fbpx

پاکستان نے انڈس واٹر کمیشن کا اجلاس اکتوبر میں بلانے کا مطالبہ کردیا

پاکستان نے انڈس واٹر کميشن کا اجلاس اکتوبر میں بلانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

پاکستانی حکام نے انڈس واٹر کميشن کا اجلاس اکتوبر میں بلانے کا مطالبہ کردیا ہے، اور اس حوالے سے انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ نے اپنے بھارتی ہم منصب کو خط لکھ ديا ہے۔ اس سے قبل پاک بھارت انڈس واٹر کميشن کا گزشتہ اجلاس مئی ميں ہوا تھا، جس میں بھارت نے پاکستان کو آبی اعداد و شمارکی فراہمی پر آمادگی ظاہر کی تھی ، اور پاکل دل سمیت دیگر متنازع منصوبوں کے دورے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔

بھارت کی طرف سے ہونے والی خلاف ورزی

مئی میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی اور دریائے چناب پر 540 میگاواٹ کا کوار ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا. تاہم پاکستان نے بھارتی سرکار کے اعلان پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، اور بھارت کو متنازع منصوبہ شروع کرنے کے اعلان پر خط بھی لکھا تھا کہ یہ ایک متنازع علاقہ ہے لہذا یہاں پر ایسے کیسے ممکن کہ بھارتی سرکار اس طرح کے اعلانات کرے.

واضح رہے اس معاملے پر انڈس واٹر کمیشن کی جانب سے بھارت سے کوار ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تفصیلات طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ انڈس واٹر کمیشن کے مطابق پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر بنائے جانے والے منصوبوں پر اعتراض ہے۔ لہذا بھارتی حکام اس بارے تفصیلات سے آگاہ کریں.

خیال رہے کہ مودی سرکار دریائے سندھ پر بھی غیرقانونی آبی منصوبے شروع کرنےکی منظوری دے چکی ہے۔ بھارت کی جانب سے آبی منصوبے تعمیر کرنے سے پاکستانی دریاؤں میں پانی کا بہاؤ کم ہوگا۔ جبکہ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت پاکستانی دریاؤں پر نیا پراجیکٹ شروع کرنے سے 6 ماہ قبل انڈس واٹر کمیشن کو آگاہ کرنے کا پابند ہے۔