ورلڈ ہیڈر ایڈ

پیسے کا دور۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ جویریہ چوہدری

"پیسے کا دور۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟”
پڑوس سے ایک آنٹی آئیں کہ بیٹا دو ہزار روپے چاہئیں۔۔۔میری تنخواہ مل نہیں رہی۔۔۔۔جونہی تنخواہ ملتی واپس کر جاؤں گی،
رمضان کا مہینہ ہے تو ضرورت پڑ جاتے۔۔۔۔۔
میں نے پکڑاتے ہوئے تسلی دلائی کہ آپ بے فکر رہیں،
آسانی سےہو گئے تو ٹھیک، نہیں تو کوئی ضرورت نہیں واپسی کی۔۔۔
صرف دو سو روپے ہوں گے آپ کے پاس۔۔۔۔۔بیٹے نے کام پر جانا تھا،تو کرائے کے لیئے چاہیئے تھے۔۔۔۔۔دوسری آنٹی آئیں۔۔۔۔ !!!!

آج کا دور واقعی پیسے کا دور ہے۔۔۔۔
میں نے امی جی سے مجلس سجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔!!!!!
کیونکہ امی جی آج تو ہر چیز پیسے کی ہو گئی ہے۔۔۔۔تعلیم،صحت،خوشی،غمی۔۔۔ چند قدم تک جانا ہو تو پیسے کے ساتھ۔۔۔
بچوں کو تعلیم دلانے کا خواب سجے تو لاکھوں کی فیسیں ایڈوانس بینک میں موجود ہوں تب۔۔۔۔
صحت کی بات آئے تو ہزاروں جیب میں موجود ہوں تب کسی ڈاکٹر کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔۔۔۔
خوشی کا موقع آئے تو ہوٹلوں کے اخراجات لاکھوں میں۔۔۔۔
ملبوسات،زیورات اور جہیز کی مد میں کروڑوں کو چھوتے بِل۔۔۔
غمی کا لمحہ آئے تو پہلی فکر مہمانوں کو ڈیل کرنے کی،،،
ان کی چائے،پانی کے بندوبست کی۔۔۔۔
ہر فنکشن کے لیئے نیا جوڑا۔۔۔۔
ہر ملاقات کے لیئے الگ سوٹ۔۔۔۔
ہر روز نئی ڈشز،اور اخراجات۔۔۔
بچوں کے روزانہ کے الگ حساب۔۔۔
واقعی ماں جی یہ دور پیسے کا آ گیا ہے ناں۔۔۔
اس کے بغیر تو اب اک قدم بھی چلنا مشکل ہو گیا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟
صحیح کہا تم نے۔۔۔۔
اب تو رشتہ داریاں بھی پیسے کے بل بوتے پر ہی ہیں۔۔۔۔
جس کے پاس دولت ہے اس سے سب کے تعلقات۔۔۔۔اور جس کا ہاتھ ذرا تنگ اس سے ایک گھر کے بندے بھی اجنبی اجنبی۔۔۔۔
مائیں،بہنیں بھی اس بیٹے،بھائی کے ساتھ رہتی اور چلتی ہیں جو زرا عیش کرا دے۔۔۔۔!!!!!
لیکن ماں دیکھیں ناں پہلے وقتوں میں بھی لوگ گزارا کرتے تھے ناں؟
تو کیسے ہو جاتا تھا۔۔۔؟؟؟؟؟
بیٹی!!!!
تب لوگ کپڑوں کے اندر رہتے تھے۔۔۔۔پھٹ کر باہر نکلنے کے عادی نہ تھے۔۔۔
عاجزی و شکر کے پیکر تھے۔۔۔
ہزاروں ایکڑ زمینیں رکھنے کے باوجود بطور فصل ہونے والی دال پر گزارا کر لیتے تھے۔۔۔۔
بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھا لیتے تھے کہ جس نے پڑھنا ہے وہ جہاں بھی جائے پڑھ لے گا۔۔۔۔اس کے لیئے پرائیوٹ ادارے یا بھاری فیس سٹیٹس نہ تھی۔۔۔
سبزی روزانہ لانے کا رواج ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔دال پہ دل نہ کرتا تو دیسی مرغ ذبح کر کے بھون لیتے۔۔۔۔مٹن لے آتے تھے یا پھر گھر میں ہی موجود بکری کا چھوٹا موٹا بچہ ذبح کر لیا جاتا تھا۔۔۔۔
دن میں دہی،لسی کا استعمال کرتے تھے اور صحتمند و توانا رہتے تھے۔۔۔۔
لباس عزت والا پہنتے تھے۔۔۔۔سادہ زیب تن کرتے تھے
اور ہر فنکشن پر پیسے پھونکنے کا رواج کوئی نہیں تھا بلکہ ایک ہی سوٹ سے کئی تقریبات اٹینڈ ہوتی تھیں۔۔۔
بڑے بڑے سرداروں کے گھر بھی ہر وقت پیسہ ہی پیسہ کی کوئی رٹ نہ ہوتی تھی۔۔۔۔
اور بمشکل چند روپے ہی گھر میں موجود ہوتے تھے۔۔۔۔!!!!!!
خوشی،غمی کے مواقع مل جل کر ڈیل کیئے جاتے تھے اور ایک دوسرے کی مالی معاونت بھی کر دی جاتی تھی،
کسی کے مہمانوں کو سنبھال لیا جاتا۔۔۔۔کسی کے لیئے کھانے کی ذمہ داری اٹھا لی جاتی تھی۔۔۔!!!!!
بیماریاں تھیں ہی بہت کم کہ لوگوں کو اسپتالوں کا رخ کرنے کی نوبت ہی کم آتی تھی۔۔۔۔
اور گھر کے ہر ہر فرد کے لیئے الگ الگ مہنگے ڈاکٹروں کے علاج کی رسم ایجاد نہ ہوئی تھی۔۔۔
بلڈ پریشر تھے،نہ شوگر کی پریشانی،
آلودگی کے مسائل تھے نہ ڈپریشن کے عارضے۔۔۔۔

