fbpx

نشے کا بڑھتا رجحان. تحریر: سحر عارف

اسلام بہت خوبصورت دین ہے جس نے انسان کو حلال اور حرام چیزوں سے باخوبی آگاہ کیا ہے اور اسلام نے حرام اور حلال چیزوں کے حوالے سے کچھ حدود رکھی ہیں اور بتایا ہے کہ حرام چیزوں سے بچا جائے یہ انسان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کردیتی ہیں۔ حرام چیزوں کے استعمال سے انسان نہ دنیا کا رہتا ہے نہ آخرت کا رہتا یے۔ ٹھیک اسی طرح نشہ بھی حرام ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کو مدہوش کردے، اسے اس کے رب سے دور کردے، جو انسان کے دماغ کو ماؤف کردے اور اس کے پورے جسم میں نشہ پیدا کردے جس کی وجہ سے وہ اپنے رشتے اور معاشرے کو بھول جائے اور انقصان پہنچائے حرام ہے۔ اور آج پوری دنیا میں نشہ عام چیز ہوگیا ہے۔ جہاں پوری دنیا نشے کی لت میں جکڑ چکی ہے وہیں یہ لعنت پاکستان کی نوجوان نسل کو تباہ و برباد کررہی ہے۔ افسوس کے ایک اسلامی ملک جس کا تو دین یہ کہتا ہے کہ نشہ حرام ہے وہاں اس حرام چیز کی مقدار اور اس کے چاہنے والے اور اس سے اثرانداز ہونے والے افراد کی تعداد میں روز کے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پہلے تو منشیات فروش اپنا کام کچھ مختص کیے گئے مقامات پر کرتے تھے پر اب تو یہ غلیظ دھندہ سرعام ہورہا ہے اور یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس ملک کے ادارے اور وہ تمام لوگ کہاں سو رہے ہیں جن پر منشیات کی روک تھام حکومت پاکستان کی طرف سے فرض کی گئ ہے؟ پاکستان میں سب سے زیادہ نشے سے اس ملک کی نوجوان نسل برباد ہورہی ہے۔ کسی بھی ملک کے نوجوان اس ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں اور آج افسوس ہے کہ اس ملک کا اثاثہ بربادی کی طرف گامزن ہوتا چلا جارہا ہے۔ نوجوانوں میں نشہ کرنے کے کئ طریقے سامنے آئے ہیں جن میں سگریٹ، شراب، آیوڈکس، گٹکا، نشہ آور دوائیں اور ہیروئن وغیرہ شامل ہیں اور ان میں سب سے زیادہ تعداد سرنج سے نشہ کرنے والے افراد کی ہے اور اس طریقے سے نشہ کرنے کی وجہ سے ایچ آئی وی ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق ایسے نشے سے متاثر افراد ایک دوسرے کی سرنجیں استعمال کرتے ہیں جس وجہ سے وہ ان بیماریوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔

جہاں نشہ معاشرے کو اپنی جکڑ میں لے رہا ہے وہاں پہ تعلیمی ادارے بھی خاصے متاثر ہوئے ہیں۔ وہ ادارے جن کو تعلیم کے حصول کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ نوجوان وہاں سے پڑھ لکھ کر ملک کی ترقی میں اپنا حصّہ ڈال سکیں اب وہ بھی منشیات فروشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے الیکٹرونک میڈیا پہ اس حوالے سے کافی ہلچل مچی ہوئی ہے کہ اب تعلیم اداروں میں کچھ طالب علم اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر منشیات کی خریدوفروخت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے ڈی ڈبلیو کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھتے ہوئے بتایا کہ ” میں نے آئس نامی نشہ آور مادے کا استعمال کافی کیا اور اس وجہ سے اپنی تعلیم کے دو سال بھی ضائع کردیے، پہلے میں صرف دوستوں کے ساتھ مل کر تفریح کے لیے اس کا استعمال کرتا تھا پر پھر مجھے اس سے سکون ملنے لگا۔ اس نشے سے میرے دل و دماغ کو بہت زیادہ سکون اور عجیب و غریب سرور ملتا تھا تو مجھے اس کی عادت ہوگئی، عادت اتنی بڑھی کے اس کہ میرے لیے اس کے بغیر رہنا ناممکن ہوگیا اس کو حاصل کرنے کے لیے میں گھر میں چوریاں کرنے لگا بار بار ایسا کرنے پر ایک بار میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تو والدین کو اس ساری صورتحال کا علم ہوا اور پھر انھوں نے مجھے ایک ایسے مرکز میں داخل کروایا جہاں نشے سے متاثر افراد کا علاج کیا جاتا ہے اور اب میں کافی حد تک اپنی پرانی زندگی میں واپس آگیا ہوں”۔ سن 2015 میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو منشیات کے حوالے سے یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ پاکستان میں کل 70 لاکھ سے زائد افراد نشہ آور ادویات کے عادی ہیں جن میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں۔ منشیات فروش ملک کے دشمن ہیں جو منشیات کی مدد سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نشے سے متاثر افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کی کچھ اور اہم وجوہات بھی ہیں جن میں سب سے پہلے تو ہمارے ان اداروں کی غفلت ہے جو منشیات کی روک تھام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ پھر کچھ حصّہ ملک میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری کا بھی ہے۔ جب ملک میں بےروزگاری بڑھتی ہے اور نوجوانوں کو کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ملتا تو پھر وہ منشیات فروشوں کے شکنجے میں آجاتے اور ان کے ساتھ مل کر اس کام میں اپنا حصّہ ڈالتے ہیں اور پھر وہ افراد جو زندگی کے ان مشکل حالات سے گھبرا جاتے ہیں اور ہار مان لیتے ہیں، طرح طرح کی ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں تو وہ سکون کی تلاش کے لیے نشے کا استعمال شروع کرنے لگتے ہیں۔ بحیثیت انسان ہمیں چاہیے کہ ہم اس غیر قانونی اور حرام چیز کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کی روک تھام میں حکومت کا ساتھ دیں اور ایسے لوگوں کا سہارا بنتے ہوئے ان کا بھی ساتھ دیں جو نشے کی وجہ سے اپنی زندگیاں برباد کر کے ہیں تاکہ وہ واپس اپنی پہلے والی زندگیوں میں آنے کی کوشش کریں اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ نوکریوں کا اہتمام کرے تاکہ پڑھے لکھے نوجوان اس سے مستفید ہوسکیں اور نشے جیسی لعنت سے بچ سکیں اور پاکستان کی آنے والی نسلیں ایک صاف و شفاف اور ابھرتا ہوا ملک دیکھیں جو نشے کی لعنت اور منشیات فروشوں کے ناپاک وجودں سے پاک ہو۔