fbpx

آن لائن کاروبار کا ایک جائزہ تحریر: محمد عمران خان

Twitter Handle: @ImranBloch786

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آن لائن کاروبار کرنے کا ٹرینڈ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نوجوان مرد و عورتیں آن لائن کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ آن لائن کام ایک تو ماحول دوست اور وقت کے حساب سے پے پانا والا کام ہے دوسرا اس میں تھوڑا کام کرکے اچھا خاصا پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔ 

ویسے تو آن لائن پیسے کمانے کے بہت سارے طریقے ہیں مگر جو آج کل زیادہ معروف اور مقبول ہیں ان میں یوٹیوب، بلاگر، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا منیجمنٹ، لیڈ جنریشن، ویب سائٹ ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ورچوئل اسسٹنٹ، ڈیٹا انٹری وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا کی چند بڑی ویب سائٹس جن میں اپ ورک، فائیور، بینگ گرو، پیپل پر آور وغیرہ شامل ہیں۔ ان ویب سائٹس پر کروڑوں کی تعداد میں فری لانسرز موجود ہیں جو لاکھوں اور کروڑوں روپے ماہانہ کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

آج کل ای کامرس بھی بہت تیزی سے مقبول ہورہا ہے جس میں اپنی چیزوں کی آن لائن تشہیر کرکے کے بیچنے کے بعد اچھا منافع کمایا جاسکتا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں لوگ تیزی سے آن لائن شاپنگ کی طرف مبذول ہو رہے ہیں۔ تھوڑا سا تجربہ حاصل کرکے ای کامرس سے اچھی دولت کمائی جاسکتی ہے۔ 

اسی طرح سوشل میڈیا مارکیٹنگ بھی تیزی سے مقبولیت حاصل کرتی جارہی ہے۔ لوگ سوش میڈیا پر اپنی پراڈکٹس کی تشہیر کرکے اور ان کو پروموٹ کرکے لاکھوں روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں۔

سوشل میڈیا منیجمنٹ بھی پیسے کمانے کا ایک آسان اور بہترین طریقہ ہے۔ اس میں فری لانسر کو اپنے کلائنٹ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اپڈیٹ رکھنا ہوتا ہے۔ کلائنٹ کی ہدایات کے مطابق اس کے اکاؤنٹس پر چیزیں شیئر کرنی ہوتی ہیں۔ یہ بھی پیسے کمانے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔

بلاگنگ کرکے بھی بہت بھاری مقدار میں پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔ لوگ مختلف قسم کے بلاگ بنا کر مختلف آرٹیکلز اپلوڈ کرتے ہیں جو قارئین کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ جتنے زیادہ لوگ بلاگ پر آتے ہیں اتنے زیادہ پیسے گوگل بلاگر کو دیتا ہے۔

یوٹیوب بھی پیسے کمانے کا ایک آسان اور معروف طریقہ ہے۔ کروڑوں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے یوٹیوب چینلز بنارکھے ہیں جس پر مختلف قسم کی ویڈیوز اپلوڈ کرنے کے بعد جتنے زیادہ ویوز اتنے زیادہ پیسے کی بنیاد پر کمائی کررہے ہیں۔

گرافک ڈیزائننگ بھی آن لائن پیسے کمانے کے لیے ایک معروف ترین سکل ہے۔ بینر ڈیزائننگ، لوگو ڈیزائننگ، ویکٹر ڈیزائننگ، اشتہار بنانا، بک کور، شرٹ ڈیزائننگ سمیت اور بھی کئی قسم کی ڈیزائننگ شامل ہے۔ کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گرافک ڈیزائننگ سے لاکھوں روپے ماہانہ تک کما رہے ہیں۔ 

ویب سائٹ ڈویلپمنٹ بھی ایک شاندار ہنر ہے جو بہت زیادہ پیسے دلوانے والا کام ہے۔ آج کل کسٹم تھیمز اور ٹولز مفت مل جاتے ہیں جس سے ویں سائٹ بنانا اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ ویب سائٹ ڈویلپمنٹ کا ایک پروجیکٹ 1 لاکھ سے زائد تک کا بھی ہوسکتا ہے۔

ان کاموں کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات ذہن میں گونجتی ہے کہ کیا یہ کام ہر بندہ کرسکتا ہے؟ اس کا جوب نہیں میں ہے کیونکہ یہ کام کرنے کے لیے آپ کو کوئی کمپیوٹر ریلیٹڈ ہنر آنا چاہیے۔ آپ کو اپنے کلائنٹ یا کسٹمر کے ساتھ گفتگو کرنے کا طریقہ اور انداز معلوم ہونا چاہیے۔ اپنے کام سے لگن اور محنت ہی انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔ 

لہٰذا حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں کی ٹیکنیکل ٹریننگ کے لیے اقدامات کرے۔ تاکہ بیروزگاری کی چکی میں پستے نوجوان فری لانسنگ اور آن لائن کام کرکے پیسے کما کر سرمایہ ملک میں لائیں۔ جس سے معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور نوجوان بھی خوشحال ہوں گے۔ جب نوجوان خوشحال اور معیشت مضبوط ہوگی تو پاکستان کو کوئی بھی طاقت ترقی کرنے سے نہیں روک سکے گی۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!