خاندانی نظام مضبوط تھا،
سب کی عزت سانجھی تھی۔۔۔۔
ایک کا دکھ سب کا دکھ تھا
اور ایک کی پریشانی سب کی پریشانی ہوتی تھی۔۔۔۔۔
ایک دوسرے کے پیچھے قربانی کا جذبہ موجود تھا۔۔۔۔
بچوں کو گھر پر ہی مائیں خالص خوراک کھلا پلا دیتی تھیں،
جو ان کے توانا،مضبوط،قد بڑھنے میں معاون ثابت ہوتی تھی،
آج کی طرح پیسے کے بل بوتے پر،برگر،پیزا اور جنک فوڈز کے کاروبار نے ترقی نہیں پکڑی تھی،،،
اور بچوں کی کم عمری میں ہی صحت کو سنجیدہ خطرات لاحق نہیں ہوتے تھے۔۔۔۔!!!!!
بچے کس کو پیارے نہیں ہوتے مگر ان کی تربیت کا تقاضا ہوتا تھا کہ
ہزاروں کے ڈریسز لے کر پھر انہیں ایک ہی بار پہن کر الماریوں کی زینت بنا دینے کا رواج نہیں تھا۔۔۔بلکہ ایسے اچھے لباس تو شاذ و نادر ہی تیار ہوتے تھے۔۔۔
اور ایک بار لے کر پھر کئی کئی مواقع پر وہی زیب تن کیۓ جاتےتھے۔۔۔۔۔بڑے بھی اسی اصول پر چلتے تھے۔۔۔
تکلف،بناوٹ،ریا نہیں تھا۔۔۔۔!!!!
مجھے یاد آئی کہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی وہ بات یاد آگئی کہ جو انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے کہی تھی کہ:
"جو چادریں میں نے لپیٹ رکھی ہیں،مجھے انہی میں کفنانا۔۔۔۔۔کیونکہ نئی چادریں زندہ مسلمانوں کا حق ہیں”۔۔۔۔رضی اللّٰہ عنہ۔۔۔
آج ہم نے اپنی پریشانیاں خود تخلیق کر لی ہیں۔۔۔۔

میں سوچ میں ڈوبتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔
واقعی ماں وہ دور تو بہت اچھا تھا پھر۔۔۔۔!!!!!!
سکون،آشتی والا۔۔۔۔۔حسد بغض سے دور،
سادگی اور اخلاص والا۔۔۔!!!
آج اگر امیر امیر ترین ہے،
تو غریب،غریب تر واحساس کمتری میں مبتلا۔۔۔۔
عدم توازن کا شکار زندگیاں ہیں۔۔۔
اور ہر شئے کی فراوانی کے باوجود جزو بدن بننے سے انکاری۔۔۔!!!!
ہم آج خالص غذا سے محروم ہیں،
کھادوں والی خوراک،لذت و ذائقہ سے خالی،،،
مہنگائی کے جن نے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔۔۔
بجٹ میں توازن آنے کا نام نہیں لیتا۔۔۔۔ایک کام نمٹاؤ،دوسرا تیار۔۔۔

