ورلڈ ہیڈر ایڈ

قومی اسمبلی میں‌ 7022 ارب روپے کا بجٹ پیش، گھی، چینی، تیل اورمشروبات سمیت بیشتراشیاء مہنگی

تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے مالی سال 2019-20 کے پیش کردہ بجٹ کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو کہ گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد بتایا جارہا ہے۔ حالیہ بجٹ میں‌ چینی، تیل، گھی، سی این جی، مشروبات، سگریٹ، خشک دودھ اور دیگر کی اشیاء مہنگی کر دی گئی ہیں جبکہ اس دوران بتایا گیا کہ حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے گئے ہیں. بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے. اکتیس لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں. تجارتی خسارہ 22 ارب ڈالرہے، ہم ماہانہ گردشی قرضہ 38ارب روپےسے کم کرکے26ارب روپےتک لے آئے ہیں.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت ہونے والے بجٹ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود تھے. اس موقع پر وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہرنے بجٹ پیش کیا جبکہ اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی جس سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا. اپوزیشن اراکین کی طرف سے گونیازی گو کے نعرے بھی لگائے گئے. حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا . بہت سے کمرشل قرضہ جات زیادہ شرح سود پر لیے گئے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو آگے لانے کا وقت ہے۔ پاکستان کا مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں جن میں سے 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات تھے۔ پچھلے ادوار میں بعض کمرشل قرضے زیادہ سود پر لیے گئے۔ گزشتہ دو سال کے دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب سے کم ہو کر 10 ارب ڈالر سے کم رہ گئے۔ عالمی سطح پر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر 20 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ بجٹ 20۔2019 کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو کہ گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد ہے. اسی طرح ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 555 ارب روپے رکھا گیا ہے. جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا تناسب 12 اعشاریہ 6 فیصد ہے. مالی خسارے کا تخمینہ 3 ہزار 137 ارب روپے ہے. حماد اظہر نے کہا کہ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا جس پر 38 ارب روپے ماہانہ سود ادا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم درآمدات کو 49ارب ڈالر سے کم کرکے45ارب ڈالر تک لے آئے ہیں. ایسٹس ڈکلیئریشن اسکیم پرعمل جاری ہے. انہوں نے کہاکہ احتساب کے نظام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کیلیے اقدامات کیے گئے ہیں. بجٹ میں‌بتیا گیا ہے کہ کولڈڈرنکس پرڈیوٹی 11.5سےبڑھاکر 13 فیصد جب کہ مشروبات پر ڈیوٹی 11.25سے بڑھا کر 14فیصد کردی گئی، چینی پرسیلزٹیکس 8سےبڑھاکر 13 فیصدکردیاگیا جس سے چینی کی قیمت ساڑھے 3 روپےفی کلوبڑھےگی، خوردنی تیل اور گھی پر بھی 14فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، سونے، چاندی، ہیرے کے زیورات پرسیلزٹیکس بڑھانےکافیصلہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں سنگ مرمر کی صنعت پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے، سیمی پراسس اورپکے ہوئے چکن،مٹن، بیف اورمچھلی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

حماد اظہر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہماری حکومت آئی تو مالیاتی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، مجموعی قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے، ہم نے تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم کیا اور اب بجلی کے گردشی قرضوں میں12 ارب روپے کی کمی آئی ہے. بجٹ میں ایک ہزار ایک سی سی سے 2 ہزار سی سی تک گاڑیوں پر پانچ فیصد جب کہ 2 ہزار سی سی سے زائد کی گاڑی پر ڈیوٹی ساڑھے سات فیصد عائد کی گئی ہے۔ بجٹ اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے کم ازکم تنخواہ 17 ہزار 500 مقرر کرتے ہوئے بتایا کہ اضافہ 2017 سے جاری تنخواہ پر ہوگا۔ بجٹ میں تنخواہ دار اورغیر تنخواہ دارافراد کے لیے ٹیکس شرح میں اضافہ اور تنخواہ دار ملازمین کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کی حد 12لاکھ سے کم کرکے 6 لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جب کہ غیر تنخواہ دار انفرادی ٹیکس دہندگان کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کہ حد کم کرکے چار لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، غیر تنخواہ دار طبقے کو سالانہ چار لاکھ آمدن پر ٹیکس دینا ہو گا۔

