انگلینڈ نے نیوزی لینڈ سے فتح چھین لی، ورلڈ کپ جیت کر نئی تاریخ رقم کر دی

ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں نیوزی لینڈ اورانگلینڈ کا میچ برابر ہونے پر سپر اوور کھیلا گیا. ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہار جیت کے فیصلہ کیلئے سپر اوور کھیلنا پڑا. میچ برابر ہونے پر سپر اوور میں پہلے انگلینڈ نے بیٹنگ کی اور سپر اوور میں‌ 15 سکور بنائے. یوں‌ انگلینڈ‌ نے نیوزی لینڈ کو ایک اوور میں فتح کیلئے 16 رنز کا ٹارگٹ‌ دیا. نیوزی لینڈ کی طرف سے سپر اوور بٹلر نے کیا.

باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق نیوزی لینڈ‌ کی ٹیم نے بعد میں سپر اوور کھیلتے ہوئے پندرہ سکور بنائے. یوں‌ دونوں نے سپر اوور میں ایک جیسا سکور کیا تاہم انگلینڈ کی باؤنڈریز زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے ورلڈ‌کپ کا فاتح قرار دیا گیا. بین سٹوکس مین آف دی میچ قرار دیے گئے.

قبل ازیں‌ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کی ٹیم کو 242 رنز کا ہدف دیا تاہم انگلینڈ کی ٹیم بڑی مشکل سے یہ میچ برابر کرنے میں‌ کامیاب رہی جس پر میچ کے فیصلہ کیلئے سپر اوور کھیلا گیا، ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بارٹائٹل کا فیصلہ سپر اوور میں ہوا ،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میچ کے دوران انگلینڈ کی ٹیم کو ابتدائی طور پر ہی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب 86 سکور پر اس کی چار وکٹیں‌ گر گئیں‌ تاہم بعد میں انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے اچھی بیٹنگ کی اور اپنی ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی تاہم اس دوران جب انگلینڈ کی ٹیم کی پوزیشن کچھ بہتر ہوئی تو انگلینڈ کے کھلاڑی جوزیٹیلر 59 رنز بنا کر آؤٹ‌ ہو گئے جس کے بعد انگلینڈ کی ٹیم ایک بار پھر مشکل کا شکار ہو گئی. انگلینڈ کے چھٹے کھلاڑی کرس ووکس صرف دو سکور بنا سکے. ساتویں‌اور آٹھویں‌ کھلاڑی بھی جلد آؤٹ ہو گئے. انگلینڈ کو آخری گیند پر دو رنز درکار تھے تاہم میچ کی آخری گیند پر انگلینڈ کا آخری کھلاڑی دوسرا رن بنانے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گیا. نیوزی لینڈ کی طرف سے فرگوسن نے بہت اچھی باؤلنگ کی اور پچاس رنز دے کر تین کھلاڑیوں‌ کو آؤٹ کیا.

میچ میں‌ نیوزی لینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے انگلینڈ کو 242 سکور کا ٹارگٹ دیا . نیوزی لینڈ نے پچاس اوور کھیلتے ہوئے 241 رنز بنائے ہیں‌ اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے. نیوزی لینڈ کی بیٹنگ آج سست رہی، اوپنر گپٹل آج اپنے بیٹ کا جادو دکھانے میں ناکام رہے، مارٹن گپٹل اور ہنری نکولس نے انگلینڈ کے خلاف اننگز کا آغاز کیا لیکن گپٹل ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئے اور 19 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ گپٹل کے آؤٹ ہونے کے بعد نکولس اور راس ٹیلر محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے لیکن بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے. ہینری نکولس 55،کین ولیمسن 30،مارٹن گپٹل نے 19رنزبنائے، راس ٹیلر 15اورجیمزنیشم 19رنزبناکرآؤٹ ہوئے، ٹام لیتھم 47،گرینڈہوم نے 16رنزکی اننگزکھیلی، انگلینڈ کی جانب سے پلنکٹ اور ووکس نے 3 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا, ووڈ اور آرچر نے 1 1 وکٹ حاصل کی.

ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم اور میزبان انگلینڈ نے چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا، انگلش ٹیم 1992 کے بعد اب جاکے ستائیس برس بعد فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی ۔ ادھر نیوزی لینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 2015 کے ورلڈ کپ فائنل میں کیویز کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ دونوں ٹیمیں پہلی بار میگا ایونٹ میں تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں آمنے سامنے ہیں جبکہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں ٹیمیں ابھی تک کوئی ورلڈ کپ نہیں جیت سکی ہیں ۔

دوہزار گیارہ اور 2015 کے ورلڈ کپ میں میزبان ٹیموں نے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں بھارت اور 2015 میں آسٹریلیا ورلڈ چیمپیئن بنا۔ ایک بار پھر ایسا موقع آیا ہے کہ میزبان انگلینڈ کی ٹیم اپنی سرزمین پر فائنل کھیل رہی ہے۔ ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظردہرائی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم پانچ بار عالمی چیمپئن رہ چکی ۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت نے 2،2 مرتبہ ورلڈ کپ جیتا۔ پاکستان اور سری لنکا نے ایک ، ایک مرتبہ ورلڈ چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.