میرے بھائی ہم صحافی ہیں۔۔ہمارے پروفیشن کے مطابق ہم سائیڈز نہیں لے سکتے۔ہمیں نیوٹرل ہو کر رہنا پڑتا ہے ورنہ آپ اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ خیانت کرتے ہیں۔

دیکھئے ہم کیریئر ڈپلومیٹ ہیں اور ہمارا کام ہے کہ ریاست ہمیں جو چیز کہے ہم اس کے لئے لوبنگ کریں اور ان مفادات کو حاصل کریں۔ ہم خود سے یہ تعین نہیں کر سکتے کہ کیا چیز ہمارے ملک کے لیے اچھی یا بری ہے۔۔۔ ہم وہ کریں گے جو ہمیں ریاست کہے گی۔ یہی پروفیشنلزم ہے۔

دیکھیں میں ایک پروفیشنل سولجر ہوں۔میرا یہ کام نہیں ہے کہ اس بات کا تعین کرو کہ کون سا آپریشن صحیح ہے یا غلط۔ ہمیں قیادت جو حکم دیتی ہے بطور پروفیشنل فوجی میرا کام ہے اس پر عمل کرنا۔ صحیح ہے یا غلط پالیسی۔۔ اچھا یا برا کام۔۔۔ یہ تعین کرنا قیادت کا کام ہے۔

دیکھیں میں ایک پروفیشنل وکیل ہوں۔۔۔میرا کام موکل کا دفاع کرنا ہے۔ اور میرے انکل ایک پروفیشنل جج ہیں۔ ان کا کام موجودہ قانون اور اس کے اصولوں کے مطابق مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے ۔۔۔وہ قانون سخت ہے یا نرم۔۔ اسلامی ہے یا غیر اسلامی۔۔۔ یہ دیکھنا ان کا کام نہیں ہے۔ بطور پروفیشنل، ان کا کام قانون جو بھی ہے اس کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔

اوکے اوکے اوکے!
او۔۔۔۔کے!
او۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے!!!!!

تو جناب میرے آپ سے کچھ سوال ہے!!!

کہ آپ کے لیے شریعت کا قانون زیادہ معتبر ہے یا آپ کا پروفیشنل کوڈ آف ایتھکس اور پروفیشن کے قوانین؟

آپ اللہ کو سب سے پہلے بطور مسلمان جواب دینگے یا بطور صحافی؟

آپ کو اللہ نے اپنے بندے کی حیثیت میں پیدا کیا ہے یا صحافی کی حیثیت میں؟

آپ بطور مسلمان اسلام کے وکیل پہلے نہیں ہیں؟

آپ کا کام اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ نہیں ہے؟

آپ کا کام امر بالمعروف ونہی عن المنکر نہیں ہے؟

کیوں کیا آپ اسلام سے کوئی بالاتر کسی پوزیشن پر کھڑے ہیں؟

بطور صحافی نیوٹرل ہونے کا دعوی کرنا خود ایک آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہے۔ جو مغربی ماڈل کی پوزیشن ہے۔ کیا مغرب کا ہر صحافی جمہوریت، لبرل رائٹس، ہیومن رائٹس کو نیوٹرل پوزیشن نہیں سمجھتا؟ آپ کی نظر میں عورت کو کیا حق ملنا چاہئے؟ آپ کا جو بھی جواب ہوگا یہ ایک آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہوگی۔۔۔ تو نیوٹرل بھلا کیسے کوئی ہو سکتا ہے؟ اور کیا آپ ملک کے مفادات کو بھی نیوٹرل ہونے کے نام پر اگنور کر دیں گے، جس چیز کو بھی بے شک آپ ملک کا مفاد سمجھیں؟

اگر آپ کیریئر ڈپلومیٹ ہیں۔۔ تو آپ جانتے بوجھتے کشمیر پر سودا بازی کی حکومتی ہدایات کو بیک ڈور ڈپلومیسی سے کیوں پرفارم کریں گے۔ جبکہ آپ کو یہ معلوم ہو کہ یہ امریکی ہدایت پر کیا جا رہا ہے۔ اور یہ براہ راست ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ کیوں کیا آپ کا پروفیشن ملک یا اسلام سے پہلے ہے؟ اگر آپ ملازم ہیں اور آپ کی قیادت آپ کو ان آپریشنز کا حکم دیں جس کے لیے وہ امریکہ سے ڈالر وصول کر رہے ہو اور آپ اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ امریکی پالیسی ہے تو اس کے لئے آپ اپنے لوگوں کو کیسے تاراج کر سکتے ہیں؟ کیا آپ اللہ کو جواب دہ نہیں ہے؟ اللہ سبحان تعالی نے قرآن میں پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ اللہ اس عذر کو قبول نہیں کرے گا کہ آپ اپنے بڑوں کی اطاعت کر رہے تھے۔

اور آپ ایک پروفیشنل جج ہیں تو کیا آپ قرآن کے اس حکم سے مبرا ہے جس میں کہا گیا کہ جو کوئی اس چیز سے فیصلے نہ کرے جو اللہ نے نازل کر دیا ہے تو وہ ظالم ہیں وہ فاسق ہے اور وہ کافر ہے۔

تو یہ نیوٹرل ہونا ایک ڈھکوسلہ ہے جسکو مغرب نے ڈیزائن کیا ہے اور یہ بنیادی طور پر مغربی آئیڈیالوجیکل پوزیشن ہے جس کو آپ نیوٹرل نیوٹرل کا راگ الاپ کر اپنائے ہوئے ہیں۔
‎@humerafs

Shares: