نہیں
۔ (25)ادب کہانی 1996ء
۔ (26)ادب کہانی 1997ء
۔ (27)اردو افسانہ: عہد بہ عہد
۔ (28)میر انیس کی قلمرو
۔ (29)وزیر آغا ایک مطالعہ
۔ (30)مولانا صلاح الدین احمد، فن اور شخصیت
۔ (31)حکیم عنایت اللہ سہروردی، حالات و آثار
۔ (32)جدید اردو نظم کے ارباب اربعہ
۔ (33)کچھ وقت کتابوں کے ساتھ
۔ (34)مزید ادبی جائزے
ڈاکٹر انور سدید کی چند کتابوں مثلاً ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘، ’’اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش‘‘،’’ اردو ادب میں سفر نامہ‘‘،’’ پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ‘‘، ’’اردو ادب میں انشائیہ‘‘ کو موضوع کے اعتبار سے اولین تصنیف ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

انور سدید ان دنوں ’’نوائے وقت‘‘ سنڈے میگزین میں کتابوں پر تبصرے بھی لکھتے رہے ہیں۔ 2003ء میں انہوں نے ایک سال میں 225کتابوں پر تبصرے لکھ کر ریکارڈ قائم کیا تھا۔

انور سدید کے فن اور شخصیت پر پروفیسر سید سجاد نقوی نے ایک کتاب’’گرم دم جستجو‘‘ شائع کی ہے۔ رسالہ ’’اوراق‘‘، ’’تخلیق‘‘، ’’ارتکاز‘‘، ’’جدید ادب‘‘، ’’کوہسارجرنل‘‘، ’’ چہارسو‘‘ اور ’’روشنائی‘‘ میں ان پر گوشے چھپ چکے ہیں۔

ڈاکٹر انور سدید کی بیشتر کتابیں کالج اور یونیورسٹی طلبا کے علاوہ اعلیٰ ملازمین کے مقابلے کے امتحانوں میں شریک ہونے والوں کی معاونت کرتی ہیں اور کئی یونیورسٹیوں کے اردو نصاب میں شامل ہیں۔

وہ ڈاکٹر وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی کو اپنا محسن تصور کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ان دونوں نے انہیں ہمیشہ متحرک رکھا ہے۔

چند منتخب اشعار

شکوہ کیا زمانے کا تو اس نے یہ کہا
جس حال میں ہو زندہ رہو اور خوش رہو

بس ایک ہی ریلے میں ڈوبے تھے مکاں سارے
انور کا وہیں گھر تھا بہتا تھا جہاں پانی

کھلی زبان تو ظرف ان کا ہو گیا ظاہر
ہزار بھید چھپا رکھے تھے خموشی میں

دم وصال تری آنچ اس طرح آئی
کہ جیسے آگ سلگنے گلابوں میں

Leave a reply