قومی اسمبلی میں‌ پیش کردہ بجٹ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ دفاعی اخراجات ، سروسز پر 1152 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، سول اورعسکری حکام نےبجٹ میں مثالی کمی کی. باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران ملک کے عسکری بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریرکے دوران بتایا کہ پاکستان کے فوجی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا اور یہ گزشتہ سال کے 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی بجٹ کے حوالے سے وہ وزیر اعظم عمران خان اور عسکری قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی خود مختاری ہر شے پر مقدم ہے. حکومت یہ بات یقینی بنائے گی کہ پاک فوج کی صلاحیت میں کمی نہ آئے۔ بجٹ تقریر کے مطابق قومی ترقیاتی پروگرام کیلیے1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جب کہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 894 ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، بیرونی ذرائع سے حاصل ہونیوالی وصولیوں کا ہدف 1828 ارب 80کروڑ روپے جب کہ نجکاری پروگرام سے 150ارب روپے حاصل ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس طرح کل دستیاب وسائل کا تخمینہ 7036ارب 30 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔

بجٹ اجلاس میں کی گئی تقریر میں کہا گیا کہ کراچی کے ترقیاتی بجٹ کے لیے45.5ارب روپے رکھے جارہے ہیں، جب کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے 10.4ارب روپے رکھے جارہے ہیں. سکھر ،ملتان سیکشن کے لیے 19ارب روپے مختص کیے گئے ہیں. توانائی کے لیے 80ارب روپے اور انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ اسی طرح‌بتایا گیا کہ آبی وسائل کیلیے70 ارب روپے مختص کیے جارہےہیں،غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 6192ارب 90 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، پنشن کی مد میں اخراجات کا تخمینہ 421ارب روپے رکھا گیا ہے،سود کی ادائیگیوں کے لیے2891ارب 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں اور آیندہ سال کے دوران سبسڈی کیلیے271ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر کا کہنا تھاکہ حکومت نے بجلی چوری کے خلاف منظم مہم شروع کر رکھی ہے، بجلی اور گیس کے لیے 40ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے جب کہ گیس کا گردشی قرضہ 150ارب روپے ہےاور اگلے 24ماہ میں گردشی قرضوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

حماد اظہر کی جانب سے بجٹ اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی کابینہ کی گریڈ 1 تا16سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافےکی منظوری دے دی ہے. اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے. باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق گریڈ 21 اور 22 کے ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا. وفاقی کابینہ کی گریڈ 17 تا 20 سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے.

بجٹ اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گریڈ 21 اور 22 کے ملاز مین کی تنخواہوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں انہوں نے کہاکہ وفاقی کابینہ کی گریڈ 1 تا 16سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافےکی منظوری دی گئی ہے جبکہ گریڈ 17 سے 20 تک پانچ فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی ہے. اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے. ان کا کہنا تھا کہ گریڈ 21 اور 22 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا کیونکہ انہوں نے وطن عزیز پاکستان کی معاشی صورتحال کے پیش نظر تنخواہوں میں‌ اضافہ نہ کئے جانے کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے.

واضح رہے کہ وزیر مملکت برائے ریو نیو حماد اظہر کی قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی کی گئی اور ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا. اس دوران اپوزیشن ممبران گو عمران گو، مک گیا تیرا شو نیازی اور گو نیازی گو کے نعرے لگاتے رہے.وزیر مملکت کے خطاب کے موقع پر اپوزیشن کے شورشرابا پر کان پڑی آواز سنائی نہیں‌ دے رہی تھی. حماد اظہر کے تقریر کا آغاز کرتے ہوئی اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور احتجاجی نعرے بازی شروع کردی. اپوزیشن ارکان بجٹ تقریر کے دوران شور شرابا کرتے ہوئے سپیکر ڈائس کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے جس پر حکومتی ارکان اپنی نشستوں سے اٹھے اور وزیر اعظم کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ بد مزگی سے بچا جا سکے ۔

بعض اپوزیشن اراکین نے بازوؤں‌ پر سیاہ پٹیاں بھی باندھ رکھی تھیں اور ہاتھوں میں‌ پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے. اپوزیشن اراکین نے بجٹ کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں تاہم اس شور شرابا او رہنگامہ آرائی کے دوران وزیر مملکت حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا اور کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں‌ ہوئے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.