واقعی ماں جی۔۔۔
یہ سچ ہے اب آپ صرف سبزی،فروٹ کی مد میں مہینہ کے ہزاروں روپے خرچ کر دیتی ہیں،
اور دال کا پکنا ہمیں پسند نہیں ہوتا،
لیکن سچ پوچھیں تو روٹی تو اسی دن مزے سے کھائی جاتی ہے۔۔۔۔جس دن آپ اپنے خاص طریقہ سے دال بنا کر دیتی ہیں۔۔۔میں نے مزاح کرتے ہوئے کہا
ہاں !!!
بچے یہ بھی خوراک کا حصہ ہے اور انسان کو متفرق اشیاء استعمال کرنی چاہئیں۔۔۔۔
لیکن امی جی!
مجھے اکثر سوچ آتی ہے کہ
وہ غریب آدمی جو دن کا بمشکل پانچ سو روپیہ کما لائے تو اس سے کیا کیا ضرورت پوری ہوتی ہو گی۔۔۔۔؟؟؟؟
بجلی،گیس کے اخراجات،
آسمان کو چھوتی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں۔۔۔۔
سبزی فروٹ کے استعمال کی خواہش،،،
مکانوں کےکرائے،
گاڑی کا کرایہ،
گھر میں بچوں کی معصوم فرمائشیں یا چھوٹی چھوٹی چیزوں پر قیمت کے برابر لگے ٹیکسوں کی ادائیگی۔۔۔۔؟؟؟
بچوں کے تعلیمی اخراجات یا والدین کی بیماریوں کا علاج۔۔۔۔؟
اور نفسا نفسی کے عالم میں یہ جنگ ہر کوئی خود ہی لڑ رہا ہے۔۔۔۔
اور دل تو ہر ایک کا ہوتا ہے ناں۔۔۔؟؟؟؟

ہم تو اڑوس پڑوس سے بھی بے خبر رہتے ہیں۔۔۔
مصروف دور ہے ناں۔۔۔۔
پیسے کا دور ہے۔۔۔۔۔
اپنے کاموں سے ہی فرصت کہاں؟

میرے پاس سب اپنا ہے،
کوئی ضرورت نہیں کسی کی۔۔۔
مجھے بھلا کیا تَک ہے کسی کی؟؟؟
یہ ہوتے ہیں وہ الفاظ جو ہمارا تکیہ کلام ہوتے ہیں اکثر۔۔۔
ہم بے حسی کے دور میں جی رہے ہیں ناں۔۔۔۔۔
بے سکونی کے دور میں۔۔۔۔
پیسے کے دور میں۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
بس یہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے ناں؟
ہمارے پاس دولت کی کمی نہیں ہے،،،
ہاں ہم نے دولت کے خرچ کا فن تاحال نہیں سیکھا،،،
یہی وجہ ہے کہ نیچے سے اوپر تک کرائسز کا رونا ہماری فطرت میں شامل ہو گیا ہے۔۔۔۔
اور بہتری کی امید پر ہی ہمارے روز و شب گزر رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟
کئی سالوں سے۔۔۔۔۔
عشروں سے۔۔۔۔
نصف سے زائد صدی سے۔۔۔۔
مگر مرض بڑھتا گیا،جوں جوں دوا کی والی صورت حال سے دوچار و نبرد آزما رہتے ہیں۔۔۔۔
کیا واقعی آج کا دور پیسے کا دور ہے؟
کیا پیسے کے بغیر اک پل بھی جینا ناممکن ہے۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کیا ہمارے آباء و اجداد ہم سے بھلے چنگے باعزت وقت گزار کر نہیں گئے۔۔۔۔؟؟؟
اس سب پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔
قوم کے نوجوانوں کے لیئے باعزت روزگار کے حصول کو آسان و یقینی بنانا بھی۔۔۔۔
کہ اپنے ہاتھ سے کمائے گئے چند لقمے سب سے بہترین کمائی ہے۔۔۔۔!!!!!
یہی وجہ ہے کہ آج ہماری ڈگریوں کا مقصد بھی صرف آگے نکل کر کچھ کما لینے کے سوا کچھ نہیں رہا۔۔۔۔؟؟؟؟
سوسائٹی کے ضرورت مندوں کا خیال واحساس سب سے اول ذمہ داری ہے۔۔۔۔۔
کہ یہ دور تو بلاشبہ پیسے کا ہے۔۔۔اور اس کے بغیر اک قدم بھی چلنا مشکل ہے ناں۔۔۔۔؟؟؟؟
اورسہولیات و آسانیوں کی فراہمی ہی اس کے بخار کے ٹمپریچر کو کم کر سکتی ہے۔۔۔!!!!
کیونکہ ہمارے کچھ انداز بدل گئے ہیں۔۔۔کچھ کردار۔۔۔۔۔؟
اور منزل کے حصول کے لیئے ان دونوں کی اصلاح ازحد ضروری ہے۔۔۔ہم جس قدر زیادہ کے چکر میں گھومتے رہتے ہیں۔۔۔۔
ہم سے آگے بٹورنے والے ہم سے بھی زیادہ مستعد نظر آئیں گے۔۔۔ !!!
ہم نےاس سوچ کوبھی پروان چڑھانا ہے کہ ہر کام کے لیئے پیسہ ہی نہیں چاہیئے ہوتا۔۔۔۔بلکہ کردار،ٹیلنٹ ، فن،سکون اور اخلاقیات بھی اس دنیا کی رونقوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔۔۔۔ہر وقت پیسہ کے فوبیا میں ہی مبتلا ہو کر ہم حقائق سے بہت دور تو نہیں نکلتے جا رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.